دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sood aur us ka Ilaj | سود اور اس کا علاج

book_icon
سود اور اس کا علاج

حضرت مولائے کائنات علی المرتضیٰ شیرِ خدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں کہ جس نے قناعت کی اس نے عزت پائی اور جس نے لالچ کیا ذلیل ہوا۔[1]

لوگوں کے مال سے نا اُمید ہو جاؤ :

حضرت سَیِّدُنا ایوب انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی نے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی : “ یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم ! مجھے ایک مختصر وصیت فرمائیے۔ “ فرمایا : “ جب نماز پڑھو تو زندگی کی آخری نماز (سمجھ کر)  پڑھو اور ہرگز ایسی بات نہ کرو جس سے تمہیں کل معذرت کرنا  پڑے اور لوگوں کے پاس جو کچھ ہے اس سے نا امید ہو جاؤ۔ “[2]

انسان کے پیٹ کو مٹی ہی بھر سکتی ہے :

سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرماتے ہیں : “ اگر انسان کیلئے مال کی  دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری وادی کی تمنا کرے گا اور انسان کے پیٹ کو صرف مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو شخص توبہ کرتا ہے تو اللہ  عَزَّ   وَجَلَّ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ “[3]

میٹھے میٹھے اور پیارے پیارے اسلامی بھائیو! آپ نے کبھی بھی کسی مالدار کو یہ کہتے نہیں سنا ہو گا کہ “ بہت مال کمالیا۔ اب بس۔ “ بلکہ وہ مزید دولت کمانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ اور اسی طرح کوئی عالم ایسا نہیں ملے گا کہ جو یہ کہے : “ بہت پڑھ لیا ، اب مجھے مزید پڑھنے کی حاجت نہیں۔ “ بلکہ ہر عالم مزید علم کی طلب میں رہتا ہے۔ چنانچہ ،

ہم بے کسوں کے مددگار ، شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کا ارشاد ہے : “ دو حریص کبھی سیر نہیں ہوسکتے ، ایک مال کا حریص اور دوسراعلم کا حریص۔ “[4]  

دوسرے کے مال کے آسرے پر رہنا کہ وہ مجھ سے بہت محبت کرتا ہے ، خود ہی مجھے آفر بھی کرتا رہتا ہے کہ جب بھی ضرورت ہو کہہ دیا کرو۔ اس لئے کبھی ضرورت پڑی تو اس سے مانگ لوں گا ، منع نہیں کرے گا وغیرہ امیدیں بہت ہی کھوکھلی ہیں کہ آدمی کا دل بدلتا رہتا ہے۔ یاد رکھئے! “ دینے والا “ انسان “ لینے والے “ سے متاثر نہیں ہو سکتا۔ البتہ !اگر کوئی دینے آئے اور آپ قبول نہیں کریں گے تو ضرور متاثر ہوگا۔ چنانچہ ،

حُجَّۃُ الْإسْلَام حضرت سَیِّدُنا امام غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی نے اِحۡیَاءُ عُلُومِ الدِّیۡن میں یہ عربی اشعار نقل کئے ہیں :

اَلۡعَیۡشُ سَاعَاتٌ تَمُرُّ

وَخُطُوبُ أَیَّامٍ تَكُرُّ

ترجمہ : عیش چند گھڑیوں کا ہے جو گزر جائے گا اور چند دنوں میں حالت بدل جائے گی۔

اِقۡنَعۡ بِعَیۡشِكَ تَرۡضَہٗ

وَاتۡرُكۡ ہَوَاكَ تَعِیۡشُ حُرٌّ

ترجمہ : اپنی زندگی میں قناعت اختیار کر ، راضی رہے گا۔ اور اپنی خواہش ترک کر دے ، آزادی کے ساتھ زندگی گزارے گا۔

فَلِرُبَّ حَتۡفٍ سَاقَہٗ

ذَھَبٌ وَّ یَاقُوۡتٌ وَّدُرٌّ

ترجمہ : کئی بارموت سونے ، یاقوت اور موتیوں کے سبب ڈاکوؤں کے ذریعے آتی ہے۔[5]

          مزید نقل فرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُنا محمد بن واسع رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ خشک روٹی کو پانی میں تر کر کے کھاتے تھےاور فرماتے : “ جو شخص اس پر قناعت کرتا ہے وہ کبھی کسی کا محتاج نہیں رہتا۔“[6]

سبحان اللہ!  اللہ   عَزَّ   وَجَلَّ کی ان پر رحمت ہو اور انکے صدقے ہماری مغفرت ہو۔

حضرت سَیِّدُنا سمیط بن عجلان رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : “ اے انسان! تیرا پیٹ بہت مختصر یعنی فقط ایک بالشت مکعب ہے ، یعنی ایک بالشت چورس ، چکور ہی تو ہے پھر وہ تجھے دوزخ میں کیوں لے جائے؟ “ اور کسی دانا سے پوچھا گیا : “ آپ کا مال کیا ہے؟ “ انہوں نے جواب دیا : “ ظاہر میں اچھی حالت میں رہنا ، باطن میں میانہ روی اختیار کرنا اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے مایوس ہونا۔ “[7]

قناعت پسند کو بادشاہوں سے کیا کام؟  

حضرت سَیِّدُنا قبِيْصَھ بِنۡ عُقْبَھ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے ملنے کیلئے ایک روز کوہستانی علاقے کا شہزادہ اپنے خدّام کے ساتھ حاضر ہوا ، آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مکان سے نکلنے میں کافی دیر لگائی۔



([1])                            النھایۃ للجزری ،  باب القاف مع النون ،  ج 4 ، ص100

([2])                      المسند للامام احمد بن حنبل ،  حدیث ابی ایوب الانصاری ،  الحدیث  : 23557 ، ج9  ، ص130

([3])                          صحیح مسلم ،  کتاب الزکاۃ ،  باب لو ان لابن ادم۔ ۔ ۔ الخ ،  الحدیث 1048، ص521

([4])              المستدرک للحاکم ،  کتاب العلم ،  باب منھومان لا یشبعان ،  الحدیث : 318 ، ج1 ، ص822

([5])               إحياء علوم الدين  ،  كتاب ذم البخل وذم حب المال ،  بيان ذم الحرص والطمع ومدح القناعة واليأس مما في أيدي الناس ،  ج3 ، ص295

([6])           المرجع السابق

([7])                          إحياء علوم الدين  ،  كتاب ذم البخل  ،  بيان ذم الحرص ۔ ۔  الخ ،  ج3 ، ص295

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن