30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس کے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہونے پر دلالت کرنے والی اپنی نشانیاں دکھائیں گے، یہاں تک کہ ان کیلئے بالکل واضح ہو جائے گاکہ بیشک قرآن ہی حق ہے اوریہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے اور اس میں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے،اعمال کا حساب لئے جانے اور ان کے کفر پر انہیں سزا دئیے جانے کا جو بیان ہوا ہے وہ بھی حق ہے اور اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، کیا آپ کے رب عَزَّوَجَلَّ کا ہر چیز پر گواہ ہونا آپ کی سچائی کے لئے انہیں کافی نہیں ؟
آفاقی نشانیوں کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ ان سے مراد سورج ، چاند، ستارے، نباتات اور حیوان ہیں کیونکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت پر دلالت کرنے والے ہیں ۔حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ ان نشانیوں سے مراد گزری ہوئی اُمتوں کی اُجڑی ہوئی بستیاں ہیں جن سے انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلانے والوں کا حال معلوم ہوتا ہے ،اوربعض مفسرین نے فرمایا کہ ان نشانیوں سے مشرق و مغرب کی وہ فتوحات مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور ان کے نیاز مندوں کو عنقریب عطا فرمانے والاہے۔
کفار کی ذات میں نشانیوں سے مرادیہ ہے کہ ان کی ہستیوں میں اللہ تعالیٰ کی صَنعت اور حکمت کے لاکھوں لطائف اور بے شمار عجائبات موجود ہیں جن سے ظاہر ہے کہ ان چیزوں پر اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی قادر نہیں ،یا اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بدر میں کفار کو مغلوب کیا اوران پر قہر نازل کرکے خود ان کے اپنے اَحوال میں اپنی نشانیوں کا مشاہدہ کرادیا،یا اس سے مراد یہ ہے کہ مکہ مکرمہ فتح فرما کر اُن میں اپنی نشانیاں ظاہر کر دیں گے۔( روح البیان ، حم السجدۃ ، تحت الآیۃ : ۵۳ ، ۸ / ۲۸۱ ، جلالین ، فصلت ، تحت الآیۃ: ۵۳ ، ص۴۰۱ ، خازن ، فصلت ، تحت الآیۃ: ۵۳ ، ۴ / ۸۹ ، ملتقطاً)
اَلَاۤ اِنَّهُمْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآءِ رَبِّهِمْؕ-اَلَاۤ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ مُّحِیْطٌ۠(۵۴)
ترجمۂ کنزالایمان: سنو انھیں ضرور اپنے رب سے ملنے میں شک ہے سنو وہ ہر چیز کو محیط ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: سن لو! بیشک یہ کافر اپنے رب سے ملنے کے متعلق شک میں ہیں ۔ خبردار!وہ ہر چیز کوگھیرے ہوئے ہے۔
{اَلَاۤ اِنَّهُمْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآءِ رَبِّهِمْ: سن لو! بیشک یہ کافر اپنے رب سے ملنے کے متعلق شک میں ہیں ۔} ارشاد فرمایا کہ سن لو! بیشک یہ کافر اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے ملنے کے بارے شک میں ہیں کیونکہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اورقیامت کے قائل نہیں ہیں ،اسی لئے وہ اس میں غور وفکر کرتے ہیں ،نہ اس کا علم رکھتے ہیں اور نہ ہی اس سے ڈرتے ہیں بلکہ وہ ان کے نزدیک ایک باطل چیز ہے جس کی انہیں کوئی پرواہ نہیں حالانکہ قیامت ضرور واقع ہوگی اور اس کے
واقع ہونے میں کسی طرح کا کوئی شک نہیں ہے۔ انہیں خبردار ہو جانا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے علم اورقدرت سے ہر چیز کوگھیرے ہوئے ہے،کوئی چیز ا س کے علم کے اِحاطے سے باہر نہیں اور اس کی معلومات کی کوئی انتہاء نہیں تو وہ انہیں ان کے کفر اور اپنے رب عَزَّوَجَلَّ سے ملنے کے متعلق شک کرنے پر سزا دے گا۔(جلالین ، فصلت ، تحت الآیۃ: ۵۴ ، ص۴۰۱ ، مدارک ، فصلت ، تحت الآیۃ: ۵۴ ، ص۱۰۸۰ ، ابن کثیر ، فصلت ، تحت الآیۃ: ۵۴ ، ۷ / ۱۷۱ ، خازن ، فصلت ، تحت الآیۃ: ۵۴ ، ۴ / ۹۰ ، ملتقطاً)
شیطان آخرت کے بارے میں شک ڈال کر دھوکہ دیتا ہے :
اس آیت میں بیان ہوا کہ کفار آخرت کے بارے شک میں مبتلا ہیں البتہ کچھ مسلمانوں کی عملی حالت سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بھی آخرت کے بارے میں دھوکے کا شکار ہیں ، جیسا کہ امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : شیطان آخرت کے بارے میں شک ڈال کر اس کے ذریعے دھوکہ دیتاہے اور اس کا علاج یا تو تقلیدی یقین ہے یا باطنی بصیرت و مشاہدہ ہے اور وہ لوگ جو اپنے عقائد اور زبان سے مومن ہیں ، جب وہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کو ضائع کر دیتے ہیں ،نیک اعمال کو چھوڑدیتے ہیں اور خواہشات اور گناہوں کا لباس پہن لیتے ہیں تو اس دھوکے میں وہ بھی کفار کے ساتھ شریک ہوجاتے ہیں کیونکہ انہوں نے دنیا کو آخرت پر ترجیح دی البتہ مومن کا معاملہ ذرا ہلکا اور آسان ہے کیونکہ اس کا ایمان اسے دائمی عذاب سے محفوظ رکھتا ہے،لہٰذا وہ جہنم سے نکل جائیں گے اگر چہ کچھ وقت کے بعد ہو، لیکن دھوکے میں یہ بھی ہیں ، انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ آخرت دنیا سے بہتر ہے لیکن اس کے باوجود وہ دنیا کی طرف مائل ہوئے اور اس کو ترجیح دی اور کامیابی کے لئے محض ایمان کافی نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
’’ وَ اِنِّیْ لَغَفَّارٌ لِّمَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدٰى‘‘(طٰہٰ:۸۲)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک میں اس آدمی کو بہت بخشنے والا ہوں جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک عمل کیا پھر ہدایت پر رہا۔
اورارشاد فرماتا ہے:
’’اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ‘‘(اعراف:۵۶)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اللہ کی رحمت نیک لوگوں کے قریب ہے۔
پھر نبیٔ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:احسان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو۔( بخاری ، کتاب الایمان ، باب سؤال جبریل النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم عن الایمان۔۔۔ الخ ، ۱ / ۳۱ ، الحدیث: ۵۰)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع