30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پڑے تو یہ احتیاط بہر حا ل ضَرور رکھیں کہ (نامحرموں اور)پڑوسیوں کے گھروں میں نظر نہ پڑے۔
{۱۱}مَدَنی انعامات پر آپ بھی عمل کریں اور بنتِ عطار کو سختی سے عمل کر وائیں۔
{۱۲} بنتِ عطّاؔر محض بشر ہے ، غلطیوں کا ہر امکان موجود ہے اگر اس کا تذکرہ آپ نے اپنے والدین یا افرادِ خانہ سے کیا تو غیبت کے گناہ کے ساتھ ساتھ ’’دعوتِ اسلامی‘‘کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ آپ اَحسن طریقے سے اصلاح کی سعی فرمائیں۔ ناکامی کی صورت میں اصلاح کروانے کی نیت سے صرف مجھ سے رُجو ع کیجئے۔ (۱۳محرم الحرام۱۴۱۸ھ)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
گھر کو خوشیوں کا گہوارہ بنانے اور آخِرت سنوارنے کے لئے ’’عطار ‘‘ (دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ)کی طرف سے’’بنت ِعطار‘‘ کیلئے12 مَدَنی پھول
{۱}شوہر کی طرف سے ملنے والا ہر حُکم جو خلافِ شرع نہ ہو ، بجا لانا ضَروری ہے۔
{۲}اپنے شوہر اور ساس کا کھڑے ہو کر استقبال کیجئے اور کھڑے ہو کر ہی رخصت بھی کیجئے۔
{۳}دن میں کم از کم ایکبار(ممکن ہو تو)ساس کی دست بوسی کیجئے۔
{۴}اپنی ساس اور سُسر کا والدین کی طرح اِکرام کیجئے ۔ ان کی آواز کےسامنے اپنی آواز پست رکھئے۔ ان کے اور اپنے شوہر کے سامنے ’’جی جناب‘‘ سے بات کیجئے۔
{۵}شوہر ضَرورتاً سزا دینے کا مجاز ہے۔([1]) ایسا ہو تو صبرو تحمل کا مظاہرہ کیجئے ، غصہ کرکے یا زبان درازی کر کے گھر سے رُوٹھ کر آجانے کی صورت میں آپ پر ’’مَیکے ـ‘‘کے دروازے بند ہیں۔
{۶}ہاں بغیر روٹھے شوہر کی اجازت کی صورت میں جب چاہیں میکے آسکتی ہیں۔
{۷}اپنے میکے کی کوتاہیاں شوہر کو بتا کر غیبت کے گناہِ کبیرہ میں نہ خود مبتلا ہوں نہ اپنے شوہر کو ’’سُننے‘‘کے گناہِ کبیرہ میں ملوث کریں۔
{۸}اپنی’’بے عملی‘‘یا ’’لا علمی‘‘کو ڈھانپنے کے لئے اِس طرح کہہ دینا کہ ’’ مجھے تووالِدَین نے یہ نہیں سکھایا ‘‘ سخت حماقت ہے۔
{۹}بہارِ شریعت حصہ 7 سے ’’نان نفقہ کا بیان‘‘ ، ’’زوجین کے حقوق‘‘ وغیرہ کا مطالعہ کرلیجئے۔
{۱۰}اپنے لئے کسی قسم کا ’’سُوال‘‘ اپنے شوہر سے کر کے ان پر بوجھ مت بننا۔ ہاں اگر وہ مقرر کر دہ حقوق ادا نہ کریں تو مانگ سکتی ہیں۔
{۱۱}مِہمان کی خدمت سعاد ت سمجھ کر کرنا ، اس کے اخراجات کے معاملے میں شوہر پر بے جا بوجھ مت ڈالنا۔ اپنے والد (یعنی سگِ مدینہ)سے طلب کر لینا۔ اِنْ شاء اللہ عَزَّوَجَّلَّ مایوسی نہیں ہوگی اور اگر وہ خوش دلی سے رضا مند ہوں تو ان کی سعادت مندی ہوگی۔
{۱۲}شوہر کی اجازت کے بِغیر ہر گز گھر سے نہ نکلیں۔ (اسلامی بہنوں کو چاہیں تو تحفے میں اس تحریر کی فوٹو کاپی دے سکتی ہیں )۔
(۳صفر المظفر۱۴۱۸ھ)
[1] مفسرِ شہیر حکم الامت حضرت مفتی احمدیارخان علیہ رحمۃ اللہ المنّان سورۃُ النساء کی آیت نمبر34کے تحت لکھتے ہیں : رب تعالیٰ نے یہاں ان کی (یعنی بیویوں کی) اِصلاح کی تین صورتیں بیان فرمائیں ؛(۱)نصیحت کرنا (۲)بائیکاٹ کرنا (۳)مارنا ۔ (مزید لکھتے ہیں) نافرمانی پر خاوند مار سکتا ہے مگر اِصلاح کی مار مارے نہ کہ ایذاء (یعنی تکلیف دینے)کی جیسے شاگرد کو اُستاد یا اولاد کو ماں باپ اِصلاح کے لئے مارتے ہیں ۔ بلاقصور بیوی کو مارنا سخت ممنوع ہے جس کی پکڑ رب (عزوجل) کے ہاں ضرور ہوگی۔
(تفسیرِ نعیمی ، ج۵ ، ص۶۱)
بہارِ شریعت میں ہے : ’’ بیوی نماز نہ پڑھے تو شوہر اس کو مار سکتا ہے اسی طرح ترکِ زینت پر بھی مار سکتا ہے اور(بلااجازت) گھر سے باہر نکل جانے پر بھی مارسکتا ہے۔ ‘‘(بہار شریعت ، حصہ ۱۶ ، ص۲۹۹)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع