30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں سفر کرنے کا ثواب
حضرت ِ سیدناابو اُمَامَہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ رسولِ اکرم، نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا، ’’جس شخص کا چہرہ راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں گرد آلود ہوجائے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے قیامت کے دن جہنم کے دھویں سے امان عطا فرمائے گا اور جس شخص کے قدم راہِ خدا عَزَّ وَجَلَّ میں گرد آلود ہوجائیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے قدموں کو قیامت کے دن جہنم کی آگ سے محفوظ فرما دے گا۔‘‘ (المعجم الکبیر ، رقم ۷۴۸۲ ، ج۸ ، ص ۹۶)
(۱۱)جب کبھی قافلہ کی صورت میں سفر پر جائیں تو مل جل کر ایک ہی جگہ اُتریں ۔ کیونکہ حضرت سیدنا ابوثعلبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ لوگ جب منزل پر اُترتے تو منتشر ہو کرٹھہرتے تھے ۔سرکار مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’تمہارا منتشر ہو کر ٹھہرنا شیطان کی جانب سے ہے۔‘‘اس کے بعد صحابہ کرام علیہم الرضوان جب کبھی کسی منزل پر اترتے تو مل کر ٹھہرتے۔(سنن ابی داؤد ، کتاب الجہاد ، باب مایؤمرمن انضمام العسکر، الحدیث ۲۶۲۸، ج۳، ص۵۸)
(۱۲) دوران سفر اگر کوئی حاجت مندمل جائے تو اس کی حاجت روائی کرنی چاہیے ۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس میں ثواب زیادہ ہوگا کہ بسا اوقات مسافر خو د بھی تو حاجت مند ہوجاتا ہے پھر بھی وہ دوسروں کی مدد کرے گا تو اس کے اجر وثواب کا کون اندازہ کر سکتا ہے ؟ حضرت سیدنا ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے ، ہم ایک سفر میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ تھے کہ ایک آدمی اپنی سواری پر آیا۔ اور دائیں بائیں اسے پھرانے لگا تو مدنی تاجدار حضور سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’ جس کے پاس فالتو سواری ہے تو وہ اسے دیدے جس کے پاس سواری نہیں ہے او رجس کے پاس فالتو زادِراہ ہوتووہ اس کو دیدے جس کے پاس زادِراہ نہیں ہے ۔حتی کہ ہم نے یہ محسوس کیا کہ ہم میں سے کسی کا فالتو مال پر کوئی حق نہیں ہے۔ (سنن ابو داؤد ، کتاب الزکوٰۃ ، باب فی حقوق المال ، ج۲، الحدیث ۱۶۶۳، ص۱۷۵)
(۱۳)جب سیڑھیوں پرچڑھیں یا اونچی جگہ کی طرف چلیں ، یا ہمار ی بس وغیرہ کسی ایسی سڑک سے گزرے جو اونچا ئی کی طر ف جارہی ہوتو ’’اَللّٰہُ اَکْبَرُ‘‘کہنا سنت ہے او رجب سیڑھیوں سے اُتریں یا ڈھلان کی طرف چلیں تو’’سُبْحَانَ اللّٰہِ ‘‘ عَزَّ وَجَلَّ کہنا سنت ہے ۔حضرت سیدنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے، فرمایا : ’’جب ہم بلندی پرچڑھتے تو ’’اَللّٰہُ اَکْبَرُ‘‘کہتے او ر جب پست(ڈھلان والی)جگہ پر اُترتے تو ’’ سُبْحٰنَ اللّٰہِ ‘‘کہتے تھے ۔‘‘(صحیح البخاری ، کتاب الجہاد والسیر ، باب التکبیر اذا علا شرفاً ، الحدیث ۲۹۹۴، ج۲، ص۳۰۷)
(۱۴)مسافر کو چاہیے کہ وہ دعاسے غفلت نہ کرے کہ یہ جب تک سفر میں ہے اس کی دعا ء قبول ہوتی ہے بلکہ جب تک گھر نہیں پہنچتا اس وقت تک دعاء مقبول ہے۔ اسی طرح مظلوم کی دعا اور ماں باپ کی اپنی اولاد کے حق میں دعا ء بھی قبول ہوتی ہے۔حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ سر کار مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’ تین قسم کی دعائیں مستجاب (مقبول)ہیں ۔ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں ۔(۱)مظلوم کی دعائ(۲) مسافر کی دعا ئ(۳) باپ کی اپنے بیٹے کے لئے دعا۔‘‘( جامع الترمذی، کتاب الدعوات، باب ماذکر فی دعوۃ المسافر ، الحدیث ، ۳۴۵۹، ج۵، ص۲۸۰)
(۱۵) منزل پر اُتریں تو وقتاً فوقتاً یہ دعا پڑھیں اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہر نقصان سے بچیں گے ۔دعا یہ ہے :
اَعُوْذُ بِکَلِمَاِت اللّٰہِ التَّآمَّاتِ مِنْ شَرِّمَا خَلَقَ
ترجمہ : اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے کلماتِ تامہ کی پناہ مانگتا ہوں اس کے شر سے جسے اس نے پیدا کیا۔
(کنز العمال ، کتاب السفر ، الفصل الثانی فی آداب السفر، الحدیث ۱۷۵۰۸، ج۶، ص۳۰۱)
(۱۶)جب دشمن کا خوف ہو ۔ سو رۃ’’ لِاِیْلٰف‘‘پڑھ لیں ۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہر بلا ء سے امان ملے گی ۔(الحصن الحصین، کتاب ادعیۃ السفر ، ص۸۰)
(۱۷) جب کسی مشکل میں مدد کی ضرورت پڑے تو حدیث پاک میں ہے اس طرح تین بار پکاریں :
اَعِیْنُوْنِیْ یَا عِبَادَ اللّٰہ
ترجمہ : اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بندو !میری مدد کرو ۔ (الحصن الحصین، کتاب ادعیۃ السفر، ص۸۲)
(۱۸)سفر سے واپسی پر گھر والوں کے لئے کوئی تحفہ لے آئیں کہ یہ سنت ِمبارکہ ہے۔سر کا ر مدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : جب سفر سے کوئی واپس آئے تو گھر والوں کے لئے کچھ نہ کچھ ہدیہ لائے ، اگر چہ اپنی جھولی میں پتھر ہی ڈال لائے۔(کنز العمال ، کتاب السفر ، الفصل الثانی فی آداب السفر ، الحدیث ۱۷۵۰۲، ج۶ ، ص۳۰۱)
(۱۹)سفر سے واپسی پر اپنی مسجد میں دوگانہ(یعنی دورکعت نفل )پڑھنا سنت ہے۔ حضرت سیدنا کعب بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ تا جدار مدینہ حضور سید عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب سفرسے واپس تشریف لاتے تو پہلے مسجد میں تشریف لے جاتے اور وہاں بیٹھنے سے پہلے دو رکعت( نما زنفل )ادا فرماتے ۔
(صحیح البخاری ، کتاب الجہاد، باب الصلوٰۃ اذا قدم من سفر، الحدیث ، ۳۰۸۸، ج۲، ص۳۳۶)
مَدَنی قافلے میں سفر کی ’’72‘‘نیتیں
(از : شیخ طریقت امیرِ اہلِسنت بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی مدظلہ العالی)
فَرما نِ مصطفیصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ’’مسلمان کی نیّت اسکے عَمَل سے بہتر ہے۔‘‘(المعجم الکبیر للطبرانی، حدیث۵۹۴۲ ، ج ۶، ص۱۸۵)
(۱) اصل مقصود یعنی مدنی قافلے میں سفر کروں گا (۲)اپنے ذاتی خرچ پر سفر کروں گا (۳)پلّے سے کھاؤں گا (۴)سواری کی دعا پڑھوں گا(۵)اگر کسی اسلامی بھائی کو جگہ نہیں ملی تو اپنی نشست پر بااصرار بٹھاؤں گا (۶، ۷)کوئی بوڑھا یا بیمار مسلمان نظر آئیگا تو اس کے لئے نشست خالی کردوں گا(۸)مدنی قافلے والوں کی خدمت کروں گا(۹)امیرِ قافلہ کی اطاعت کروں گا(۱۰، ۱۱، ۱۲) زبان، آنکھ اور پیٹ کا قفلِ مدینہ لگاؤں گا یعنی فضول گوئی ، فضول نگاہی سے بچوں گا اور بھوک سے کم کھاؤں گا(۱۳) سفر میں ہرموقع پر مدنی انعامات پر عمل جاری رکھوں گا (۱۴، ۱۵، ۱۶ ) وضو ، نماز اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع