دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sood aur us ka Ilaj | سود اور اس کا علاج

book_icon
سود اور اس کا علاج

حقیقی دولت :

میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو!دنیا کے مال و دولت کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ حقیقی دولت تقویٰ ، پرہیز گاری ، خوفِ خدا اورعشقِ مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم ہے اور اللہ  عَزَّ   وَجَلَّ یہ دولت اسے عطا فرماتا ہے جس سے راضی ہوتا ہے۔ لہذا دولت و حکومت کا ہونا فضیلت کی بات نہیں ہے۔ کیونکہ فرعون ، نمرود اور قارون بھی تو دولت و حکومت والے تھے۔ مگر ان کی دولت و حکومت انہیں ابدی لعنت سے محفوظ نہ رکھ سکی جس سے معلوم ہوا کہ حکومت اور دولت کا ہونا فضیلت کا باعث نہیں ، بلکہ فضیلت کا باعث تو یہ ہے کہ اللہ  عَزَّ   وَجَلَّ ہم سے راضی ہو جائے ، تقویٰ وپرہیز گاری مل جائے۔ اور اگر دولت ملے تو وہ جس کے ملنے پر ربّ راضی ہو ، حلال اور  شبہ سے پاک ہو۔ جیسا کہ دولت تو سیدنا عثمان غنی اور حضرت سیدنا عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے پاس بھی تھی ، مگر ان کی دولت حرام اور شبہ کے مال سے پاک تھی۔ اور انہیں جو دولت بھی ملتی اسے اسلام کے نام پر قربان کرتے چلے جاتے اور  اللہ عَزَّ   وَجَلَّ اور رسول کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمکی رضا کے حصول کی کوشش کرتے تھے۔ چنانچہ ، دولت مند صحابہ کرام نے اپنی دولت سے ایسے ایسے غلام آزاد کئے کہ انہوں نے عشقِ رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمکی لازوال مثالیں رقم کیں۔ یعنی امیر المؤمنین حضرت سَیِّدُنا صدیق اکبر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت سَیِّدُنا بلال حبشی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو آزاد کر کے سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں پیش کیا اور پھر انہوں نے عشقِ مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کی جو مثال قائم کی اسے کون نہیں جانتا۔

حلال پر حساب اور حرام پر عذاب ہے :

       میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حقیقت میں دولت وشہرت جیسی سب چیزیں آزمائش ہیں ، اگرچہ تمام دولت حلال ہوپھر بھی اس کا حساب دینا پڑے گا۔ چنانچہ ،

         حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک بار ہم ضعیف اور نادار لوگ بیٹھے ہوئے تھے کہ سرکارِ والا تَبار ، ہم بے کسوں کے مددگار ، شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم ہمارے پاس تشریف لائے ، اس وقت ایک شخص قرآنِ کریم کی تلاوت کر رہا تھا اور ہمارے لئے دعا کر رہا تھا۔ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ سب تعریفیں اللہ  عَزَّ   وَجَلَّ کے لئے جس نے میری امت میں ایسے نیک سیرت بندے پیدا کئے ، جنکے ساتھ مجھے رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ “ پھر ارشاد فرمایا : “ فقراء مسلمین کو قیامت کے روز کامل نور کی بشارت ہو کہ وہ غنی لوگوں سے آدھا دن پہلے جنت میں داخل ہوں گے یعنی پانچ سو سال کی مقدار پہلے داخل ہوں گے یہ فقراء جنت میں نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے اور غنی لوگوں کا محاسبہ کیا جا رہا ہو گا۔ “[1]

میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو!خالص حلال مال جمع کرنے والے اُمراء یعنی وہ لوگ جو خالص حلال مال لے کر قیامت کے دن حاضر ہوں گے جب وہ اپنے مال کا حساب دے رہے ہوں گے تو فقراء ان اُمراء یعنی مالداروں سے پانچ سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ غور کیجئے کہ جب یہ حلال مال لانے والے پانچ سو برس تک اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حساب دیں گے تو اس حرام خور یعنی سود خور کا کیا انجام ہو گا جو مالِ حرام لے کر روزِ قیامت حاضر ہو گا۔

تیسرا علاج قناعت :

         حضرت عبداللہ بن عمرو رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ شَفِیعُ ا لْمُذْنِـبِـیْن ،  اَنِیسُ الْغَرِیْبِین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ کامیاب ہو گیا جو مسلمان ہوا اور بقدرِ کفایت رزق دیا گیا اور  اللہ  نے اسے دیئے ہوئے پر قناعت دی۔ “[2]

         اور حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نُبوت ، مَخْزنِ جودوسخاوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے دعا کی :

 “ اَللّٰھُمَّ اجۡعَلۡ رِزۡقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوۡتاً  “

ترجمہ : اے اللہ   عَزَّ   وَجَلَّ! محمد کے گھر والوں کی روزی بقدرِ ضرورت مقرر فرما۔[3]

         میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو!ان فرامینِ مبارکہ میں امت کو یہ بات سمجھائی جا رہی ہے کہ بقدرِ ضرورت مال پر قناعت کریں ، زیادہ مال کی ہوس میں ذلیل وخوار نہ ہوں کہ زیادہ مال کی ہوس حلال و حرام کی تمیز اٹھا دیتی ہے اور پھر بندہ سود ، رشوت ، ملاوٹ اور اس طرح کے دوسرے ذرائع اختیار کر کے اپنی دنیا و  آخرت دونوں کو داؤ پر لگا دیتا ہے۔

         میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو!ان احادیثِ مبارکہ میں کامیابی کے چار مدنی پھول بیان کئے گئے ہیں : (۱) ایمان (۲)تقویٰ (۳) بقدرِ ضرورت مال اور (۴) تھوڑے مال پر صبر۔ جسے یہ نعمتیں نصیب ہو گئیں اس پر ربّ کریم کا بڑا فضل و کرم ہو گیا ، وہ کامیاب رہا اور دنیا سے کامیاب گیا۔

       اے کاش! ہمیں قناعت نصیب ہوجائے ، کیونکہ جو قناعت پسند ہو وہ سادگی اپناتا ہے ، سادہ غذا اورلباس کو کافی جانتا ہے ، اسے دولت کی حاجت ہوتی ہے نہ دولت مند کی۔  اور جو قناعت پسند نہ ہو ، وہ حرص و لالچ کا شکار ہو جاتا ہے ، کبھی سیر نہیں ہوتا ، ہر وقت اس پر دَھن کمانے کی دُھن سوار ہوتی ہے ، یہاں تک کہ موت آپہنچتی ہے۔

قناعت یہ ہے :

         حضرت سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے ، تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نُبوت ، مَخْزنِ جودوسخاوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ سے فرمایا : “ اے ابو ہریرہ (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ) جب تمہیں سخت بھوک لگے ایک روٹی اور پانی کے ایک پیالے پر گزارہ کرو اور کہہ دو میں دنیا اوراہلِ دنیا کو چھوڑتا ہوں۔“[4]

قناعت سے عزت ہے :

 



([1])                                  الدر المنثور ،  الکھف ،  تحت الایۃ : 28 ،  ج 5 ، ص382

([2])                          صحیح مسلم ،  کتاب الزکاۃ ،  باب فی الکفاف والقناعۃ ،  الحدیث 1054،  ص524

([3])                            صحیح مسلم ،  کتاب الزکاۃ ،  باب فی الکفاف والقناعۃ ،  الحدیث 1055،  ص524

([4])                            شعب الایمان ،  باب فی الزھد وقصر الامل ، الحدیث 10366: ، ج 7 ، ص295

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن