30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جاتا ہے کہ خوشیاں طویل ہوں ، نافرمانی نہیں کی جاتی ، کہیں ایسا نہ ہو کہ اس نافرمانی کی نُحُوست سے اِکلَوتی بیٹی دلہن بننے کے آٹھویں دن روٹھ کر میکے آ بیٹھے اور مزید آٹھ دن کے بعد تین طَلَاق کا پرچہ آ پہنچے اور ساری خوشیاں دُھول میں مل جائیں۔ یا دھوم دھام سے ناچ گانوں کی دھما چوکڑی میں بیاہی ہوئی دلہن 9 ما ہ کے بعد پہلی ہی زچگی میں موت کے گھاٹ اتر جا ئے۔ آہ !صدہزارآہ! ؎
مَحَبَّت خُصُومات میں کھو گئی یہ اُمّت رُسُومات میں کھو گئی
شادی کی خوشی میں گانے بجانے کا گناہ کرنے والو ! کان کھول کر سنو ! حدیثِ پاک میں ہے ، ’’دو آوازوں پر دنیا و آخِرت میں لعنت ہے ، (۱)نِعمت کے وقت باجا(۲)مصیبت کے وقت چِلّانا۔ (کنزالعمال حدیث ۴۰۶۵۴ج۱۵ ص۹۵ دارالکتب العلمیۃ بیروت) (گانے باجے کی ہولناکیاں ، ص۷ تا۱۳)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!آپ نے ملاحظہ فرمایاکہ امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ شادی بیاہ کی خوشی میں ہونے والی بے ہودہ تقریبات کو نہ صرف خود ناپسند کرتے ہیں بلکہ دیگر مسلمانوں کو بھی اِن گناہوں بھرے معمولات سے اجتناب کی شفقت آمیز تاکید فرمارہے ہیں ، تو بھلاکیسے ممکن تھا کہ امیرِ اَہلسنّتدامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہکی اپنی شادی میں گناہوں بھری تقریبات منعقد کی جاتیں یا ناجائز رسموں پر عمل کیا جاتا ! ہرگز نہیں بلکہ ہمارا حسنِ ظن ہے کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہعَزَّوَجَلَّ آپ دامت برکاتہم العالیہکی شادی فُضول و ناجائزرسموں سے پاک اورانتہائی سادگی کا مظہررہی ہوگی ۔
اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُا سے روایت ہے کہ نُور کے پیکر ، تمام نبیوں کے سَرْوَر ، دو جہاں کے تاجْوَر ، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’ بڑی برکت والا نکاح وہ ہے جس میں بوجھ کم ہو ۔ ‘‘ (مُسند احمد ، الحدیث ۲۴۵۸۳ج۹ ، ص۳۶۵) حکیم الامت حضرت مولانا مفتی احمدیارخان علیہ رحمۃ المنّان مرأۃ المناجیح میں اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں : ’’ یعنی جس نکاح میں فریقین کا خرچ کم کرایا جائے ، مہر بھی معمولی ہو ، جہیز بھاری نہ ہو ، کوئی جانب مقروض نہ ہوجائے ، کسی طرف سے شرط سخت نہ ہو ، اﷲ(عزوجل) کے توکل پر لڑکی دی جائے وہ نکاح بڑا ہی بابرکت ہے ایسی شادی خانہ آبادی ہے ، آج ہم حرام رسموں ، بے ہودہ رواجوں کی وجہ سے شادی کو خانہ بربادی بلکہ خانہا (یعنی بہت سارے گھروں کے لئے باعثِ)بربادی بنالیتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ اس حدیث پاک پر عمل کی توفیق دے۔ (مرأۃ المناجیح ، ج۵ ، ص۱۱)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی شادی مبارک کی مختصر رُوداد پڑھئے اور حدیث پاک کی برکتوں کا کھلی آنکھوں سے نظارہ کیجئے؛
اِس جدید دور میں بھی جگمگ جگمگ کرتے شادی ہال کے بجائے امیراہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کا نکاح مستحب طریقے پر میمن مسجد (بولٹن مارکیٹ باب المدینہ کراچی )میں ہوا۔ مفتیٔ اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی وقارُ الد ین قادِری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی نے جُمُعہ کے دن تقریباً 00 : 11بجے آپ دامت برکاتہم العالیہ کانکاح پڑھایا ، جس میں لوگوں کی بھاری تعداد نے شرکت کی۔
مَدَنی پھول : (1)نکاح خوا ں کاعالم باعمل ہونا مستحب ہے۔ (ملخصاًازفتاوی رضویہ جلدپنجم ص۳۳ ، ۶۱) (2)نکاح کا اعلانیہ طور پر ، مسجد میں اور جمعہ کے دن ہونا مستحب ہے( اگر لڑکی کے گھر یا کسی اور جگہ ہو تب بھی کوئی حرج نہیں )۔ (الدرالمختار ، کتاب النکاح ، ج۴ ، ص۷۵)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع