30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صاحبِ لولاک پر لاکھوں سلام (دیوانِ سالک)
مثلاًمشکیزہ ، گیہوں پیسنے والی ہاتھ کی چکی ، نُقرَئی(نُق۔ رَ۔ ئی یعنی چاندی کے)کنگن پیش کئے ، اسی طرح کی دیگر چیزیں کتابوں سے دیکھ کر جو جو میسّر آیا ؛ چٹائی ، مِٹّی کے برتن اورکھجور کی چھال بھراچمڑے کا تکیہ وغیرہ ، الحمدللّٰہ عزوجل جہیزمیں پیش کرنے کی کوشش کی([1]) اور رخصت کرتے وقت جس طرح سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم نے خاتون جنت فاطمۃالزہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُا پر شفقتیں فرمائی تھیں ([2]) ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ اُن سنتوں پر بھی عمل کرنے کی کوشش کی تھی ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
امیرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہکی جانب سے ’’ بنتِ عطار اور دامادِ عطّاؔر‘‘ کیلئے اصلاحی مَدَنی پھولوں کا گلدسۃ
’’دامادِ عطّاؔر‘‘ کی خدمت میں گھر چلانے کے سلسلے میں 12 مَدَنی پھول
{۱}حُقوقِ زَوجین ، حُرمتِ مصاہَرَت ، نان نَفْقہ کا بیان ، ظِہار کا بیان وغیرہ (بہارِ شریعت حصّہ ۷)کا مطالعہ فرمالیجئے۔
{۲}والِدَین اور گھر کے دیگر افراد کی کمزوریاں اور کوتاہیاں اپنی زوجہ کو بتا کر غیبت اور آبرو ریزی کی آفت میں مُبْتَلانہ ہوں۔
{۳}اسی طرح کی باتیں زَوجہ بھی اگر کریں تو اُس سے کہیں صَلُّوا علٰی الحبیب ۔ اوراسے ایسی باتیں کرنے سے روک دیں ورنہ غیبت سُننے کے گناہ میں گرفتا ر ہونگے۔
{۴}’’ ہم تو بُرا کسی( مسلمان) کا دیکھیں سُنیں نہ بولیں ‘‘یہ اُصول اگر اپنا لیں گے تو اِنْ شآء اللہ عَزَّوَجَّلََّ مدینہ ہی مدینہ۔
{۵}عورت کو راز کی بات نہ بتائیں۔
بشر رازِ دلی کہہ کر ذلیل وخوار ہو تا ہے نکل جاتی ہے جب خوشبو تو گُل بیکار ہو تا ہے
{۶}والدین کا ہر حال میں احترام کریں ان کے حُقُوق سے آپ کسی طرح بھی سُبُکدوش نہیں ہوسکتے۔
{۷}عورت ٹیٹرھی پسلی سے نکلی ہے اس کو حکمتِ عملی سے ہی چلانے میں کامیابی ہے۔ بات بات پر غصہ یا ڈانٹ ڈپٹ کرنے سے بِدَک جانے کا اندیشہ ہے۔
{۸}شوہر حاکم ہو تا ہے اور بیوی محکوم۔ لہٰذا زیادہ Freeنہ ہوں ورنہ رُعب ختم ہوجانے کی صورت میں ’’حاکمیت‘‘(کی دھاک)ضائع ہو سکتی ہے۔
{۹}دھونے پکانے کا کام زوجہ ہی کے ذِمّے لگائیں۔ (اُس کے ساتھ) بلاضَرورت کیا جانے والاتعاون ہو سکتا ہے اُسے سُست بنا دے۔
{۱۰}کھِڑکیوں اور بر آمدوں سے(بِلاعُذْرِ صحیح) جھانکنا شُرَفاء کاکام نہیں۔ آپ بھی احتیاط کریں اور اپنی زوجہ پر بھی سختی سے پابندی ڈالیں ضرورتاً جھانکنا
[1] سامانِ جہیز کی تصویر آخری صفحات میں ملاحظہ فرمائیے۔
[2] امام جزری شافعی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِحصنِ حصین میں نقل فرماتے ہیں کہ جب حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے حضرتِ خاتونِ جنّت فاطمۃُ الزَّہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُا کا عقدِ نکاح حضرت امیر المؤمنین علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ وَجْھَہُ الْکَرِیْمسے کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم گھر میں تشریف لائے اورحضرتِ خاتونِ جنّت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُا سے فرمایا : پانی لاؤ ، وہ پیالے میں پانی لائیں آپ نے اس میں سے پانی لے کر اس میں کلی کی پھر فرمایا : آگے آؤ ، جب وہ آگے آئیں تو ان کے سینے کے درمیان اور سر پر پانی چِھڑکا اور دعا کی : ’’اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُعِیْذُھَابِکَ وَذُرِّیَّتَھَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِیعنی الٰہی !میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتا ہوں۔ ‘‘ پھر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : پُشت پھیرو جب انہوں نے پشت پھیری تو ان کے دونوں کاندھوں کے درمیان پانی چِھڑکا اور دعا کی ( یعنی مذکورہ بالا دعا جو ترجمے کے ساتھ گزری) پھر حضورعلیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا : پانی لاؤ ، حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں کہ میں سمجھ گیا کہ حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم نے مجھ ہی سے فرمایا ہے۔ چنانچہ میں اُٹھا اور پانی کا پیالہ بھر لایا۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اس پیالے سے پانی لے کر اس میں کُلّی کی پھر فرمایا : آگے آؤ (چنانچہ میں آگے آیا ) تو آپ نے میرے سر اور سامنے کے جسم پر پانی ڈالا پھر دعا فرمائی : اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُعِیْذُھٗ بِکَ وَذُرِّیَّتَہٗ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِیعنی الٰہی !میں اس کو اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے تیری پناہ میں دیتا ہوں۔ ‘‘پھر فرمایا : پُشت پھیرو میں نے پشت پھیری تو آپ نے میرے کاندھوں کے درمیان پانی ڈالا اور دُعا فرمائی( یعنی مذکورہ بالا دعا جو ترجمے کے ساتھ گزری) پھر حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم نے (حضرت علی کَرَّمَ اللہُ وَجْھَہُ الْکَرِیْمسے) فرمایاکہ تم اللہ تعالیٰ کے نام اوربرکت سے اپنی زوجہ کے پاس جاؤ ۔ (المعجم الکبیرللطبرانی ، الحدیث۱۰۲۱ ، ج۲۲ ، ص۴۰۹ماخوذاً والحصن الحصین ، مایتعلق بامورالزواج ، ص۷۶)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع