30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انہوں نے اپنے والد یعنی امیرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہکی روایت کو برقرار رکھاکہ انہوں نے بھی شبِ زِفاف کی صبح مسجد نور(کاغذ ی بازار باب المدینہ کراچی)میں نمازِ فجر کی حسبِ معمول امامّت فرمائی تھی۔
نمازوں میں مجھے سُستی نہ ہو کبھی آقا
پڑھوں پانچوں نمازیں باجماعت یا رسول اللہ
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
دُھوم دھام سے ولیمہ کرنے کا مطالبہ
امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے مَدَنی مذاکرے کے دوران کچھ یوں ارشاد فرمایا : دُھوم دھام سے ولیمہ کا بھی بہت اِصرار رہا۔ کسی نے آفر بھی کی کہ 200دیگیں بلااجُرت پکا دیں گے ، بس دو لاکھ روپے کا سامان آئے گا۔ میں نے کہا : دو لاکھ روپے تو میرے پاس نہیں ہیں ، مگر میرے لیے دو لاکھ روپے جمع کرنا مشکل بھی نہیں ہے ، بس یہی ہوگا کہ جس سے کہوں گا اُس کے دل میں میری جو عزت ہوگی وہ ختم ہوجائے گی ، دو چارسیٹھوں کو فون کردوں گا ، تھوڑی سی خوشامد کرنا پڑے گی جو کہ میرے مزاج میں نہیں ہے ، 200کی جگہ1200 دیگیں ہوجائیں گی ، یوں میرے بیٹے کا ولیمہ تو دھوم دھام سے ہوگااور آپ لوگ بھی خوش ہوجائیں گے مگر مجھے اس کے لئے اپنی خُودداری کا سودا کرنا پڑے گا ۔ پھر آپ نے بطورِ ترغیب ایک واقعہ بھی سُنایا؛
ایک پیر صاحب کے ہاں لنگر خانہ چل رہا تھا ۔ ایک صاحبِ ثروت مُرید پیسے دینے کی ترکیب کررہا تھا ۔ لنگر خانے کے منتظم نے عرض کی : حضور! اب وہ مہنگائی بڑھ گئی ہے ، بہت دقّت ہورہی ہے ، اگر آپ اِس لنگر خانے کا خرچہ دینے والے مرید کو اشارہ کردیں گے کہ وہ رقم دُگنی کردے تو اپنا لنگر خانہ ذرا آسانی سے چلے گا۔ پیر صاحب اس پر راضی ہوگئے اور اُس مرید کو فرمایا کہ اﷲتعالیٰ نے تجھے بہت دیا ہے ، تم ماہانہ چندہ دُگنا کر دو۔ اس مُرید نے سعادت مندی سے جواب دیا : مرشد آپ کا حکم سر آنکھوں پر۔ کچھ عرصے کے بعدلنگر خانے کے منتظم نے پوچھا حضور ! آپ نے رقم میں اضافہ کے لئے کہا یا نہیں؟ پیر صاحب نے فرمایا کہ میں نے اس سے کہہ دیا تھا اور اس نے دوگنا بھی کردیا ہے مگر فرق یہ ہے پہلے بڑی عقیدت سے آکر پیش کرتا تھا ، اب خود نہیں آتا بھجوادیتا ہے۔
(پھر امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے فرمایا)ان شاء اﷲ عزوجل میرا بیٹا (یعنی حاجی احمد عبید رضا عطاری سَلَّمَہُ الْغَنِی)خود ولیمہ کی سنت ادا کرے گا۔ دُھوم دھام سے نہ سہی مگر ولیمہ ہوگا۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
شہزادۂ عطارمدظلہ العالی نے امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کی حسبِ خواہش انتہائی سادگی سے دعوت ِ ولیمہ کا اہتمام فرمایا جس میں صرف دعوتِ اسلامی کی مرکزی مجلسِ شوریٰ کے تمام اراکین اور تین یا چار دوسرے اسلامی بھائیوں کو مدعو کیا لیکن کھانے کے وقت گھر کے باہر جمع ہونے والے دیگر عقیدت مند اسلامی بھائیوں کوبھی اندربلوالیا گیا۔ اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ بھی ولیمے میں شریک تھے۔ دعوتِ ولیمہ میں دال اور چاول پیش کئے گئے۔ امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے بتایاکہ ’’کھانا گھر میں پکایا گیا ہے ، دال پانی میں پکائی گئی ہے اور اس میں تیل کا ایک قطرہ بھی نہیں ڈالا گیا ۔ ‘‘مگر کھانے والوں کا کہنا ہے کہ دال چاول حیرت انگیز طور پر انتہائی لذیذ تھے۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
شہزادہ عطّار کو ملنے والے تحائف
امیرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کی طرف سے دی گئی مَدَنی سوچ کے باعث دنیا بھر سے اسلامی بھائیوں اوراسلامی بہنوں نے دنیوی تحائف کے بجائے بَہُت سے نیک اعمال مَثَلاً ہزاروں قرآن پاک ، دُرُودِ پاک اور مختلف اَذ کار ، مَدَنی انعامات اور کئی اسلامی بھائیوں نے مَدَنی قافِلوں میں سفر کرنے اور دیگر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع