30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اچھی اچھی نیتّوں کے ثواب کے تحفے پیش کئے۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
ایک لاکھ روپے کاچیک لَوٹا د یا
امیرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کا مقدّس گھرانا دُنیوی مال سے کس قدر اپنا دامن بچاتا ہے؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ مالی تحفے دینے سے منع کرنے کے باوُجودجب ایک اسلامی بھائی نے امیرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کی بارگاہ میں شہزادۂ حُضور مُدَّ ظِلُّہُ العَالی کیلئے = / 100000 (ایک لاکھ روپے )کا چیک بطور تحفہ بھجوایا تو امیرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہنے شکریہ کے ساتھ واپس کرتے ہوئے تحریری پیغام بھیجا کہ برائے کرم! دوبارہ اس کیلئے اِصرار نہ فرمائیں۔ بعد اَزْاں (اَزْ۔ آں )چیک دینے والے اسلامی بھائی کے گھر والوں کی طرف سے امیرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہکے گھر انکی بڑی ہمشیرہ کے پاس ایک لاکھ روپے نقد پہنچانے کی کوشش کی گئی مگر وہاں بھی انہیں مایوسی ہوئی کیونکہ انہوں نے بھی رقم لینے سے معذرت کرلی اور شکریہ کے ساتھ پیسے واپس کردئیے۔
امیرِاہلِسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کی ہمشیرہ کا کہنا ہے کہ جب میں نے حاجی اَحمد عُبید رضاکو =/100000 روپے کے تحفے کے بارے میں بتایا تو شہزادے نے بتایا : ’’چیک کی سوغات سب سے پہلے میرے پاس ہی پہنچی تھی مگر میرے انکار کرنے پرہی انہوں نے باپاجان ، پھر آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ ‘‘
نہ مجھ کو آزما دنیا کا مال و زَر عطا کر کے
عطا کر اپنا غم اورچشمِ گریاں یا رسول اللہ (ارمغان مدینہ)
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
نگرانِ شورٰی سَلَّمَہُ رَبُّ الْورٰی نے بتایا کہ مجھے کئی مخیر حضرات کے فون آئے جن کاکروڑوں کا کاروبار ہے کہ ہم شہزادہ حضور دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہکی خدمت میں اُن کی پسند کا تحفہ پیش کرنا چاہتے ہیں ، مہربانی فرما کر شہزادہ حضورمُدَّظِلُّہُ العَالی سے معلوم کرکے بتا دیں۔ جب میں نے شہزادۂ عطارؔ مُدَّظِلُّہُ العَالی کی بارگاہ میں تحفے سے متعلق عرض کی تو انہوں نے منع کرتے ہوئے فرمایاکہ اگر وہ مجھے کچھ دینا ہی چاہتے ہیں تو مَدَ نی انعامات پر عمل اورمَدَنی قافلے میں سفر کرکے اُس کے ثواب کاتحفہ دے دیں ۔
دنیا پَرَست زرپہ مَرے گُل پہ عَنْدَلیب
اپنا تو انتخاب مدینے کا ہے بَبول
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
امیرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہنے اپنی اکلوتی بیٹی کی شادی بھی سادگی کو ملحوظ رکھتے ہوئے عین سنّت کے مطابق کرنے کی کوشش فرمائی تھی۔ امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے ایک مَدَنی مذاکرے میں کچھ یوں ارشاد فرمایا : میں نے پوری کوشش کی کہ حضرت سیدتنا فاطمہ رضی اللہ تعا لی عنہا کو میرے آقا صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم نے جو جو عنایت فرمایا اس کی پیروی کی جائے ،
واسطے جن کے بنے دونوں جہاں
اُن کے گھر تھیں سیدھی سادھی شادیاں
اس جہیزِ پاک پہ لاکھوں سلام
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع