30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میکے کے مت کر فضائل تو بیاں سسرال میں ([1]) اب تُو اس گھر کو سمجھ اپنا ہی گھر ہر حال میں
ساس چِیخی تُو بھی بِپھری اور لڑائی ٹھن گئی ہے کہاں بھُول ایک کی ‘ دو ہاتھ سے تالی بجی
یاد رکھ تُو نے اگر کھولی زَباں سُسرال میں پھنس کے رہ جائے گی بیٹی ! قَضیوں کے جنجال میں
میری پیاری بیٹی سُن فیضان ِ سنّت پڑھ کے تُو اِلتجا ہے روز دینا درس اپنے گھر پہ تُو
گر نصیحت پر عمل عطّاؔر کی ہوگا تِرا اِن شاء اللہ اپنے گھر میں تو سُکھی ہوگیسدا
امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے ۶ ذُوالْقَعدَۃ الحرام ۱۴۲۸ ھ ، 17دسمبر 2007 ء بروز پیر شریف ایک اِسلامی بھائی اور اُن کے بچّوں کی امّی کو گھریلوناچاقی کے علاج کے لئے نصیحت کے مَدَنی پھول عنائت فرمائے (جن میں ضرورتًا کہیں کہیں ترمیم کی گئی ہے )۔ ان مَدَنی پھولوں پر عمل کرکے ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ گھر کو حقیقی معنوں میں امن کا گہوارہبنایا جاسکتا ہے۔
’’مِزاج شناسی کی عادت ڈالو ‘‘کے اُنیس حُرُوف کی نِسبت سے شادی شدہ اسلامی بھائیوں کے لئے 19مَدَنی پھول
مدینہ1: اِس میں کوئی شک نہیں کہ شوہر اپنی زوجہ پر حاکِم ہے تاہم اِنصاف سے کا م لینا ضروری ہے کہ حاکم سے مُراد سیاہ سفید کا مالک ہونا نہیں ہے۔
مدینہ2 : عورت ٹیڑھی پَسلی کی پیداوار ہے ، اُس کی نفسیات کو پَرَ کھ کر اس کے ساتھبَرتاؤ کیجئے ۔ اگر اپنی سوچ کے مِعیار پر اس کو تولیں گے تو گھر چلنابہت دُشوار ہے۔
مدینہ3 : عورت عُمُوماً ناقِص العقل ہوتی ہے ، 100فیصد آپ کے معیار پر پوری اترے یہ تَوَقُّع اُس سے بیکار ہے ، لہٰذا اُس کی کوتاہیوں کو نظر اَنداز کرکے اُس پر مزید اِحسانات کیجئے۔
مدینہ4 : لاکھ غلطیاں کرے ، منہ چڑھائے ، بڑبڑائے ، اگر آپ گھر آباد دیکھنا چاہتے ہیں تو اُس کے ساتھ اُس وقت تک نرمی سے پیش آنے کا ذہن بناتے رہئے جب تک شریعت سختی کی اِجازت نہ دے۔
مدینہ5 : اگر عورت ٹیڑھی چلتی رہی اور آپ صبر کرتے رہے تو ان شاء اللہ عَزَّوَجَلَّ اجر وثواب کا آخرت میں اَنبار دیکھیں گے۔ نُور کے پیکر ، تمام نبیوں کے سَرْوَر ، دو جہاں کے تاجْوَر ، سلطانِ بَحرو بَرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکا فرمان رُوح پرور ہے : ’’کامِل اِیمان والوں میں سے وہ بھی ہے جو عمدہ اَخلاق والا اور اپنی زوجہ کے ساتھ سب سے زیادہ نرم طبیعت والا ہے ۔ (جامع الترمذی ج۲ ص۳۸۷ حدیث۱۱۶۵)
مدینہ6 : اگر بیوی آپ کے مَن پسند کھانے نہیں پکا پاتی تو صبر کیجئے۔ محض نفس کی معمولی لذّت کی خاطر بلااِجازتِ شرعی اس کو ڈانٹ ڈپٹ کرنا ، مار دھاڑ پر اتر آنا بربادیٔ آخِرت کا باعث بن سکتا ہے۔
مدینہ7 : جس طرح عام مسلمانوں کی دل آزاری حرام ہے اُسی طرح بِلا مصلحتِ شرعی بیوی کی دل آزاری میں بھی جہنَّم کی حقداری ہے۔
مدینہ8 : اگر کبھی غصہ آجائے اور زوجہ پر ناحق زبان چل جائے یا بلا مصلحتِ شرعی ہاتھ اُٹھ جائے تو توبہ بھی واجِب اور تلافی بھی لازِم ۔ بغیر شرمائے اور بغیر اپنی کسرِ شان سمجھے اُس سے نہایت لَجَاجت ونَدَامَت کے ساتھ اس طرح معذرت کیجئے کہ اُس کا دل صاف ہوجائے اوروہ واقِعۃً مُعاف کردے۔ ہر جگہ رَسمی SORRYبول دینا کا م نہیں دیتا نہ اس طرح حقُّ العَبد سے یقینی خَلاصی ہوتی ہے ۔ جیسا جُرم ویسی مُعافی تَلافی۔
[1] اپنے ماں ، باپ ، یا بھائی بہنوں کی سخاوتوں کے عموماً چرچے بہو اپنے سسرال میں کرتی ہے جس سے سسرال والوں کو شیطان وسوسہ ڈالتا ہے کہ یہ تم لوگوں کو سناتی اور جَتاتی ہے کہ تم لوگ تو کنجوس اور بے مُروّت ہو۔ اور یوں نفرتوں کی بُنیاد یں مضبوط ہوتی ہیں۔ بہو کا منہ پھُلائے رہنا بھی فساد کی صورت بنتا ہے۔ اس طرح سسرال کے سامنے اپنے بچوں کو کوسنے سے بھی گریز کریں ، کہ بعض اوقات سسرال والے سمجھتے ہیں یہ ہمیں سنا رہی ہے ، پھر جنگ چِھڑ جاتی ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع