30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سود خور کے دل سے رحم نکل جاتا ہے اسے کسی پر ترس نہیں آتا ، مجبور سے مجبور شخص اس کے آگے ایڑیاں رگڑتا ہے اور اگر وہ سرکی ٹوپی اتار کر اس کے پاؤں پر رکھ دے تو بھی اسے رحم نہیں آتا۔ کیونکہ سود نے اس کے قلب کو کالا کر دیا ہے۔ اوروہ ہر ایک کی مالی مدد سود ہی کی خاطر کرتا ہے اور اس طرح قرض دینے کے اس عظیم اجر و ثواب سے بھی محروم ہو جاتا ہے جیسا کہ بیان ہوا کہ قرض دینے سے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کس قدر راضی ہوتا ہے ، قرض دینے سے اس کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کیسے راضی ہوتے ہیں ،
قرض دینے سے کس قدر مسلمانوں کی خیرخواہی ہوتی ہے ، قرض دینے سے مسلمان کس قدر خوش ہو جایا کرتا ہے لیکن چونکہ سود کی لعنت اس کے اُوپر پڑ گئی اب یہ کسی کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا اور اُخروی ثواب کی خاطر قرض دینے کے لئے تیار ہی نہیں ہے بلکہ جسے بھی قرض دیتا ہے سود کے نام پر دیتا ہے۔
حضورنبی پاک ، صاحبِ لولاک ، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے : “ جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اس پر رحم نہیں فرماتا۔ “[1]
سود خور ، گھر کے گھر تباہ وبرباد کرتا ہے ، سب کو اجاڑ کر اپنا گھر بناتا ہے اور مال کی محبت میں دیوانہ وار گھومتا رہتا ہے ، صدقہ وخیرات کرنا بھی گوارا نہیں کرتا کہ کہیں مال کم نہ ہو جائے۔ کیونکہ یہی رقم کا وہ ڈھیر ہے جس سے اسےآمدنی حاصل کرنی ہے۔ یہ بدنصیب دولت کا ڈھیر جمع کرنے میں اس قدر حرص کا شکار ہو جاتا ہے کہ اپنے اہل و عیال پر بھی رقم خرچ نہیں کرتا اور اپنے اہل و عیال کو بھی صحیح معنوں میں کھلاتا پلاتا نہیں ، بس مال و دولت کی گٹھڑیاں جمع کرتا چلا جاتا ہے۔ اور آخر کار دولت کی یہی ہوس و حرص اسے جہنم کی آگ کا ایندھن بنا ڈالتی ہے۔
شفیعُ ا لمذنبین ، انیسُ الغریبین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : “ تم ميں سے ہر ايک کے ساتھ Q عَزَّ وَجَلَّ يوں کلام فرمائے گا کہ اسکے اور اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کے درميان کوئی ترجمان نہ ہو گا ، جب وہ بندہ اپنی دائيں جانب نظر ڈالے گا تو اسے وہی کچھ نظر آئے گا جسے اس نے آخرت کیلئے آگے بھيجا تھا اور جب وہ اپنی بائيں جانب نظر ڈالے گا تو اسے وہی نظر آئے گا جسے اس نے آگے بھيجا تھا ، پھر جب وہ اپنے سامنے ديکھے گا تو اسے آگ کے سوا کچھ نظر نہ آئے گا ، لہٰذا آگ سے ڈرو ، اگرچہ ايک ہی کھجور کے ذريعے ہو۔ “[2]
آہ ! یہ مال کی ہوس اہل وعیال پر صحیح معنوں میں کچھ خرچ کرنے دیتی ہے نہ راہٕ خدامیں کچھ خرچ کرنے دیتی ہے۔ یاد رکھئے کہ مال و جاہ کی ہوس دین و ایمان کے لئے بے حد خطرناک ہے۔ چنانچہ،
حضرت کعب بن مالک انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نُبوت ، مَخْزنِ جودوسخاوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ دو بھوکے بھیڑیئے جنہیں بکریوں میں چھوڑ دیا جائے اتنا نقصان نہیں پہنچاتے جتنا کہ مال اور مرتبہ کا لالچ انسان کے دین کو نقصان پہنچاتا ہے۔ “[3]
تو یہ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے ڈھیل ہے :
اے سودخور!ربِّ عزیز وقدیر عَزَّ وَجَلَّ کی خُفیہ تدبیرسے خبردار!خبردار! خبردار! کہیں ایسانہ ہو کہ ملی ہوئی جانی ، مالی نعمتوں اورآسانیوں کے ذَرِیْعے طرح طرح کے گناہوں کا سِلسِلہ بڑھتا رہے اور کسا کسایا سُڈول (یعنی خوبصورت) بدن اور مال و دَھن جہنَّم کا ایندھن بننے کا سبب بن جائے ۔ اِس ضمن میں حدیثِ نبوی مع آیتِ قرآنی ملاحظہ کیجئے اور اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی خُفیہ تدبیر سے تھرّایئے : حضرتِ سیِّدُنا عُقْبہ بن عامر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے رِوایت ہے ، حضورنبیٔ پاک ، صاحبِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرَتنشان ہے : “ جب تم دیکھو کہ اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ دُنیا میں گناہ گار بندے کو وہ چیزیں دے رہا ہے جو اُسے پسند ہیں تو یہ اُس کی طرف سے ڈِھیل ہے۔ “ پھر یہ آیَتِ کریمہ تِلاوت فرمائی :
فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖ فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ اَبْوَابَ كُلِّ شَیْءٍؕ-حَتّٰۤى اِذَا فَرِحُوْا بِمَاۤ اُوْتُوْۤا اَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً فَاِذَا هُمْ مُّبْلِسُوْنَ(۴۴) (پ7 ، الانعام : 44)
ترجمۂ کنزالایمان : پھر جب انہو ں نے بھلا دیا جو نصیحتیں انکو کی گئی تھیں ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے یہاں تک کہ جب خوش ہوئے اس پر جو انہیں ملاتو ہم نے اچانک انہیں پکڑلیااب وہ آس ٹو ٹے رہ گئے۔[4]
گنُاہوں کو اچّھا سمجھنا کُفْر ہے :
[1] صحیح مسلم ، کتاب الفضائل ، باب رحمته صلى الله تعالیٰ عليه وسلم۔۔۔۔الخ ، الحدیث : 2319، ص1268
[2] صحیح مسلم ، کتاب الزکاۃ ، باب الحث علی الصدقۃ ولو بشق۔۔۔ الخ ، الحدیث : 1016، ص507
[3] سنن الترمذی ، كِتَاب الزُّهْدِ ، باب 43، الحدیث : 2383، ج4 ، ص 166
[4] مُسْنَدللامام احمدبن حنبل ، حدیث : ۱۷۳۱۳ ، ج ۶ ، ص ۱۲۲
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع