دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sood aur us ka Ilaj | سود اور اس کا علاج

book_icon
سود اور اس کا علاج

٭ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ امپورٹ (Import)ایکسپورٹ (Export)بڑھانا ہے؟ کوئی بات نہیں ، قرض (Loan)لے لو ، سود دے دینا۔

٭ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پلاٹ خریدنا ہے؟ قیمتیں بڑھ رہی ہیں ، خوب رقم لگانے (Financing) کا موقع ملا ہے ، کوئی مسئلہ نہیں ، ڈرنا نہیں ، ادارے بہت ہیں ، سود پر قرض لے لو ، زمین (Land) خرید لو ، کارنر (Corner) کا پلاٹ خرید لو ، جلدی جلدی قرض لے لو ، ہاں ہاں کوئی مسئلہ نہیں ، بَس سود دے دینا۔

         آج مختلف ذرائع اِبلاغ (Media) کے ذریعے مسلمانوں کو مختلف لالچ دے کر شرحِ سود (Interest rate)کم کر کے سود پر قرض (Loan)لینے پر اُکسایا جا رہا ہے ، سود کی درخواست (Application) داخل کرنے پر قرعہ اندازی اور انعامات کا لالچ دیا جا رہا ہے۔

       میرے میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو! ہمیں کیا ہو گیا ہے ؟ ارے مال و دنیا اور بیوی بچوں کی بے جامحبت نے اتنا اندھا کر دیا کہ سودی کاروبار اور سودی لین دین میں پڑ گئے۔ اگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ناراض ہو گیا اور اس کے پیارے حبیب ، حبیبِ لبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ روٹھ گئے اور سود کی وجہ سے عذاب نے آلیا  تو  کیا کریں گے؟

سود خور کو اعلانِ جنگ :

         سود خور کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور رسولِ اَکرم ، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف سے جنگ کا اعلان ہے۔ چنانچہ ، ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۚ-وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْۚ-لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ(۲۷۹) (پ3 ، البقرۃ: 279)

ترجمۂ  کنز الایمان : پھر اگر ایسا نہ کرو تو یقین کرلو اللّٰہ اور اللّٰہ کے رسول سے لڑائی کا اور اگر تم توبہ کرو تو اپنا اصل مال لے لو نہ تم کسی کو نقصان پہنچاؤ نہ تمہیں نقصان ہو۔

         علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ دو مجرموں کے سوا کسی کو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے اعلانِ جنگ نہیں کیا گیا : ایک سود لینا اور  دوسرے اولیاء اللہ سے عداوت رکھنا۔ چنانچہ ،

       حضورنبی پاک ، صاحبِ لولاک ، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرماتاہے : “ جس نے میرے کسی ولی سے عداوت رکھی میں نےاس کے ساتھ اعلانِ جنگ کیا ، میرے کسی بندے نے میرے فرائض کی بجاآوری سے زیادہ محبوب شے سے میرا قرب حاصل نہیں کیا اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں ، جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے ، اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے ، اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے ، اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں اسے ضرور عطا فرماتا ہوں اور اگر کسی چیز سے میری پناہ چاہے تو میں اسے ضرور پناہ عطا فرماتا ہوں۔ “[1]

         یعنی جو سود لیتا ہے اس سے بھی اعلانِ جنگ ہے اور جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ولی سے عداوت وبغض رکھتا ہے اس کے لئے بھی اعلانِ جنگ ہے۔

         اے سود خورو! تم اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے پیارے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ سے اُخروی یا دُنیاوی جنگ کا یقین کر لو ، تمہیں دنیا و آخرت میں عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ غور کر لو ، سوچ لو ، کیا تم اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ سے لڑ سکتے ہو؟ کیا تم عذابِ الہٰی کو برداشت کر سکتے ہو؟ ہر گز نہیں ، ہر گز نہیں۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم! کوئی شخص لمحہ بھر عذابِ الہٰی برداشت نہیں کر سکتا۔

         اے سود خورو! تم مکھی مچھر کا مقابلہ نہیں کر سکتے ، ایک معمولی بیماری (Disease)برداشت نہیں کر سکتے تو گناہ کس ہمت پر کرتے ہو؟ توبہ کر لو ، عاجزی اختیار کر لو اور چھوڑ دو تمام سودی کاموں کو ۔ ؎

کر لے توبہ رب کی رحمت ہے بڑی

قَبر میں ورنہ سزا ہو گی کڑی

سود کی نحوست اور اس کی تباہ کاریاں

(The Curse of Interest)

       میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو!آئیے! سود کی نحوست اور اس کی دنیا و آخرت کی تباہ کاریاں جانتے ہیں ، کیونکہ اب سودی ادارے گھر گھر ، دفتر دفتر جا کر سود پر رقم دینے کے لئے عملہ (Staff)رکھ رہے ہیں ، کہیں میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو! آپ نہ پھسل جانا ، کوئی آ کر آپ کو دولت کمانے کا فارمولہ بتا کر سودی قرض لینے میں مبتلا نہ کر دے کہ سود سے دنیا بھی برباد ہوتی ہے اور آخرت بھی۔

سود خور حاسد بن جاتا ہے :

         سود خور حاسد بن جاتا ہے ۔ اس کی تمنا ہوتی ہے کہ اس سے قرض لینے والا نہ تو کبھی پھلے پھولے اور نہ ہی ترقی کرے ، کہ اُس کے پھلنے پھولنے میں اِس کی آمدنی تباہ ہوتی ہے۔ کیونکہ جس نے اِس سے سود پر قرض لیا اگر وہ ترقی کر جائے گا اور قرض اتار دے گا تو اس کی آمدنی ختم ہوجائے گی۔ یہی حسد اسے کہیں کا نہیں چھوڑتا۔

         ماہِ نُبُوَّت ، منبعِ جود وسخاوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : “ حسد (Envy,Jealousy)سے بچتے رہو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کوکھا جاتی ہے۔ “[2]

 



([1])                          صحیح البخاری ، کتاب الرقاق ، باب التواضع ، الحدیث :  6502، ج4 ، ص248

[2]         سنن ابی داؤد ،  کتاب الادب ،  باب فی الحسد ،  الحدیث4903 ، ج4 ، ص361

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن