دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sunnat e Nikah - Qist 3 | سنت نکاح تذکرہ امیر اہلسنت۔ قسط 3

book_icon
سنت نکاح تذکرہ امیر اہلسنت۔ قسط 3

اللہ عَزّوَجَلَّ کی  امیرِ اہلِسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                 صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

        میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! اس حکایت میں  اُن دولہا صاحبان کے لئے درس پوشیدہ ہے جو نماز کے پابند ہوتے ہوئے بھی شبِ عروسی میں  شرم و حیاء کی وجہ سے غسل نہیں کرتے اور نماز فجر قضاکردیتے ہیں  ( مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ) حالانکہ ایسا کرنا شرم و حیاء نہیں  بلکہ پرلے درجے کی حماقت اور حرام اور جہنّم میں  لے جانے والا کام ہے۔

امیرِ اہلسنّت کا  وَلیمہ

           اُن دنوں میں  بھی کہ جب ٹیبل کرسیاں  سجا کر بڑے کرّو فر کے ساتھ ولیمے کئے جاتے تھے ، امیرِ اہلسنّت دامت برکا تہم العالیہ کا ولیمہ شب زِفاف کے دوسرے دن سنّت کے مطابق ایسی سادگی کے ساتھ ہوا تھاکہ جس طرح نیاز وغیرہ میں کھلایا جاتا ہے اسی طرح مہمانوں  کو دری پر بٹھا کر تھالوں  میں کھانا پیش کیا گیا۔ کھانے میں صرف اَکْنی چاول( یعنی پلاؤ )اور زردہ تھا۔ مکان کے بیرونی حصّے پر کسی قسم کی مروّجہ سجاوٹ یا برقی قُمقُموں  کی ترکیب نہ تھی ، ٹیپ پر صِر ف نعتیں  چلانے کا سلسلہ تھا۔

صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب !                                 صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

’’ولیمہ سنّت ہے ‘‘کے دس حُروف کی نسبت سے ولیمہ کے 10مدنی پھول

(از : شیخ طریقت امیر اہلسنّت حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ)

          (1) دعوتِ ولیمہ سنّت ہے۔ ولیمہ یہ ہے کہ شبِ زِفاف کی صبح کو اپنے دوست احباب عزیز و اقارب اور مَحَلّے کے لوگوں  کی حسبِ اِستِطاعت ضِیافت کرے ۔

          (2)  ولیمے کے لئے بہت زیادہ بِھیڑ کرنا شرط نہیں  ہے ، دو تین دوست یا رشتہ دار ہوں  توبھی ولیمہ ہو سکتا ہے۔

          (3) اس کے لئے پندرہ قسم کی ڈشیں  بنانے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ،  حسب حیثیت دال چاول یاگوشت وغیرہ جوبھی کھاناآپ پیش کر سکتے ہیں ، پیش کر دیجئے ولیمہ ہوجائے گا۔

          (4) جو لوگ ولیمے میں  بلائے جائیں  ان کو جانا چاہیے کہ ان کا جانا دولہا اور اس کے گھر والوں  کے لیے مُسرَّت کا باعث ہوگا۔

          (5) دعوتِ ولیمہ کا یہ حکم جو بیان کیا گیا ہے ، اُس وقت ہے کہ دعوت کرنے والوں  کا مقصود ادائے سنّت ہو اور اگر مقصود تَفاخُر(یعنی فخر جتانا)ہو یا یہ کہ میری واہ واہ ہوگی جیسا کہ اس زمانہ میں  اکثر یہی دیکھا جاتا ہے ، تو ایسی دعوتوں  میں  نہ شریک ہونا بہتر ہے خصوصاً اہلِ علم کو ایسی جگہ نہ جانا چاہیے۔

        (6) دعوت میں  جانا اُس وقت سنّت ہے جب معلوم ہو کہ وہاں  گانا بجانا ، لَہْو و لَعِب نہیں  ہے اور اگر معلوم ہے کہ یہ خُرافات وہاں  ہیں  تو نہ جائے۔

          (7) جانے کے بعد معلوم ہوا کہ یہاں  لَغْوِیات ہیں ، اگر وہیں  یہ چیزیں  ہوں  تو واپَس آئے اور اگر مکان کے دوسرے حصّے میں  ہیں  جس جگہ کھانا کھِلایا جاتا ہے وہاں  نہیں  ہیں  تو وہاں  بیٹھ سکتا ہے اور کھا سکتا ہے پھر اگر یہ شخص ا ن لوگوں  کو روک سکتا ہے تو روک دے اور اگر اس کی قدرت اسے نہ ہو تو صبر کرے۔

          (8)  یہ اس صورت میں  ہے کہ یہ شخص مذہبی پیشوا نہ ہو اور اگر مُقْتَدٰی وپیشوا ہو ، مثلاً علما و مشایخ ، یہ اگر نہ روک سکتے ہوں  تو وہاں  سے چلے آئیں  نہ وہاں  بیٹھیں  نہ کھانا کھائیں  اور پہلے ہی سے یہ معلوم ہو کہ وہاں  یہ چیزیں  ہیں  تو  مُقْتَدٰی ہو یا نہ ہو کسی کو جانا جائز نہیں  اگرچِہ خاص اُس حصّۂ مکان میں  یہ چیزیں  نہ ہوں  بلکہ دوسرے حصے میں  ہوں۔

        (9) اگر وہاں لَہْو و لَعِب ہو اور یہ شخص جانتا ہے کہ میرے جانے سے یہ چیزیں  بند ہوجائیں  گی تو اس کو اس نیَّت سے جانا چاہیے کہ اس کے جانے سے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن