30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اِن کی ’’شادی خانہ آبادی‘‘ ہو ربِّ مصطفٰے اَزپئے غوثُ الوری بہرِ امام احمد رضا
اِن کی زوجہ یا خدا کرتی رہے پردہ سَدا اِن کی بیوی کو الہٰی بخش توفیقِ حیا
تو سَدا رکھنا سلامت اِن کا جوڑا یا خدا گھر کے جھگڑوں سے بچاناتُو انہیں ربُّ العلیٰ
اِن کو خوشیاں دو جہاں میں تُو عطا کرکِبریا اِن پہ رَنج و غم کی ناچھائے کبھی کالی گھٹا
آفتِ فیشن سے ہر دَم اِن کو تو مولیٰ بچا یاَ الہٰی! اِن کا گھر گہوارئہ سُنَّت بنا
ان کو امّت میں اضافے کا سبب مولیٰ بنا نیک اور پرہیز گار اولاد کردے تُو عطا
سادگی سے اس طرح گھر ان کا مہکے یا خدا پھُول جیسا کہ مہکتے ہیں مدینے کے سدا
یہ غلامِ احمد رضا جب تک یہاں زندہ رہے خُوب خدمت سنّتوں کی یہ سدا کرتا رہے
یَاالہٰی! دے سعادت اِن کوحج کی بار بار بار بار اِن کو دِکھا میٹھے محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا دِیار
ہو بقیعِ پاک میں دونوں کو مدَفن بھی عطا سبز گنبد کا تجھے دیتا ہوں مولیٰ واسطہ
یہ میاں بیوی رہیں جنّت میں یکجا اے خدا یا الہی ! ہے یہی عطّاؔر کے دل کی دُعا
اٰمِین بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وَسلّم
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
مَدَنی سھرا (اسلامی بہنوں کے لئے)
(از شیخ طریقت امیرِ اہلسنّت حضرت علّامہ مولانا محمد الیاس عطّاؔر قادری دامت برکاتہم العالیہ)
تجھ کو ہو شادی مبارک اب ہے تیری رُخصتی رُخصتی میں تیری پنہاں رخصت ہے قبر کی([1])
گھر تِرا ہو مُشکبار اور زندگی بھی پُربہار رب ہو راضی خوش ہوں تجھ سے دو جہاں کے تاجدار
میری بیٹی کا خدایا گھر سدا آباد رکھ فاطِمہ زہرا کا صَدقہ دو جہاں میں شاد رکھ
یہ میاں بیوی الہٰی مَکرِ شیطان سے بچیں یہ نمازیں بھی پڑھیں اور سُنتّوں پر بھی چلیں
یہ میاں بیوی چلیں حج کو الہٰی! بار بار بار بار ان کو دِکھا میٹھا مدینہ کردگار
مَیکا و سُسرال تیرے دونوں ہی خوشحال ہوں دو جہاں کی نعمتوں سے خوب مالا مال ہوں
اپنے شوہر کی اِطاعت سے نہ غفلت کرنا تُو حَشر میں پچھتائے گی اے پیاری بیٹی ورنہ تُو
میری بیٹی! یا الہٰی! نابنے غصّے کی تیز یہ کرے سُسرال میں ہر دم لڑائی سے گُریز
یاد رکھ! تُو آج سے بس تیرا گھر سُسرال ہے نفرتِ سُسرال سُن لے آفتوں کا جال ہے
ماں سمجھ کر ساس کو ، خدمت جو کرتی ہے بَہُو راج سارے گھر پہ سُن لے تُو وہ کرتی ہے بَہُو
ساس اور نَندوں کی خدمت کرکے ہوجا کامیاب اِن کی غِیبت کرکے مت کر بیٹھنا خانہ خراب
ساس اور نَندیں اگر سختی کریں تو صبر کر صبر کر بس صبر کر چَلتا رہے گا تیرا گھر
ساس اور نَندوں کا شِکوہ اپنے مَیکے میں نہ کر اس طرح برباد ہو سکتا ہے بیٹی تیرا گھر([2])
[1] یاد رکھ ! جس طرح آج تجھے دلہن بنا کر پھولوں سے لاد کر حُجرئہ عَروسی میں لے جایا جارہا ہے اسی طرح جلد ہی تیرے جنازے کو پھولوں سے لادکر اندھیری قبر کی طرف لے جایا جائے گا۔ ؎
تُو خوشی کے پھول لیگی کب تلک تُو یہاں زندہ رہیگی کب تلک !
[2] اگر خدانخواستہ سسرال میں کوئی چپقلش ہوجائے تو مَیکے میں اس کی بھڑاس نکالنے میں یہ خطرہ ہے کہ ماں ، بہنیں ہمدردی کریں اور اُن کی شَہ ملنے پر جذبات مزید مُشتعِل ہوں اور یوں لڑائی ٹھنڈی ہونے کے بدلے مزید بڑھ جائے اور نتیجتاً گھر برباد ہوجائے‘ آج کل اس طرح سے گھر تباہ ہورہے ہیں اسی لیے سگِ مدینہ نے یہ نصیحت کرنے کی جَسارت کی ہے۔ (کوئی سنے یا نہ سنے روزانہ فیضانِ سنت کا درس جاری رکھنے کی مَدَنی التجا ہے۔ )
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع