30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
امیرِ اہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ نے کچھ یوں ارشاد فرمایا : مجھ سے اصرار کیا گیا کہ اجتماعِ ذکرونعت کے شرکاء میں کوئی چیز تقسیم کی جائے ، کسی نے یہ مشورہ بھی دیا کہ چل مدینہ کے 7 حُرُوف کی نسبت سے سات سات چھوہاروں پر مشتمل پیکٹ تقسیم کردئیے جائیں ، اس کے نمونے (sample)سیمپل بھی آگئے تھے مگر میں نے منع کردیا اس لئے نہیں کہ رقم بہت خرچ ہوتی بلکہ یہ سوچ کر کہ یہ چھوہارے ہم بانٹیں گے کس جگہ ؟ اگر مسجد میں بانٹتے ہیں تو رش کی وجہ سے مسجد میں شوروغل ہوگا جو احترامِ مسجد کے منافی ہے اور اگر باہر بانٹتے ہیں تو راستے بند ہوجانے کا خدشہ ہے جس سے گزرنے والوں کی حق تلفی ہوگی۔ پھر عوام کے جمِ غفیر کو قابو کرنا بے حد مشکل ہے ، چھینا جھپٹی میں زور آورتو شاید کئی کئی پیکٹ لے اُڑے مگر جو بے چارہ کمزور ہوگاہجوم میں پِس کر رہ جائے ، لہٰذا سمجھ نہیں پڑتی تھی کہ کہاں بانٹیں ؟ چنانچہ طے ہوا کہ چھوہارے نہیں بانٹے جائیں گے۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
غوثِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی تشریف آوری
ایک اسلامی بھائی کا بیان ہے کہ اجتماعِ ذکر ونعت کے آخری لمحات میں جب منچ پر شہزادۂ عطار مُدَّ ظِلُّہُ العَالی اورامیرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہتشریف فرما تھے اور امیرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ کاتَحریرکردہ منظوم دعائیہ سہرا پڑھا جارہا تھا۔ (جس کے اشعارصفحہ 71پر پیش کئے گئے ہیں۔ ) اُن اسلامی بھائی کا کہنا ہے کہ اِس دوران میری آنکھ لگ گئی ، کیا دیکھتا ہوں کہ دو بُزُرگ تشریف لائے ، مجھے بتایا گیا کہ ان میں ایک حضور سیدناغوثِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اوردوسرے اعلیٰ حضرت امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمنہیں۔ پھردونوں بُزُرگوں نے امیرِ اَہلسنّت دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہ اور شہزادۂ عطّار دامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہکے گلے میں ہار پہنائے۔
ان کی شادی خانہ آبادی ہو رَبّ ِمصطَفٰے
اَز پئے غوثُ الوَرٰی بہرِامام اَحمدرضا (ارمغانِ مدینہ)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
امیرِ اَہلسنّتدامَت بَرَکاتُہُمُ العالیہنے پہلے ہی سے تاکید کردی تھی کہ کسی صورت میں کوئی غیر شرعِی رَسْم یا معاملہ نہ ہونے پائے بلکہ وقتِ رخصتی بھی تمام معاملات عین شَرِیْعَتْ کے دائرے میں رہتے ہوئے ہونے چاہئیں۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّآپ کی اِس خواہش کو عملی جامہ پہنایا گیااور آخر تک ہر ہر معاملہ عین شَرِیْعَتْ کے مطابق رکھنے کی ہی کوشش کی گئی۔ حتیٰ کہ رخصتی کے وقت جو خواتین دلہن کو چھوڑنے کیلئے رَسْم کے طور پر آتی ہیں اس سے پیشگی منع کردیا گیا کہ صرف دلہن کا سگا بھائی شَرْعِی پردے کے ساتھ دلہن کولے آئے۔ اس شادی میں امیرِاہلسنّت دامت برکاتہم العالیہ کے گھر والوں کی طرف سے بھی اسلامی بہنوں کے لئےکوئی تقریب نہیں رکھی گئی تھی۔ ؎
میری جس قدر ہیں بہنیں سبھی کاش برقع پہنیں
ہو کرم شہِ زمانہ مَدَنی مدینے والے
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
شبِ زِفاف کی صبح شہزادۂ عطار حاجی اَحمد عُبید رضا مُدَّ ظِلُّہُ العَالی نے عالمی مَدَنی مرکز فیضانِ مدینہ میں حسب ِمعمول نمازِ فجر پڑھائی۔ اس طرح
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع