30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وہ ایک بزرگ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور تمام ماجرہ بیان کیا۔ وہ بزرگ چند دن تک اس عذاب والی قبر پر اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کرتے رہے ، مختلف اَورادو وَظائف میں مشغول رہے اور میت کیلئے دعائیں کی بالآخر وہ عذاب کی صورت آنکھوں سے اوجھل ہوگئی۔ عذاب والی قبر کے متعلق جب معلومات کی گئیں تو پتا چلا کہ صاحبِ قبر ظاہری طور پر تو نیک مسلمان تھا لیکن سود کا لین دین کرتا تھا۔
میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو! نہ جانے اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کا غضب کس گناہ پر نازل ہوجائے ، ہمیں ہر گناہ سے توبہ کرنی چاہئے۔ ہمیں کیا ہو گیا ہے؟ ارے مال اوردنیا کی محبت نے اتنا اندھا کر دیا کہ سودی کاروبار اور سودی لین دین میں مبتلا ہو کر سود پر قرض لینے کے لئےتیار ہو گئے۔ اگر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ناراض ہو گیا اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّمَ روٹھ گئے اور سود کی وجہ سے عذاب نے آ لیا تو کیا کریں گے؟
کرلے توبہ رب کی رحمت ہے بڑی
قبر میں ورنہ سزا ہوگی کڑی
ایک دن مرنا ہے آخر موت ہے
کرلے جو کرنا ہے آخر موت ہے
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں
حلال و حرام کی تمیز کا ختم ہونا :
میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو! مال حرام آفت ہے اور آہ!اب وہ دور آچکا ہے کہ معاشرے سے حلال وحرام کی تَمیز ختم ہو گئی ہے ، انسان مال کی محبت میں اندھا ہوچکا ہے ، اسے بس مال چاہئے۔ چاہے جیسے آئے۔ چنانچہ ،
حضورنبیٔ پاک ، صاحبِ لولاک ، سیّاحِ اَفلاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : “ لوگوں پر ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ آدمی پَرواہ بھی نہ کرے گا کہ اس چیز کو کہاں سے حاصل کیا ہے؟ حلال سے یا حرام سے۔ “[1]
میٹھے میٹھے اور پیارے اسلامی بھائیو!مالٕ حرام میں کوئی بھلائی نہیں ، بلکہ اس میں بربادی ہی بربادی ہے ، مالٕ حرام سے کیا گیا صدقہ قبول ہوتا ہے نہ ہی اس میں برکت ہوتی ہے اور چھوڑ کر مرے تو عذابٕ جہنم کا سبب بنتا ہے۔ چنانچہ ،
مالِ حرام سے کیا گیا صدقہ مقبول نہیں :
حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان عالیشان ہے : “ جو بندہ مالِ حرام حاصل کرتا ہے اگر اُس کو صدقہ کرے تو مقبول نہیں اور خرچ کرے تو اس کے لئے اُس میں برکت نہیں اور چھوڑ کر مرے گا تو جہنم میں جانے کا سامان ہے ، اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ برائی سے برائی کو نہیں مٹاتا ، ہاں نیکی سے برائی کو مٹا دیتا ہے ، بے شک خبیث کو خبیث نہیں مٹاتا۔ “[2]
حرام کھانے والا مستحق نار ہے :
حضرت سَیِّدُنا جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ مدنی تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ جو گوشت حرام سے اُ گا ہے (یعنی پَلا بڑھا ہے) جنت میں داخل نہ ہو گا۔ (یعنی اِبتداءً ، کیونکہ مسلمان بالآخر جنت میں جائے گا) کہ اس کے لئے آگ زیادہ بہتر ہے۔ “[3]
حرام کھانے سے دعا قبول نہیں ہوتی :
صاحبِ جُودو نوال ، رسولِ بے مثالصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : “اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ پاک ہے اور پاک ہی کو دوست رکھتا ہے اور اس نے مومنین کو وہی حکم دیا ہے جو مرسلین کو حکم دیا تھا۔ چنانچہ ، اس نے رسولوں سے ارشاد فرمایا :
یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًاؕ-اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ(۵۱) (پ18 ، المومنون : 51)
ترجمۂ کنزالایمان : اے پیغمبرو پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اچھا کام کرو میں تمہارے کاموں کو جانتا ہوں۔
اور مومنوں سے ارشاد فرمایا :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ (پ2 ، البقرۃ : 172)
ترجمۂ کنزالایمان : اے ایمان والو کھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں۔
پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم نے ايک شخص کا ذکر کيا جو طويل سفر کرتاہے ، جس کے بال پریشان اوربدن غبار آلود ہے(یعنی اس کی حالت ایسی ہے کہ جودعا کرے وہ قبول ہو) اور اپنے ہاتھ آسمان کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع