30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دیکھو یہ خوشیاں جوہیں ، یہ سب عارضی ہیں ، موت تو دولہا کو بارات سےگھسیٹ کر لے جاتی ہے اور دلہن کو حَجلہ عُروسی سے اٹھا کر قبر میں ڈال دیتی ہے۔ اس طرح اُن کا مَدَنی ذہن بنانے کی کوشش کی۔
امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ مزید فرماتے ہیں کہ میں نے(ناخنوں کو دیکھتے ہوئے) پوچھا : ’’نیل پالش کہاں ہے؟ ‘‘ کہا : ’’ نہیں لگا ئی۔ ‘‘ پوچھا : ’’ کیوں ؟ ‘‘ کہا کہ’’وضو نہیں ہوتا۔ ‘‘یہ سن کر میرا دل بہت خوش ہوا کہ ما شا ء اللہ عَزَّوَجَلَّ اِن کاپہلے سے ہی ذہن بنا ہو ا ہے۔ ورنہ میں نے نیل پالش اُتارنے والا لوشن لے رکھا تھا کہ اگر نیل پالش لگائی ہوئی تو صاف کردوں گا۔ الحمد للّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس کے استعمال کی زندگی میں کبھی نوبت ہی نہیں آئی ۔
مَدنی پھول : حکیم الامت مفتی ا حمد یار خان نعیمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی لکھتے ہیں : آج کل( عورتوں میں )ناخن پر پالش لگانے کا رواج ہے مگر پالش میں جسامت ہوتی ہے اس لئے اگر ناخنوں پر لگی ہوگی تو عورت کا وُضو یا غسل نہ ہوگا کہ پالش کے نیچے پانی نہ پہنچے گا۔ (مرأۃ المناجیح ، ج۶ ، ص۱۷۵)لہٰذا اگرنَیل پالِش ناخنوں پرلگی ہوئی ہوتواس کا چھُڑانافرض ہے ورنہ وُضووغسل نہیں ہو گا ۔ (اسلامی بہنوں کی نماز ، ص۵۴)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
شبِ عُروسی میں بیان کی کیسٹ سنی !
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیراہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی یہ اِنفرادی کوشش بہت سے اسلامی بھائیوں کے لئے مشعلِ راہ بنی ، چنانچہ جامعۃ المدینہ( کنزالایمان مسجد بابری چوک باب المدینہ کراچی ) کے ایک طالب علم کا بیان کچھ یوں ہے کہ۱۵ ذیقعدۃ ۱۴۲۵ ھ میں (کہ جب میں درجہ خامسہ کا طالب علم تھا) اپنی شادی کے موقع پر میں نے رہنمائی کے لئے مفتیٔ دعوتِ اسلامی الحافظ القاری مولانا محمد فاروق عطاری المدنی علیہ رحمۃ اللہ الغنی جو کہ میرے اُستاد بھی تھے ، ان سے کچھ شرعی مسائل پوچھے جس کے جوابات دینے کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے اِنفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے شبِ عُروسی میں کیسٹ اجتماع کی ترغیب دلائی کہ اس طرح آپ دونوں کو رہنمائی کے متعدد مدنی پھول ملیں گے ۔ چنانچہ میں نے شبِ عروسی کی ابتداء میں اپنی دُلہن کے ساتھ بیٹھ کر امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے بیان کی کیسٹ’’میاں بیوی کے حقوق ‘‘ سُنی جس سے ہمیں معلومات کا انمول خزانہ ہاتھ آیا۔ ([1])
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
بارگاہِ رسالت میں صلٰوۃ وسلام پیش کیا
دعوتِ اسلامی کے تحقیقی واشاعتی اِدارے المدینۃ العلمیۃ سے وابستہ ایک مَدنی اسلامی بھائی نے بھی مَدَنی مذاکرے میں امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی یہی حکایت سن کر اپنا ذہن بنایا اور شبِ زِفاف میں سب سے پہلے اپنی دلہن کے ساتھ مل کر بارگاہِ رسالت (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم)میں صلوۃ وسلام کا نذرانہ پیش کیا اور دُعا بھی مانگی ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ مزید فرماتے ہیں کہ)’’اَنور‘‘ نے مشورہ دیا تھا کہ شبِ زِفاف گزار کرنمازِ فجر گھر ہی پر ادا کر لینا مگر اَلْحَمْدُ لِلّٰہِعَزَّوَجَلََّّ شبِ زِفاف کی صبح مسجد نور(جہاں امامت کی ذمہ داری تھی) میں نمازِ فجر کی اِمامت کی سعادت پائی۔ پھر جب ’’اَنور‘‘ سے ملاقات ہوئی تو اس نے بڑا تعجب کیا کہ شادی کی پہلی رات گزار کر فجر پڑھائی !یہ کیسے پڑھائی؟میں نے کہا : ’’ الحمد للّٰہ عَزَّوَجَل پڑھائی اور کوئی غلطی بھی نہیں ہوئی ، یہ اللہ عَزَّوَجَلََّّ کا کرم ہے۔ ‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع