30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دور سے ایک شخص آرہا ہے اور اُس کے پیچھے ایک شیر چلا آرہا ہے جس کی پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھّا لدا ہوا ہے۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے دور ہی سے فرمایا : ’’ میں ہی ابوالحسن خِرقانی ہوں ‘ اگر میں اپنی بَدمزاج بیوی کا بوجھ برداشت نہ کرتا تو کیا شیر میرا بوجھ اُٹھالیتا ؟ ‘‘ (تذکرۃ الاولیاء ص۱۷۴)
خبردار ! اہل و عِیال کو حسبِ ضرورت اَحکامِ شریعت سکھانا ضروری ہے۔ اِس کا ایک ذریعہ دعوتِ اسلامی کا’’ مَدَنی چینل‘‘بھی ہے ، T.Vصرف اِسی غرض سے لیا جائے اور اس میں تمام چینلز Lockکر کے فقط مَدَنی چینل ہی باقی رکھا جائے ۔ اگر خدانخواستہ اُنہیں صرف اور صرف عُلومِ دُنیوی ہی سکھائے ، نیز گناہوں سے باز رکھنے کے بجائے خود ہی گناہ کرنے کے آلات مثلاً فلمیں اور ڈرامے وغیرہ دیکھنے کے لیے T.Vاور V.C.Rوغیرہ کا گھر میں اہتمام کیا اور شیطان کے اس فریب میں مُبتلا ہوگئے کہ اگر گھر میں T.Vوغیرہ کا اہتمام نہیں کروگے تو تمہارے بچے دوسروں کے گھر جا کر فلمیں دیکھیں گے‘ نیز اپنے اہل و عِیال کو سُود و رشوت یا حرام کمائی کھلائی تو آخِرت خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ ایک عبرتناک روایت پڑھیے اور خوفِ خدا وندی سے لرزیئے۔
بروزِ قیامت ایک شخص بارگاہِ خدا وندی عزوجل میں حاضِر کیا جائے گا ‘ اُس کے بیوی بچے فریاد کریں گے ’’ یااللہ ! اِس نے ہمیں دین کے اَحکام نہیں سکھائے اور یہ ہمیں حرام روزی کھِلاتا تھا ‘ لیکن ہم لا عِلم تھے۔ لِہذا اُس ( شخص) کو حرام روزی کے سبب اس قَدَر پیٹا جائے گا کہ اُس کی کھال تو کھال گوشت بھی اُدھڑ جائے گا‘ پھر اُس کو مِیزان (یعنی ترازو)پر لایا جائے گا‘ فِرشتے اُس کی پہاڑ کے برابر نیکیاں لائیں گے تو اہل وعِیال میں سے ایک شخص اُس کی نیکیوں میں سے لے لے گا۔ دوسرا بڑھے گا وہ بھی اُس کی نیکیوں سے اپنی کمی پوری کرے گا۔ اس طرح اُس کی ساری نیکیاں اس کے گھر والے لے لیں گے۔ اب وہ اپنے بال بچوں کی طرف رُخ کرکے کہے گا ’’افسوس ! اب میری گردن پر صرف اِن گناہوں کا بوجھ رہ گیا ہے جو میں نے تم لوگوں کی خاطِر کیے تھے۔ ‘‘ فرشتے اِعلان کریں گے ’’ یہ وہ شخص ہے جس کی ساری نیکیاں اُس کے بال بچے لے گئے اور یہ اُن کی وجہ سے جہنم میں داخِل ہوا۔ ‘‘
(قُرَّۃُ العیون ، الباب الثامن ، فی عقوبۃقاتل…الخ ، ص۴۰۱)
یقیناً وہ شخص بڑا بدنصیب ہے جو اپنے بال بچوں کی سنّت کے مطابق تربیت نہیں کرتا‘ اپنی بیوی کو حتی المقدور پردہ وغیرہ کے احکام نہیں سکھاتا۔ بلکہ از خود فیشن کے سامان مُہیا کرتا ، میک اپ کروا کر بے پردہ اسکوٹر پر بٹھاتا ، شاپنگ سینٹروں کی زینت بناتا اور مَخلوط تفریح گاہوں میں پھرتا پھراتا ہے۔ یاد رکھئے جو لوگ باوُجُود ِقدرت اپنی عورَتوں اور مَحارِم کو بے پردَگی سے مَنْع نہ کریں وہ دَیُّوث ہیں ، رَحْمتِ عالمیان صلی اﷲ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے ، ’’ثَـلَا ثَۃٌ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ اَبَدًا اَلدَّیُّوْثُ وَالرَّجُلَۃُ مِنَ النِّسَاءِ وَمُدْمِنُ الْخَمْرِ‘‘ (اَلتَّرْغِیْب وَالتَّرْھِیْب ج۳ ص۷۶حدیث ۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت) یعنی ’’تین شخص کبھی جنّت میں داخل نہ ہوں گے دیُّوث اورمَردانی وَضْع بنانے والی عورت اورعادی شرابی۔ ‘‘حضرتِ علّامہ علاؤ الدّین حَصْکَفِیْ علیہ رحمۃ اﷲ القوی فرماتے ہیں : ’’دَیُّوْثٌ ھُوَ مَن لَّا یَغَارُ عَلٰی اِمْرَأَتِہٖ اَوْ مَحْرَمِہٖ‘‘ (اَلدُّرُالْمُخْتَارج۶ ص ۱۱۳دار المعرفۃ بیروت) یعنی ’’دَیُّوث‘‘ وہ شخص ہوتا ہے جو اپنی بیوی یا کسی مَحرم پر غیرت نہ کھائے۔ ‘‘ معلوم ہوا کہ باوُجُودِ قدرت اپنی زوجہ ، ماں ، بہنوں اور جوان بیٹیوں وغیرہ کو گلیوں ، بازاروں ، شاپنگ سینٹروں ، مخلوط تفریح گاہوں میں بے پردہ گھومنے پھرنے ، اجنبی پڑوسیوں ، نامحرم رشتے داروں ، غیرمَحرم ملازِموں ، چوکیداروں ، ڈرائیوروں سے بے تَکلُّفی اور بے پردَگی سے منع (مَنْ۔ عْ) نہ کرنے والے سخت اَحْمق ، بے حیا ، دَیُّوث ، جنّت سے محروم اور جہنَّم کے حقدار ہیں۔ اگر مرد اپنی حیثیت کے مطابِق مَنْع کرتا ہے اور وہ نہیں مانتیں تو اِس صورت میں اس پر نہ کوئی الزام اور نہ وہ دَیُّوث۔
ساس بہو کا اگر خدانخواستہ اِختلاف ہو جائے تو اُس میں انصاف کا دامن ہرگز ہاتھ سے نہ جانے دینا ، ماں کو ہر گز ہرگز مت جھاڑنا اِسی طرح صرف ماں کی فریاد سن کر بیوی کو بھی مت مارنا‘ صرف اور صرف نرمی سے کام لینا کہیں ایسا نہ ہو کہ بازی ہاتھ سے جاتی رہے اور رونے کے دن آئیں۔ گھر کے جملہ افراد کو میرا سلام
والسلام مع الاکرام
غمِ مدینہ و بقیع و
مغفر ت و بلا حسا ب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع