30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو! یاد رکھئے! لمبی امیدوں کا بنیادی سبب دنیا کی محبت ہے اور یہ مال اور دنیا کی محبت ہی بندے کو موت سے غافل کر دیتی ہے۔ جس کے سبب وہ دنیا کا عیش وآرام حاصل کرنے کے لئے ہر دم مصروف رہتا ہے۔ ہم بے کسوں کے مددگار ، سرکارِ والا تَبار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کے کثیر ارشادات ہیں جن سےدنیا کی محبت سے جان چھڑا کر آخرت کی تیاری کا ذہن ملتا ہے۔ اور ان ارشادات میں سبب اور علاج دونوں موجود ہیں۔ چنانچہ ،
“ طُولِ اَمَل “ کے چھ حروف کی نسبت سے لمبی امیدوں کے متعلق چھ فرامین مصطفیٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم
(1) ۔۔۔ حضرت سَیّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ شفیعِ روزِ شُمار ، دو عالم کے مالک و مختاربِاذ ْنِ پروردگار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے ہمارے لئے مربع شکل میں ایک لکیر کھینچی۔ اس کے درمیان بھی ایک لکیر کھینچی ، پھر اس کے گرد کئی لکیریں کھینچیں اور ایک لکیر کھینچی جو اس مربع سے باہر جا رہی تھی۔ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : “ کیا تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟ “ ہم نے عرض کی : “اللہ اور اس کا رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں۔ “ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے درمیان والی لکیر کے بارے میں فرمایا کہ یہ انسان ہے اور مربع لکیر کے بارے میں فرمایا کہ یہ موت ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے اور یہ درمیان والی لکیریں مصائب ہیں جو اس کو نوچتے ہیں اگر ایک سے بچ جائے تو دوسرے کے ہتھے چڑھ جاتا ہے اور باہر نکلنے والی لکیر کے بارے میں فرمایا کہ یہ امید ہے۔[1]
(2) ۔۔۔ حضرت سَیّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ شہنشاہِ خوش خِصال ، پیکرِ حُسن وجمال ، دافعِ رنج و مَلال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے صحابہ کرام رِضۡوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمۡ اَجۡمَعِیۡنسے دریافت فرمایا : “ کیا تم سب جنت میں جانا چاہتے ہو؟ “ انہوں نے عرض کی : “ جی ہاں! یا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم! “ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ امیدیں کم رکھو ، اپنی موت کو آنکھوں کے سامنے رکھو اور اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اس طرح حیا کرو جس طرح حیا کرنے کا حق ہے۔ “ [2]
(3) ۔۔۔ نور کے پیکر ، تمام نبیوں کے سَرْوَر ، دو جہاں کے تاجْوَر ، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے سَیّدُنا معاذ بن جبل سے ان کے ایمان کی حقیقت پوچھی تو انہوں نے عرض کی : “ میں جب بھی کوئی قدم اٹھاتا ہوں تو یہ خیال کرتا ہوں کہ اس کے بعد دوسرا قدم نہیں اٹھاؤں گا۔ “[3]
(4) ۔۔۔حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ جب حضورنبیٔ پاک ، صاحبِ لولاک ، سیّاحِ اَفلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے یہ آیتِ مبارکہ تلاوت فرمائی :
فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِۚ- (پ8 ، الانعام : 125)
ترجمۂ کنز الایمان : اور جسے اللہ راہ دکھانا چاہے اس کا سینہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے۔
اس کےبعد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ جب نور سینے میں داخل ہوتا ہے تو سینہ کھل جاتا ہے۔ “ عرض کی گئی : “ یا رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم! کیا اس کی کوئی علامت ہے جس کے ذریعے پہچان ہو سکے؟ “ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ ہاں دھوکے والے گھر سے دور رہنا ، دائمی گھر کی طرف رجوع کرنا اور موت کے آنے سے پہلے اس کے لئے تیاری کرنا۔ “[4]
(5) ۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ ایک روز حضورنبیٔ پاک ، صاحبِ لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمباہرتشریف لائے تو اسوقت دھوپ درخت کی ٹہنیوں تک پہنچ چکی تھی۔ پس آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ دنیا اسی قدر باقی رہ گئی ہے جس قدر گزرے ہوئے دن کے مقابلے میں یہ وقت باقی ہے۔ “[5]
(6) ۔۔۔ حضرت عمرو بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب ، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ اللہ کی قسم! میں تم پر فقیری سے خوف نہیں کرتا ، مگر خوف ہےکہ تم پر دنیا پھیلا دی جائے جیسے تم سے پہلے والوں پر پھیلا دی گئی تھی ، تو تم اس میں رغبت کر جاؤ جیسے وہ لوگ رغبت کر گئے اور تمہیں ویسے ہی ہلاک کر دے جیسے انہیں ہلاک کر دیا۔ “[6]
دوسرا علاج دولتِ دنیا سے چھٹکارا :
دنیاوی دولت کی محبت نے ہمیں برباد کر دیا ہے ، ہم اپنے معاشرے کو دیکھتے ہیں کہ دولت مندوں کے پیچھے آنکھیں بند کئے دوڑا ہی چلا جا رہا ہے ، اسے نہ تو اس بات سے کوئی غرض ہےکہ یہ دولت مند سود کی عمارت پر کھڑا ہوکر اتنا اونچا نظر آ رہا ہے اور نہ ہی اسے اس بات کی کوئی پرواہ ہے کہ اس نے یہ دولت کیسے کمائی ، بلکہ اس کی تو خواہش ہی یہ ہے کہ وہ بھی دولت مند بن جائے ۔ آج آپ کو ایسے کئی لوگ ملیں گے ، کہ جب ان سے پوچھیں کہ ان دولت مندوں کے پیچھے کیوں بھاگتے ہیں؟ تو کہیں گے : “ بھئی آپ کو نہیں پتا کہ دولت کتنی ضروری ہے ، دولت سے عزت ہے ، دولت سے شہرت ہے ، دولت سے سب کچھ ہے۔ “
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع