30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سورۂ فرقان کا تعارف
مقامِ نزول:
سورہ ٔفرقان مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔(1)
آیات اور رکوع کی تعداد:
اس سورت میں 6 رکوع اور 77آیتیں ہیں۔
’’فرقان ‘‘نام رکھنے کی وجہ:
ا س سورت کی پہلی آیت میں لفظ’’ اَلْفُرْقَان ‘‘ مذکور ہے، اس مناسبت سے ا س سورت کا نام ’’سورۂ فرقان‘‘ رکھا گیا ہے۔
سورۂ فرقان کے مضامین:
ا س سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ ا س میں اللّٰہ تعالیٰ نے توحید، نبوت اور قیامت کے احوال کے بارے میں بیان فرمایا، نیز اس میں یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں۔
(1) اس سورت کی ابتداء میں اللّٰہ تعالیٰ کی تعریف و ثنا،اس کی عظمت و شان، اولاد اور شریک سے رب تعالیٰ کے پاک ہونے کو بیان کیا گیا۔
(2) بتوں کے مجبور اور بے بس ہونے کو واضح کیاگیا۔
(3) قرآنِ پاک پر اور نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر کفار کے اعتراضات ذکر کر کے ان کا رَد کیاگیا۔
(4) قیامت کے دن کو جھٹلانے والے کافروں کی ہولناک سزا بیان کی گئی۔
(5) مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے،کفار کے اعمال ضائع جانے اور شرک کرنے کی وجہ سے ان کے نادم ہونے کو بیان کیاگیا۔
(6) نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تسلی کے لئے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی قوم، حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام کی قوم،عاد،ثمود، اَصحابُ الرَّس اور حضرت لوط عَلَیْہِ السَّلَام کی قوم کے واقعات بیان کئے گئے کہ ان لوگوں نے بھی اپنے انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام کو بہت ستایا اور اذیتیں دیں،انہیں جھٹلایا اور ان کی نافرمانیاں کیں اس لئے آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی قوم کے کفار کے جھٹلانے سے غمزدہ نہ ہوں یہ کفار کا پُرانا دستور ہے۔
(7) اللّٰہ تعالیٰ کی مختلف مصنوعات سے اس کی وحدانیت اور قدرت پر دلائل قائم کئے گئے۔
(8) اللّٰہ تعالیٰ پر تَوَکُّل کرنے والے اور اس کی راہ میں تکلیفیں برداشت کرنے والے مؤمنین کی تعریف بیان کی گئی اور یہ بتایا گیا ہے کہ جھٹلانے والوں پر عنقریب عذاب نازل ہو گا۔
سورۂ شعراء کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ شعراء آخری چار آیتوں کے علاوہ مکیہ ہے،وہ چار آیتیں’’وَالشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُھُم ‘‘
سے شروع ہوتی ہیں۔(2)
آیات اور رکوع کی تعداد:
اس سورت میں 11رکوع اور 227 آیتیں ہیں۔
’’شعراء ‘‘ نام رکھنے کی وجہ:
شعراء، شاعر کی جمع ہے جس کا معنی واضح ہے۔ اس سورت کی آیت نمبر224سے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خلاف شاعری کرنے والے مشرکین کی مذمت بیان کی گئی ہے، اس مناسبت سے اس سورت کا نام ’’سورۂ شعراء‘‘ رکھاگیا۔
سورۂ شعراء کی فضیلت:
حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ عَنْہ سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ نے مجھے تورات کی جگہ (قرآن پاک کی ابتدائی) سات( لمبی) سورتیں عطا کیں اور انجیل کی جگہ راء ات (یعنی وہ سورتیں) عطا کیں (جن کے شروع میں لفظ ’’ ر ‘‘ موجود ہے) اور زبور کی جگہ طواسین (یعنی وہ سورتیں جن کے شروع میں ’’ طٰسٓمّٓ ‘‘ ہے) اور حوامیم (یعنی وہ سورتیں جن کے شروع میں حٰمٓ ہے) کے مابین سورتیں عطا فرمائیں اور مجھے حوامیم اور مُفَصَّل سورتوں کے ذریعے (ان انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام پر) فضیلت دی گئی اور مجھ سے پہلے ان سورتوں کو کسی نبی نے نہیں پڑھا۔(3)
سورۂ شُعراء کے مَضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ ا س میں اللہ تعالیٰ کے واحد و یکتا ہونے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اللہ تعالیٰ کا نبی اور رسول ہونے،موت کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور اسلام کے دیگر عقائد کو دلائل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، نیز ا س سورت میں یہ چیزیں بیان کی گئی ہیں:
(1) اس سورت کی ابتداء میں قرآن پاک کی عظمت و شان اور ہدایت کے معاملے میں اس کا ہدف بیان کیا گیا۔
(2) نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر قرآنِ پاک وحی کی صورت میں نازل ہونے کو ثابت کیا گیا اور کفارِ مکہ کے رسولِ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رسالت پر ایمان لانے سے اِعراض کرنے پر آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو تسلی دی گئی۔
(3) نباتات کی تخلیق سے اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی وحدانیت پر اِستدلال کیا گیا۔
(4) سیّد المرسلین صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو جھٹلانے والے کفار کو نصیحت کرنے کے لئے پچھلے انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ السَّلَام اور ان کی امتوں کے واقعات بیان کئے گئے اور اس سلسلے میں سب سے پہلے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا واقعہ بیان کیا گیا اور اس واقعے میں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے معجزات، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے بارے میں فرعون اور اس کی قوم کے ساتھ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا ہونے والامُکالمہ،روشن نشانیوں کے ساتھ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی تائید و مدد کئے جانے اور جادوگروں کے ایمان لانے کو ذکر کیاگیا۔اس کے بعد حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کا وہ وا قعہ بیان کیا گیا جس میں انہوں نے اپنے عُرفی باپ آزر اور اپنی قوم کا بتوں کی پوجا کرنے کے معاملے میں رد کیا اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت و یکتائی کو ثابت کیا۔اس کے بعد حضرت نوح،حضرت ہود،حضرت صالح، حضرت لوط اور حضرت شعیب عَلَیْہِمُ السَّلَام کے واقعات بیان کئے گئے اور انہی واقعات کے ضِمن میں رسولوں کو جھٹلانے والوں کا عبرتناک انجام بیان کیاگیا۔
(5) نیک اعمال کرنے والے مسلمانوں کو جنت کی بشارت دی گئی اور آخرت کا انکار کرنے والے کافروں کو برے عذاب کی وعید سنائی گئی۔
(6) اس بات کو ثابت کیا گیا کہ قرآن مجید شیطانوں کا کلام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا کلام اور ا س کی وحی ہے اورنبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کوئی شاعر یا کاہن نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے عظیم رسول ہیں جو اس کے احکام اپنے خاندان والوں اور پوری امت تک پہنچاتے ہیں۔
سورۂ نمل کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ نمل مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔(4)
آیات اور رکوع کی تعداد:
اس سورت میں 7 رکوع اور 93 آیتیں ہیں۔
’’نمل ‘‘ نام رکھنے کی وجہ:
نَمْل کا معنی ہے چیونٹی،اور اس سورت کی آیت نمبر 18میں ایک چیونٹی کا واقعہ بیان کیاگیا ہے اس مناسبت سے ا س سورت کا نام ’’سورۂ نمل‘‘ رکھا گیا۔
سورۂ نمل کے مَضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں وہ اُمور بیان کئے گئے ہیں جن کا تقاضا یہ ہے کہ ہر شخص اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے، اسے اپنا رب اور اپنا واحد معبود مان لے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے، مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور حشر ونشر کی تصدیق کرے اور قرآن پاک کو اللہ تعالیٰ کا کلام مانے،مزید اس میں یہ چیزیں بیان کی گئی ہیں:
(1) اس کی ابتداء میں قرآن پاک کے اوصاف بیان کئے گئے،نیک اعمال کرنے والے مسلمانوں کوجنت کی بشارت دی گئی اور آخرت کا انکار کرنے والوں کو آخرت میں سب سے بڑے نقصان اور برے عذاب کی وعید سنائی گئی۔
(2) یہ پانچ واقعات بیان کئے گئے ہیں:
(۱) حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا واقعہ۔
(۲)حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام اورچیونٹی کا واقعہ۔
(۳)حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام اور ملکۂ بلقیس کا واقعہ۔
(۴) حضرت صالح عَلَیْہِ السَّلَام اور ان کی قوم کا واقعہ۔
(۵) حضرت لوط عَلَیْہِ السَّلَام اور ان کی قوم کا واقعہ۔
(3) اللہ تعالیٰ کے وجود اور ا س کی وحدانیت پر دلائل بیان کئے گئے کہ اس نے زمین و آسمان اور بحر وبَر کو پیدا کیا، زمین کے خزانوں سے فائدہ اٹھانے کا انسان کو اِلہام کیا،خشکی اور تری کی اندھیریوں میں انسان کو راہ دکھائی اور اسے کثیر رزق عطا کیا۔
(4)یہ بتایاگیا کہ قیامت کی ہَولناکیاں اچانک آ جائیں گی، نیز اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت اور دن اور رات کے آنے جانے سے اللہ تعالیٰ کی وحدانِیّت پر اِستدلال کیا گیا۔
(5)مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور حشر و نشر کا انکار کرنے والے مشرکین کا رد کیا گیا۔
(6) قیامت کی چند علامات بیان کی گئی جیسے دَآبَّۃُ الْاَرْضْ کا نکلنا،پہاڑوں کا اُڑنا اور صُور میں پھونک ماری جانا وغیرہ۔
(7) قیامت کے دن لوگوں کی دو اَقسام اور ان کی جزاء بیان کی گئی۔
سورۂ قصص کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ قصص چار آیتوں کے علاوہ مکیہ ہے اور وہ چار آیتیں ’’ اَلَّذِیْنَ اٰ تَیْنَا ھُمُ الْکِتَابَ ‘‘سے شروع ہو کر ’’ لَانَبْتَغِی الْجَاھِلِیْن ‘‘ پر ختم ہوتی ہیں اور اس سورت میں ایک آیت ’’ اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ ‘‘ ایسی ہے جو مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ کے درمیان نازل ہوئی۔(5)
آیات اور رکوع کی تعداد:
اس سورت میں 9رکوع اور 88آیتیں ہیں۔
’’قصص ‘‘ نام رکھنے کی وجہ:
قصص کا معنی ہے واقعات اور قصے، اور چونکہ اس سورت میں مختلف قصے جیسے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کا قصہ اور قارون کاقصہ وغیرہابیان کیے گئے ہیں، اسی مناسبت سے اس سورت کانام ’’ سورۃ القَصَصْ ‘‘ رکھا گیاہے۔
سورۂ قصص کے مضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں بیان کئے گئے واقعات کے ضمن میں اسلام کے بنیادی عقائد جیسے توحید و رسالت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کو ثابت کیا گیا ہے اور ا س سورت میں یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں:
(1) حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی ولادت سے لے کر تورات عطا کئے جانے تک کے تمام واقعات تفصیل کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں اور ان واقعات کی ابتداء فرعون کے ان مَظالِم سے کی گئی جو وہ بنی اسرائیل پر ڈھاتا تھا،پھر حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کی ولادت اور فرعون کے گھر میں ان کی پرورش کا واقعہ بیان کیا گیا،پھر قبطی کو قتل کرنے، مصر سےمدین کی طرف ہجرت کرنے،حضرت شعیب عَلَیْہِ السَّلَام کی صاحبزادی سے شادی ہونے اور اس کے بعد کے چند واقعات ذکر کئے گئے۔
(2) کفارِ مکہ کے ا س اعتراض کا جواب دیاگیا کہ جیسے معجزات حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام نے پیش کئے تھے ویسے حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پیش کیوں نہیں کئے۔
(3) پہلے تورات و انجیل پر اور پھر قرآن پاک پر ایمان لانے والوں کی جزاء بیان کی گئی۔
(4) سابقہ امتوں پر آنے والے عذابات سے کفارِ مکہ کو ڈرایا گیا کہ اگر انہوں نے اپنی رَوِش نہ چھوڑی تو ان پر بھی ویسا ہی عذاب آ سکتا ہے۔
(5) قیامت کے دن مشرکین اور ان کے شریکوں کا جو حال ہو گا وہ بیان کیا گیا۔
(6) حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام اور قارون کا واقعہ بیان کیاگیا کہ اس نے کس طرح سرکشی کی اور اس کا کیسا دردناک انجام ہوا۔ان دونوں واقعات میں نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نبوت کی دلیل ہے کیونکہ جب یہ واقعات رونما ہوئے تو اس وقت آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وہاں پر موجود نہیں تھے اور نہ ہی آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کسی شخص سے یہ واقعات سنے تھے۔
سورۂ عنکبوت کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ عنکبوت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔
آیات اور رکوع کی تعداد:
اس سورت میں 7رکوع اور 69آیتیں ہیں۔
’’عنکبوت ‘‘ نام رکھنے کی وجہ:
عربی میں مکڑی کو عنکبوت کہتے ہیں اور اس سور ت کی آیت نمبر41 میں الله عَزَّوَجَلَّ نے شرک کے بطلان پر عنکبوت یعنی مکڑی کی مثال دی ہے اس مناسبت سے اس سورت کانام ’’سورۂ عنکبوت ‘‘ رکھاگیاہے۔
سورۂ عنکبوت کے مضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں توحید ورسالت،مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور اعمال کی جزاء ملنے پر دلائل دئیے گئے ہیں اور مصیبت و آزمائش وغیرہ ہر حال میں ایمان پر ثابت قدم رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔نیز اس سورت میں یہ مضامین بیان کئے گئے ہیں:
(1) اس سورت کی ابتدائی آیات میں بتایا گیا کہ دنیا میں مسلمانوں کو سختیوں اور مصیبتوں کے ذریعے آزمایا جائے گا اوران سے پہلے لوگوں کو بھی آزمایا گیا تھا۔
(2) اپنے نفس کے ساتھ جہاد کرنے کا فائدہ اور ایمان قبول کر کے نیک اعمال کرنے کا صلہ بیان کیا گیا۔
(3) والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے کی حد بیان کی گئی۔
(4) یہ بتایا گیا کہ انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی آزمائش مسلمانوں کے مقابلے میں انتہائی سخت ہوتی ہے اوراسی سلسلے میں الله تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور مسلمانوں کے سامنے حضرت نوح،حضرت ابراہیم، حضرت لوط،حضرت شعیب،حضرت ہود،حضرت صالح، حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون عَلَیْہِمُ السَّلَام کے واقعات بیان فرمائے تاکہ یہ جان جائیں کہ الله تعالیٰ نے انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی مدد فرمائی اور انہیں جھٹلانے والوں کو ہلاک کر دیا۔
(5) انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے واقعات بیان کرنے کے دوران الله تعالیٰ کی قدرت اور وحدانیّت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے پر دلائل دئیے گئے۔
(6) اہلِ کتاب اور مشرکین کے اعتراضات کے جوابات دئیے گئے۔
(7) کفار کے ظلم و ستم کا شکار مسلمانوں کو ہجرت کرنے کی ہدایت دی گئی اور ان کے لئے اجر و ثواب بیان کیا گیا۔
1… خازن،3/365.
2… خازن،3/381.
3… کنز العمال، 1/285، حدیث: 2578.
4… مدارک، ص837.
5… بغوی، 3/372.
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع