دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sood aur us ka Ilaj | سود اور اس کا علاج

book_icon
سود اور اس کا علاج

پانچواں علاج سود سے بچنے کا حیلہ :

میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو! جہاں تک ممکن ہو سکے سودی کاروبار سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی کوشش کیجئے۔ اس لئے کہ اگر ہم نے علم اور علماء کرام سے اپنا تعلق استوار رکھا ہوتا تو وہ یقیناً ہمیں سود کی نحوست سے بچاؤ کا کوئی حل تجویز فرماتے۔ چنانچہ ،

دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۱۰۸ صَفحات پر مشتمل کتاب ، “ چندے کے بارے میں سوال جواب “ صَفْحَہ ۶۵ تا ۶۷  پر شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنّت ، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطّار قادری دَامَتۡ بَرَکَاتُہُمُ الۡعَالِیَہۡ حیلے کے شرعی دلائل کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ حِیلَۂ شَرعی کا جواز قرآن و حدیث اورفِقہِ حنفی کی مُعتَبر کُتُب میں موجود ہے۔ چُنانچہ ، حضرتِ سیِّدُنا ایّوب عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ کی بیماری کے زَمانے میں آپ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ کی زَوجۂ محترمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا ایک بار خدمتِ سراپا عظمت میں تاخیر سے حاضِر ہوئیں تو آپ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ نے قسم کھائی کہ “ میں تندُرُست ہو کر 100 کوڑے ماروں گا۔ “  صحّت یاب ہونے پر اللہ  عَزَّ   وَجَلَّ نے انہیں 100تیلیوں کی جھاڑو مارنے کا حکم ارشاد فرمایا۔[1]

 اللہ تبارَکَ وَ تَعالیٰ پارہ 23 سورۂ صٓکی آیت نمبر 44 میں ارشاد فرماتا ہے :

وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْؕ- ؕ (پ23 ،  ص ، 44)

ترجمۂ کنز الایمان : اور فرمایا کہ اپنے ہاتھ میں ایک (سو تنکوں والا) جھاڑو لے کر اس سے مار دے اور قسم نہ توڑ۔

 “ عالمگیری “ میں حٕیلوں کا ایک مستقل باب ہے جس کا نام “ کتابُ الحِیَل “ ہے۔ چُنانچِہ ، “ عالمگیری کتابُ الحِیَل “ میں ہے ، “ جو حِیلہ کسی کا حق مارنے یا اس میں شُبہ پیدا کرنے یا باطِل سے فَریب دینے کےلئے کیا جائے وہ مکروہ ہے اور جو حِیلہ اِس لئے کیا جائے کہ آدَمی حرام سے بچ جائے یا حلال کو حاصل کر لے وہ اچّھا ہے ۔ اس قسم کے حِیلوں کے جائز ہونے کی دلیل اللہ  عَزَّ   وَجَلَّ کا یہ فرمان ہے :

وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْؕ-  ؕ (پ23 ،  ص 44)

ترجمۂ کنز الایمان : اور فرمایا کہ اپنے ہاتھ میں ایک (سو تنکوں والا) جھاڑو لے کر اس سے مار دے اور قسم نہ توڑ۔[2]

کان چَھیدنے کا رَواج کب سے ہوا؟

حیلے کے جَواز پر ایک اور دلیل مُلا حَظہ فرمایئے۔ چُنانچِہ ، حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ ابنِ عبّاس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ ایک بارحضرت ِ سیِّدَتُناسارہ اور حضرتِ سیِّدَتُنا ہاجَرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا میں کچھ چَپقَلِش ہو گئی ۔ حضرتِ سیِّدَتُنا سارہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے قسم کھائی کہ مجھے اگر قابو ملا تو میں ہاجَرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا کوئی عُضو کاٹوں گی ۔

اللہ  عَزَّ   وَجَلَّ نے حضرتِ سیِّدُنا جبر ئیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ کوحضرتِ سیِّدُنا ابراہیم خلیلُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ کی خدمت میں بھیجا کہ ان میں صُلح کروا دیں ۔ حضرتِ سیِّدَتُنا سارہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے عرض کی : “ مَاحِیلَۃُ یَمِیْنِی؟ “  یعنی میری قسم کا کیا حِیلہ ہو گا ؟ تو حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم خلیلُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ  پر وَحی نازِل ہوئی کہ (حضرتِ)سارہ(رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا)کو حکم دو کہ وہ (حضرتِ) ہاجَرہ (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا)کے کان چَھید دیں ۔ اُسی وَقْت سے عورَتوں کے کان چَھیدنے کا رَواج پڑا۔[3]

سود سے بچنے کی صورتیں :

دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۱۱۸۲ صَفحات پر مشتمل کتاب ، “ بہارِ شریعت “ جلد دوم صَفْحَہ ۷۷۶ تا ۷۷۹ پر صدرُ الشَّریعہ ،  بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولیٰنا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ شریعتِ مطہرہ نے جس طرح سود لینا حرام فرمایا سود دینا بھی حرام کیا ہے۔ حدیثوںمیں دونوں پر لعنت فرمائی ہے اور فرمایا کہ دونوں برابر ہیں۔ آج کل سود کی اتنی کثرت ہے کہ قرضِ حسن جو بغیر سودی ہوتا ہے بہت کم پایا جاتا ہے دولت والے کسی کو بغیر نفع روپیہ دینا  چاہتے نہیں اور اہل حاجت اپنی حاجت کے سامنے اس کا لحاظ بھی نہیں کرتے کہ سودی روپیہ لینے میں آخرت کا کتنا عظیم وبال (بہت بڑا عذاب)ہے اس سے بچنے کی کوشش کی جائے۔ لڑکی لڑکے کی شادی۔ ختنہ اور دیگر تقریبات شادی وغمی میں اپنی وسعت سے زیادہ خرچ کرنا چاہتے ہیں۔ برادری اور خاندان کے رسوم میں اتنے جکڑ ے ہوئے ہیں (پھنسے ہوئے ہیں) کہ ہر چند کہیے ایک نہیں سنتے رسوم میں کمی کرنے کو اپنی ذلت سمجھتے ہیں۔ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کو اولاً تو یہی نصیحت کرتے ہیں کہ ان رسوم کی جنجال (بوجھ ، آفت) سے نکلیں ، چادرسے زیادہ پاؤں نہ پھیلائیں اور دُنیا و آخرت کے تباہ کن نتائج سے ڈریں۔ تھوڑی دیر کی مسرت (خوشی) یا ابنائے جنس میں نام آوری (یعنی قبیلے کے افرادمیں شہرت) کا خیال کرکے آئندہ زندگی کو تلخ (دشوار) نہ کریں۔ اگر یہ لوگ اپنی ہٹ سے باز نہ آئیں قرض کا بارگراں (بھاری بوجھ) اپنے سرہی رکھنا چاہتے ہیں بچنے کی سعی (کوشش) نہیں کرتے جیسا کہ مشاہدہ اسی پر شاہد ہے تو اب ہماری دوسری فہمائش ان مسلمانوں کو یہ ہے کہ سودی قرض کے قریب نہ جائیں۔

اس لیے کہ بنصِّ قطعی قرآنی اس میں برکت نہیں اور مشاہدات وتجربات بھی یہی ہیں کہ بڑی بڑی جائدادیں سود میں تباہ ہوچکی ہیں یہ سوال اس وقت پیش نظر ہے کہ جب سودی قرض نہ لیا جائے تو بغیر سودی قرض کو ن دیگا پھر اُن دُشواریوں کو کس طرح حل کیا جائے۔ اس کے لیے ہمارے علمائے کرام نے چند صورتیں ایسی تحریر فرمائی ہیں کہ اُن طریقوں پرعمل کیا جائے توسود کی



([1])               نور العرفان ص۷۲۸۔   ملخّصاً

([2])                      فتاویٰ عالمگیری ،  ج۶ ،  ص۳۹۰

([3])                       غمزعیون البصائر شرح الَاشباہ والنظائر ،  ج۳،  ص۲۹۵

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن