30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مُفَسّٕرٕ شَہٕیْر ، حکیم الامتْ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْحَنَّان اِس آیَتِ کریمہ کے تَحت “ تفسیرِ نورُ العرفان “ میں فرماتے ہیں : اِس آیَتِ کرِیمہ سے معلوم ہوا کہ گناہ ومَعاصی کے باوُجُود دُنیوی راحتیں ملنا اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکا غضَب اور عذاب (بھی ہو سکتا) ہے کہ اِس سے انسان اور زیادہ غافل ہو کر گناہ پر دِلیرہو جاتا ہے ، بلکہ کبھی خیال کرتا ہے کہ “ گناہ اچّھی چیز ہے ورنہ مجھے یہ نعمتیں نہ ملتیں “ یہ کُفْرہے ۔[1] مزید فرمایا : نعمت پر خوش ہونا اگر فخر ، تکبُّر اور شیخی کے طور پر ہو تو بُرا ہے اورطریقۂ کُفّار ہے اور اگر شُکْر کے لئے ہو تو بہتر ہے ، طریقۂ صالحین ہے۔
حضرتِ سَیِّدُنا اَبُو زکریَّا تیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : “ خلیفہ سُلیما ن بن عبدالملِک مسجد ِحَرام شریف میں موجود تھا کہ اُس کے پاس ایک پتَّھر (Stone)لایا گیا جس پر کوئی تحریر کنْدہ (Engraved)تھی۔ اُس نے اَیسے شخص کو بُلانے کا کہا جو اِس کو پڑھ سکے۔ چُنانچہ ، مشہور تابعی بزرگ حضرتِ سیِّدُنا وَہب بن مُنَبِّہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ تشریف لائے اور اسے پڑھا ، اس میں لکھا تھا : “ اے ابنِ آدم! اگر تُو اپنی موت کے قریب ہونے کو جان لے تو لمبی لمبی اُمیدوں سے کنارہ کشی اِختیار کرکے اپنے نیک عمل میں زِیادَتی کا سامان کرے اورحِرص ولالچ اور دنیا کمانے کی تدبیریں کم کرد ے ۔ (یاد رکھ!) اگر تیرے قدم پھسل گئے تو روزِقِیامت تجھے نَدامت کا سامنا ہو گا۔ تیرے اَہل وعیال تجھ سے بے زار ہوجائیں گے اور تجھے تکلیف میں مبتَلا چھوڑ دیں گے۔ تیرے ماں باپ اور عزیز واَ حباب بھی تجھ سے جُدا ہوجائیں گے ۔ تیری اَولاد اور قریبی رشتے دار تیرا ساتھ نہ دیں گے۔ پھر تُو لوٹ کردنیا میں آسکے گانہ ہی نیکیوں میں اِضافہ کرسکے گا۔ پس اُس حسرت ونَدامت کی ساعت سے پہلے آخِرت کیلئے عمل کرلے۔ “[2]
وہ ہے عیش و عشرت کا کوئی مَحل بھی
جہاں تاک میں ہر گھڑی ہو اَجَل بھی
بس اب اپنے اس جَہْلْ سے تُو نکل بھی
یہ جینے کا انداز اپنا بدل بھی
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!عَقْلْمند کو چاہئے کہ وہ اپنی گزَشتہ زِندگی کا جائزہ لے ، اپنے گناہوں پر نادِم ہوکر ان سے سچی توبہ کرے ، زِیادہ دیر زِندہ رہنے کی اُمید کے دھوکے میں نہ پڑے بلکہ قَبْرو آخِرت کی تیّاری کیلئے فوراً نیک اَعمال میں لگ جائے ، دَولت و مال اور اَہل وعیال کی محبَّت میں نیکیاں چھوڑے نہ گناہوں میں پڑے کہ ان سب کا ساتھ تو دم بھر کاہے اور نیکیاں قَبْروآخِرت بلکہ دنیامیں بھی کام آئیں گی۔
عزیز ، اَحْباب ، ساتھی دم کے ہیں ، سب چُھوٹ جاتے ہیں
جہاں یہ تار ٹوٹا ، سارے رِشتے ٹوٹ جاتے ہیں
میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو!ایسی فکرِ آخِرت اُسی وَقْت حاصل ہوسکتی ہے جب ہم موت کو ہروَقْت اپنی آنکھوں کے سامنے رکھیں اور اس دارِ فنا کی فانی اَشیاء کی دل میں کچھ وُقْعَت ہی نہ سمجھیں۔ بلکہ جب بھی اِس دنیا کی کسی چیز کو دیکھ کر خوشی حاصل ہوتو فوراً یہ بات یاد کریں کہ عنقریب یہ فنا ہو جائیگی یا مجھے اِسے چھوڑ کر جانا پڑے گا۔ ؎
جب اس بَزم سے اُٹھ گئے دوست اکثر
اور اٹھتے چلے جارہے ہیں برابر
یہ ہروقْت پیشِ نظر جب ہے منظر
یہاں پر تِرا دل بہلتا ہے کیونکر
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
سود خور کا مال اسے کوئی نفع نہیں دیتا :
سود خور جب مرے گا تو اس کا مال اسے کوئی نفع نہ دے گا بلکہ وہ اپنا سب مال و اسباب پیچھے چھوڑ جائے گا ۔
صاحبِ جُودو نوال ، رسولِ بے مثال ، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : “ بندہ کہتا ہے ميرا مال ، ميرا مال۔ حالانکہ اس کا مال توصرف تین طرح کا ہے : (۱)جو اس نے کھا کر فنا کر ديا (۲) جوپہن کر بوسيدہ کر ديا اور (۳) جو صدقہ کر کے محفوظ کر ليا۔ اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ لوگوں کے لئے چھوڑ کر چلا جائے گا۔ “[3]
سود خور چونکہ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی اور غضب کی پرواہ نہیں کرتا بلکہ صرف مال کی زیادتی کوترجیح دیتا ہے۔ پس اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ نہ صرف اس زیادتی کو ختم کر دیتا ہے بلکہ اصل مال کو بھی
[1] یعنی گناہ کو گناہ تسلیم کرنا فرض ہے۔ اِس کو جان بوجھ کر اچّھا کہنا یا اچّھا سمجھنا کُفْر ہے۔ کفریہ کلمات کی تفصیلات جاننے کے لئے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ 692 صفْحات پر مشتمل کتاب “ کفریہ کلِمات کے بارے میں سُوال جواب “ کا مطالَعہ فرمایئے۔
[2] ذَمُّ الھَویٰ ، الکتاب الخمسون ، الحدیث ۱۲۸۰ ، ص۴۳۶
[3] صحیح مسلم ، کتاب الزھدوالرقائق ، الحدیث : 2958، ص1582
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع