30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
غلطی ملی تو ناشرین کو تحریری طورپر مطلع کروں گا (ناشرین کو کتابوں کی اغلاط صرف زبانی بتا دینا خاص مفید نہیں ہوتا)۔ (اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ)
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط
ایک شخص نے خواب میں ایک خوفناک شکل دیکھی ، گھبرا کر پوچھا : “ تُوکون ہے؟ “ تو اُس نے جواب دیا : “ میں تیرے بُرے اعمال ہوں۔ “ پوچھا : “ تجھ سے نَجات کی کیا صورت ہے؟ “ تو اس نے جواب دیا : “ درودِ پاک کی کثرت ۔ “ [2]
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
صاحبِ جُودو نوال ، رسولِ بے مثال ، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : “ ميں نے شبِ معراج ديکھا کہ دو شخص مجھے ارضِ مقدس (یعنی بیت المقدس)لے گئے ، پھر ہم آگے چل دئيے يہاں تک کہ خون کے ايک دریا پر پہنچے جس ميں ايک شخص کھڑا ہوا تھا اور دریا کے کنارے پر دوسراشخص کھڑا تھا جس کے سامنے پتھر رکھے ہوئے تھے ، دریا ميں موجود شخص جب بھی باہر نکلنے کا ارادہ کرتا تو کنارے پر کھڑا شخص ايک پتھر اس کے منہ پر مار کر اسے اس کی جگہ لوٹا ديتا ، اسی طرح ہوتا رہا کہ جب بھی وہ (دریاوالا)شخص کنارے پر آنے کا ارادہ کرتا تو دوسراشخص اس کے منہ پر پتھر مار کر اسے واپس لوٹا ديتا ، ميں نے پوچھا : “ يہ دریا ميں کون ہے؟ “ جواب ملا : “ يہ سود کھانے والا ہے۔ “[3]
میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو! فی زمانہ جہاں ہمارا معاشرہ بے شمار برائیوں میں مبتلا ہے ، وہیں ایک اَ ہم ترین برائی ہمارے معاشرے میں بڑی تیزی کے ساتھ پروان چڑھ رہی ہے ، وہ یہ ہےکہ اب کسی حاجت مند کو بغیر سود (Interest)کے قرض (Loan)ملنا مشکل ہو گیا ہے۔ لہذا آئیے اس بھیانک بیماری کے بارے میں جانتے ہیں جو ایک وبا کی طرح ہمارے معاشرے میں پھیلتی چلی جا رہی ہے۔ حالانکہ قرض دینے کے بے شمار فضائل مروی ہیں۔ چنانچہ ،
سرکارِ مدینہ ، راحت قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے : “ تین طرح کے مومن بندوں کو اجازت ہو گی کہ وہ جنت کے جس دروازے سے چاہیں داخل ہو جائیں اور جو نعمت چاہیں اختیار کریں : (۱)۔ ۔ ۔ مقتول کے ورثاء ، جو قاتل کا خون معاف کر دیں۔ (۲)۔ ۔ ۔ جو حاجت مندوں کو قرض دیں۔ (۳)۔ ۔ ۔ اور جو ہر فرض نماز کے بعد دس بار قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَد شریف پڑھا کریں۔ “[4]
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو! اس حدیثِ پاک میں تین خوش نصیب بندوں کا تذکرہ ہے جن میں ایک وہ بھی ہے جو حاجت مندوں کو قرض دیتا ہے۔ کیونکہ جو کسی محتاج کو قرض دیتا ہےبروزِ قیامت اسے اجر و ثواب کا پیمانہ بھر بھر کر دیا جائے گا۔ مگر افسوس! ہمارے یہاں قرض تو دیا جاتا ہے مگر سود پر ، اور آخرت کا ثواب نہیں دیکھا جاتا ، حالانکہ قرض دینا کس قدر ثواب کا باعث ہے اس کو اس حدیثِ پاک سے سمجھئے :
حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ صاحبِ جُودو نوال ، رسولِ بے مثال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ ہر قرض صدقہ ہے۔ “[5]
اسی طرح حضرت سیِّدُنا انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضورنبیٔ پاک ، صاحبِ لولاک ، سیّاحِ اَفلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے شبِ معراج جنت کے دروازے پر لکھا ہوا دیکھا کہ صدقہ کا ثواب دس گنا اور قرض دینے کا ثواب اٹھارہ گنا ہے۔ چنانچہ ، میں نے جبرائیل سے اس بارے میں پوچھا کہ قرض کے صدقہ سے افضل ہونے کی کیا وجہ ہے؟ تو انہوں نے بتایاکہ (صدقہ تو) وہ بھی مانگ لیتا ہے جو محتاج نہ ہو مگر قرض مانگنے والا حاجت و ضرورت کے بغیر قرض نہیں مانگتا۔[6]
مقروض پر نرمی سے بخشش ہو گئی :
[1] یہ رسالہ مبلغِ دعوتِ اسلامی و نگرانِ مرکزی مجلس شوریٰ حاجی محمد عمران عطاری سَلَّمَہُ الْبَاری کے دو بیانات : “ سود کی نحوست “ اور “ سود اور اس سے بچنے کے طریقے “ کا مجموعہ ہے ۔ جو ضروری ترمیم واضافے کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔
[2] اَلْقَولُ الْبَدِیع ، الباب الثانی فی ثواب الصلاۃ ۔ ۔ الخ ، ص ۲۵۵.
[3] صحیح البخاری ، کتاب البیوع ، باب اکل الرباو شاہدہ و کاتبہ ، الحدیث : ۲۰۸۵، ج۲ ، ص۱۴.
[4] مسند ابی یعلیٰ ، مسند جابر بن عبداللہ ، الحدیث1788 ، ج 2 ، ص196، بتغیر قلیل.
[5] المعجم الاوسط ، الحدیث : 3498 ، ج 2 ، ص345
[6] سنن ابن ماجہ ، کتاب الصدقات ، باب القرض ، الحدیث : 2431 ، ج 3 ، ص154
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع