30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ﳔ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِؕ-وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى(۱۳۱) (پ16 ، طہ : 311)
اپنی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھ اس دنیاوی زندگی کی طرف جو ہم نے کافروں کے کچھ مردوں و عورتوں کے برتنے کو دی تا کہ وہ اس کے فتنہ میں پڑ ے رہیں اور
ہمارییاد سے غافل ہوں اور تیرے رب کا رزق بہتر ہے اور باقی رہنے والا۔ [1]
اَسلاف کا اندازِ حیات :
میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو! ہمارے اسلاف کے اندازِ حَیات کی کچھ جھلک ملاحظہ کیجئےکہ کس طرح دُنیاوی عیش و آرائش سے دور رہ کر آخرت کو بہتر بنانے والی زندگی گزارتے تھے۔ چنانچہ ،
حضرتِ سَیِّدُنا ابنِ مُطِیع علیہ رَحْمۃُ السَّمِیع نے ایک دن اپنے بارونق گھر کو دیکھا تو خوش ہوگئے مگر پھر فوراً رونا شروع کردیا اور فرمایا : “ اے خوبصورت مکان! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !اگر موت نہ ہوتی تو میں تجھ سے خوش ہوتا اور اگر آخِرکار تنگ قَبْر میں جانا نہ ہوتا تو دنیا اور اس کی رَنگینیوں سے میری آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں۔ “ یہ فرمانے کے بعد اِس قَدَر روئے کہ ہچکیاں بندھ گئیں۔[2]
دنیا آخِرت کی تیّاری کیلئے مخصوص ہے :
حضرتِ سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جو سب سے آخِری خُطبہ ارشاد فرمایا اس میں یہ بھی ہے : “ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہیں دنیا محْض اس لئے عطا فرمائی ہے کہ تم اسکے ذَرِیعے آخِرت کی تیّاری کرو اور اِس لئے عطا نہیں فرمائی کہ تم اسی کے ہوکر رَہ جاؤ ، بیشک دنیا محْض فانی اور آخِرت باقی ہے۔ تمہیں فانی(دنیا) کہیں بَہکا کر باقی (آخرت)سے غافل نہ کر دے ، فنا ہو جانے والی دنیا کو باقی رہنے والی آخِرت پرتَرجیح نہ دوکیونکہ دنیا مُنْقَطِعْ (مُنْ۔ قَ۔ طِعْ) ہونے والی ہے اور بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف لوٹنا ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈرو کیونکہ اس کا ڈر اس کے عذاب کیلئے (رَوک اور) ڈھال اور اُس تک پہنچنے کا ذَرِیْعہ ہے۔ “[3]
ہے یہ دنیا بے وفا آخِر فنا
نہ رہا اس میں گدا نہ بادشاہ
میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو! مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہاللہ عَزَّوَجَلَّ کے معاملہ میں چون و چرا کرے اور کفار کے مال کی فراوانی دیکھ کر اپنے آپ کو حرام روزی میں مبتلا کرے ، مگر ہائے افسوس! صد کروڑ افسوس! آج مسلمان بے باکی کے ساتھ گناہوں کی طرف بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ اور دنیا کی زیب و زینت میں اس قدر منہمک ہوتا جا رہا ہے کہ اسے اس بات کی بھی پرواہ نہیں رہی کہ جو قرض (Loan) لے رہا ہے وہ سود (Interest) پر مل رہا ہے یا بغیر سود(Interest)۔
٭ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کسی کا گھر ٹوٹا ہوا ہے ، جیب میں رقم نہیں ، پریشان ہے کہ کیا کروں؟ تو کوئی مشورہ دیتا ہے : “ ارے پریشان کیوں ہوتے ہو؟ بہت سے سودی ادارے بنے ہوئے ہیں ، تم بات تو کرو ، بات کرنے کی بھی حاجت نہیں ، فون تو کرو ، تمہیں گھر بنانا ہے ، قرض (Loan) لے لو ، وہ تمہیں قرض (Loan) دے دیں گے ، نتیجہ میں سود دے دینا۔ “
٭ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اچھا! تمہارا بچہ اس گھر میں خوش نہیں ہو رہا؟ کیوں پریشان ہو رہے ہو؟ اپنے بچے کو مت رُلاؤ! اسے خوش کرو ، یہ گھر بیچ کر بنگلہ لے لو ، کوئی مسئلہ نہیں ، قرض دینے والے ادارے بہت ہیں ، بس قرض لے لو ، سود دے دینا۔
٭ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فیکٹری بنانی ہے؟ پیداوار (Production) بڑھانی ہے؟ مزید کارخانے لگانے ہیں؟ کاروبار کو وسعت و ترقی دینی ہے؟ انویسٹمنٹ (Investment) نہیں ہے؟ سرمایہ (Capital) کم پڑ گیا ہے؟ کیوں پریشان ہو رہے ہو؟ سودی ادارے بہت ، قرض دینے والے ادارے بہت ، قرض لے لو ، سود دے دینا۔
٭ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ بیٹی کی شادی کرنا ہے؟ کیوں پریشان ہو؟ “ پریشان اس لئے ہو رہا ہوں کہ سادگی سے شادی تو کر لوں گا لیکن یہ رسومات (Customs, Traditions) ، یہ ڈھولک ، یہ مہندی ، یہ ناچ گانا ، یہ باجے ، یہ کئی کئی ڈِشوں کا کھانا اور پھر بہت سے لوگوں کو جمع کر کے اپنی شہرت چاہنے کی ہوس۔ اس کیلئے تو بہت بڑی رقم چاہئے۔ تو کوئی مشورہ دیتا ہے : “ کیوں پریشان ہوتے ہو؟ تم بھی اپنی بیٹی کی شادی کر لو گے ، پریشان مت ہو ، قرض دینے والے ادارے بہت ہیں ، قرض لے لو ، سود دے دینا۔ “
٭ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ گاڑی چاہئے؟ پیسے نہیں ہیں؟ کیا پرواہ ہے ، کیوں پریشان ہو رہے ہو؟ قرض لے لو ، سود دے دینا۔
٭ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ موٹر سائیکل چاہئے؟ قرض لے لو ، سود دے دینا۔ ٹریکٹر چاہئے؟ فصلوں کے لئے مال چاہئے؟
ان تمام چیزوں کے لئے پیسہ چاہئے؟ کوئی مسئلہ نہیں ، ادارے بہت ہیں ، قرض دینے والے بہت بڑھ گئے ہیں ، آؤ! آؤ! میں تمہیں قرض دلا دیتا ہوں۔ ہم پوچھیں گے : کیا یونہی قرض مل جاتا ہے؟ نہیں! نہیں!یونہی قرض نہیں ملے گا ، سود دے دینا ، بس تھوڑا سا سود ہی تو دینا ہے ، کما کما کر سود بھرتے جانا۔
٭ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بلڈنگ بنانی ہے؟ قرض لے لو ، سود دے دینا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع