30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
پیغامِ امیرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ
امیرِ اَہلسنّتدامَتْ بَرَکاتُہُمُ العالیہ (رسالہ فاتحہ کا طریقہ ص 24مطبوعہ مکتبۃ المدینہ )میں تحریر فرماتے ہیں : خبردار جب بھی آپ کے یہاں (شادی) ، نیاز یا کسی قسم کی تقریب ہو ، نماز کا وقت ہوتے ہی کوئی مانِع شرعِی نہ ہو تو اِنفرادی واِجتماعی کوشش کے ذریعے تمام مہمانوں سمیت نمازِ باجماعت کیلئے مسجد کا رُخ کریں۔ بلکہ ایسے اوقات میں دعوت ہی نہ رکھیں کہ بیچ میں نَماز آئے اورگہما گہمی یا سُستی کے باعث معاذ اللہ عَزَّوَجَلَّ جماعت فَوت ہوجائے۔ دوپہر کے کھانے کیلئے فوراً بعدِ نمازِ ظہر اور شام کے کھانے کیلئے بعدِ نمازِ عشاء مہمانوں کو بلانے میں غالباً باجماعت نمازوں کیلئے آسانی ہے۔ میزبان ، باورچی ، کھانا تقسیم کرنے والے وغیرہ سبھی کو چاہیے کہ وقت ہوجائے تو ساراکام چھوڑ کر باجماعت نماز کا اہتمام کریں ۔ شادی یا دیگر تقریبات وغیرہ اور بزرگوں کی ’’نیاز‘‘ کی مصروفیت میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی (حکم کردہ)’’نمازِ باجماعت‘‘ میں کوتاہی بَہُت بڑی غَلَطی ہے۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
ایک مرتبہ مَدَنی مذاکرے کے دوران ا میرِ اَہلسنّتدامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہسے عرْض کی گئی کہ حضور! آپ نے شادی کا دعوت نامہ سب سے پہلے کس کے نام لکھا؟ توکچھ یوں ارشاد فرمایا ! اَلْحَمْدُ لِلّٰہِعَزَّوَجَلَّ َّ جب سے ہوش سنبھالا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے صدقے سے میری مَحبتیں سرکارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے لیے ہی ہیں ، یقینا سرکارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے ہر مسلمان کو محبت ہے اور ہونی بھی چاہئے کہ ’’لا اِیمانَ لِمَنْ لا مَحَبَّۃَ لَہ(یعنی جسے سرکارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم سے محبت نہیں اس کا ایمان کامل نہیں )ہرایک کی محبت کا اپنا انداز ہوتا ہے ، میرا بھی سرکارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمسے محبت کا ایک انداز تھا کہ میں چاہتا تھا کہ سرکارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم وسلمکی خدمت میں دعوت پیش کروں۔ لیکن سوچتا تھا کہ کیسے پیش کروں ؟میں مسلسل یہ سوچتا رہا پھر آخرکا رمجھ سے جو ممکن ہوامیں نے شادی کارڈ پر اَلقابات لکھے اور ایک مدینے کے مسافر کے ہاتھ ’’شادی کارڈ ‘‘ مدینے شریف بھیج دیا ۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِعَزَّوَجَلَّ ایک اسلامی بھائی نے سنہری جالیوں کے سامنے پڑھ کر سنایا۔ نکا ح والے دن میری عجیب کیفیت تھی میں مضطرب تھا کہ میرے میٹھے میٹھے ، من موہنے ، آقا صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکب تشریف لاتے ہیں ؟ بس یہ میرا ایک انداز تھا۔
اللہ عَزّوَجَلَّ کی امیرِ اہلِسنّت پَر رَحْمت ہو اور ان کے صدْقے ہماری مغفِرت ہو
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
امیرِ اَہلسنّتدامَتْ بَرَکاتُہُمُ العالیہ فرما تے ہیں : شادی کی مصروفیات میں دن گزار کر جب شب ِعُروسی کا وقت ہو اتو میرے اَنور([1]) (Side friend) نے مجھے سمجھانا شروع کیا کہ اگر تمہار ی اہلیہ اُلٹے ہاتھ سے کوئی چیز دے تو پہلی رات ہی روک ٹوک شروع مت کردینا (کیونکہ امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی بہت پرانی عادتِ مبارکہ ہے کہ جب کوئی آپ کو اُلٹے ہاتھ سے چیز پکڑانے کی کوشش کرے تو آپ دامت برکاتہم العالیہ بڑے احسن انداز میں اس کی اصلاح فرما دیتے ہیں کہ سیدھے ہاتھ سے چیز دیجئے کہ سنّت ہے اُلٹے ہاتھ سے دینا شیطان کا کام ہے)۔ چونکہ وہ میری کیفیت سے واقف تھے ، اسی کے پیشِ نظر پھر سمجھایا کہ ’’ تم حصولِ عبرت کے لئے موت کی باتیں کرتے رہتے ہو ، پہلی ہی رات اسکے سامنے موت کا تذکرہ مت چھیڑ دینا ۔ ‘‘ میں خاموشی سے سنتا رہا۔
اتفاقًاجب رات نوبِیاہتا نے الٹے ہاتھ سے کوئی چیز دینا چاہی تو اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ حسبِ عادت سیدھے ہاتھ سے دینے کی تلقین کی نیز و ہی موت کا تذکرہ کیا کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع