30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
واجبات، سُنن، مُسْتَحَبّات سے پڑھنا۔ نماز پڑھنا کمال نہیں بلکہ نماز قائم کرنا اور اس کی حِفاظت کرنا کمال ہے۔ صُوفِیا کے مسلک میں نماز کی حِفاظت یہ ہے کہ ایسے گناہوں سے بچے جن سے نیکی برباد ہوجاتی ہے۔ مال کمانا بھی اچھا، اسے کما کر پھر اسے سنبھالنا بہت اچھا ہے۔ اللہ توفیق دے کہ مَرتے وقت تک نماز روزہ حج وغیرہ کو سنبھالیں۔ خیریت سے یہ مَتاع (اَثاثہ) منزل ِمقصود پر پہنچے۔
(تفسیر نور العرفان،ص411)
(3)وِراثت ملکیت کا اعلیٰ ذریعہ ہے جو نہ فسخ ہوسکے نہ باطل ہوسکے نہ ٹُوٹ سکے۔
(تفسیر نور العرفان، ص411)
(4)کفر سے عقل بھی ماری جاتی ہے کیونکہ مُشرکین درختوں، پتھروں وغیرہ کو خدا مان لیتے تھے مگر انسان کو نبی ماننے میں تامل(یعنی حیلے بہانے) کرتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ نبوت کا بوجھ انسان جیسی کمزور مخلوق نہیں اٹھا سکتی۔
(تفسیر نور العرفان،ص413)
(5)اگر گناہوں کے باوجود دُنیاوی نعمتیں مِلتی ہوں تو خدا کا عذاب ہے، جیسے نیکیوں کے باوجود کبھی دُنیاوی تکالیف کا آجانا رب کی خاص رحمت ہے۔ انبیائے کرام یا اولیاءُاللہ پر مَصائِب آتے رہتے ہیں۔
(تفسیر نور العرفان،ص415)
(6)حلال اور پاکیزہ غذا حاصل کرنا بڑی عبادت ہے، اس سے عبادات میں لَذّت آتی ہے۔
(تفسیر نور العرفان،ص415)
(7) تقویٰ کے معنیٰ یہ نہیں کہ اچھے لذیذ کھانے چھوڑ دیئے جائیں بلکہ حرام کاموں سے بچنا تقویٰ ہے۔
(تفسیر نور العرفان،ص415)
(8)مومن کا جتنا درجہ بلند ہوتا ہے، اُتنا ہی خوف زیادہ۔
(تفسیر نور العرفان،ص415)
(9)خوفِ قیامت انسان کو نیک بناتا ہے۔ قیامت سے بے خوفی تمام گناہوں کی جَڑ ہے۔
(تفسیر نور العرفان، ص417)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع