30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آہ صد کروڑ آہ! آج ہمارے پیٹ میں اگر معمولی سا کیڑا چلا جائے ، تو طبیعت میں بھونچال آ جاتا ہے۔ قیامت کا یہ سخت عذاب کیسے برداشت کریں گے؟ سود کھانے والے لوگوں کے پیٹ اتنےبڑے ہوں گےجیسا کہ کسی مکان کے کمرے ہوں۔ ان میں سانپ اور بچھو وغیرہ ہوں گے۔ کس قدر بھیانک عذاب ہے۔ اللہ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی ہم سب کو سود کی آفت سے محفوظ فرمائے۔
سودی کاروبار میں شرکت باعثِ لعنت ہے :
حضرت سیِّدُنا جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب ، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ نے سود کھانے والے ، کھلانے والے ، اس کی تحریر لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت کی اور فرمایا کہ یہ سب (گناہ میں) برابر ہیں۔ [1]
اے سودی کھاتے لکھنے اور سود پر گواہ بننے والو! دیکھو کس قدر وعید مروی ہے۔
سود کھانا جیسے اپنی ماں سے زنا کرنا :
مکی مدنی آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہے : “ بے شک سود کے 72 دروازے ہیں ، ان میں سے کمترین ایسے ہے جو کوئی مرد اپنی ماں سے زنا کرے۔ “[2]
ایک روایت میں سرکارِ والا تَبار ، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہے : “ سود کے 70 دروازے ہیں ، ان میں سے کم تر ایسا ہے جیسے کوئی مرد اپنی ماں سے زنا کرے۔ “[3]
میرے آقا اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنت ، مجددِ دین و ملت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتْ فتاویٰ رضویہ ج 17 ، ص 307 پر اس حدیثِ پاک کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : “ تو جو شخص سود کا ایک پیسہ لینا چاہے اگر رسول اﷲ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کا ارشاد مانتا ہے تو ذرا گریبان میں منہ ڈال کر پہلے سوچ لے کہ اس پیسہ کا نہ ملنا قبول ہے یا اپنی ماں سے ستر ستر(70)بار زنا کرنا۔ سود لینا حرام قطعی و کبیرہ و عظیمہ ہے جس کا لینا کسی طرح روا نہیں۔ “[4]
میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو! اس پُر فتن دور میں بعض افراد سود (Interest) کے بارے میں بہت کلام کرتے ہیں اور طرح طرح سے سودی معاملات میں راہیں نکالنے کی کوشش کرتے ہیں ، کبھی کہتے ہیں کہ سود کی اتنی سخت روایات اور وعیدوں کی کیا حکمت ہے؟ کبھی کہتے ہیں اگر سودی کاروبار بند کر دیں گے تو بین الاقوامی منڈی (International Market) میں مقابلہ کیسے کر سکیں گے؟ کبھی کہتے ہیں دوسری قوموں سے پیچھے رہ جائیں گے۔ اور کبھی انتہائی کم شرحِ سود (Interest rate) کی آڑ لے کر لوگوں کو اکساتے ہیں ، طرح طرح کی بد ترین راہیں کھولنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنت ، مجددِ دین و ملت ، پروانۂ شمعِ رسالت ، مولانا الشاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرََّحْمٰن فتاویٰ رضویہ شریف میں اسی قسم کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : “ کافروں نے اعتراض کیا تھا : (اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰواۘ ۘ) بےشک بیع بھی تو سود کی مثل ہے۔ تم جو خریدو فروخت کو حلال اور سود کو حرام کرتے ہو ان میں کیا فرق ہے؟ بیع میں بھی تو نفع لینا ہوتا ہے۔ “
یہ اعتراض نقل کرنے کے بعد اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتْ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمان نقل کیا : (وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰواؕ- ( یعنی اللہ نے حلال کی بیع اور حرام کیا سود۔ اور پھر ارشاد فرمایا : “ تم ہوتے ہو کون؟ بندے ہو ، سرِ بندگی خم کرو۔ حکم سب کو دیئے جاتے ہیں ، حکمتیں بتانے کے لئے سب نہیں ہوتے ، آج دنیا بھر کے ممالک میں کسی کی مجال ہے کہ قانون ملکی کی کسی دفعہ پر حرف گیری کرے کہ یہ بےجا ہے ، یہ کیوں ہے؟ یوں نہ ہونا چاہئے ، یوں ہونا چاہئے۔ جب جھوٹی فانی مجازی سلطنتوں کے سامنے چون وچرا کی مجال نہیں ہوتی تو اس ملک الملوک ، بادشاہِ حقیقی ، اَزَلی ، اَبدی کے حضور کیوں اور کس لئے ، کا دم بھرنا کیسی سخت نادانی ہے۔ “[5]
اور جو ان احکامات کو قید و بند سے تعبیر کرتا ہے کہ یہ کیسی قیود ہم پر لازم کر دی گئیں؟ اسے اعلیٰ حضرت ، مجددِ دین و ملت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّتْ سمجھا رہے ہیں : “ جو آج بے قیدی چاہے کل نہایت سخت قید میں شدید قید میں گرفتار ہو گا۔ اور جو آج احکام کا مُقیَّد رہے کل بڑے چَین کی آزادی پائے گا۔ “
اس کے بعد ارشاد فرماتے ہیں کہ دنیا مسلمان کے لئے قید خانہ ہے ، کافر کے لئے جنت ، مسلمانوں سے کس نے کہا کہ کافروں کی اموال کی وسعت اور طریقِ تحصیلِ آزادی اور کثرت کی طرف نگاہ پھاڑ کر دیکھے۔ اے مسکین !تجھے تو کل کا دن سنوارنا ہے :
یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ(۸۸) اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍؕ(۸۹) (پ19 ، الشعراء : 88 ، 98)
جس دن نہ مال نفع دے گا نہ اولاد ، مگر جو اللہ کے حضور سلامتی والے دل کے ساتھ حاضر ہوا ۔
اے مسکین! تیرے رب نے پہلے ہی تجھے فرمادیا ہے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع