دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-9-Para-25-To-27 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-نہم- پارہ پچیس تا ستائیس

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-نہم- پارہ پچیس تا ستائیس

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جس نے تمام جوڑوں  کو پیدا کیا اور تمہارے لیے کشتیوں  اور چوپایوں  کی سواریاں  بنائیں ۔ تاکہ تم ان کی پیٹھوں  پر سیدھے ہو کر بیٹھو پھر جب اس پر سیدھے ہو کر بیٹھ جاؤ تواپنے رب کا احسان یاد کرو اور یوں  کہو: پاک ہے وہ جس نے اس سواری کو ہمارے قابو میں  کردیا اور ہم اسے قابوکرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے۔ اور بیشک ہم اپنے رب کی طرف ہی پلٹنے والے ہیں ۔

{وَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ: اور جس نے تمام جوڑوں  کو پیدا کیا۔} یعنی عزت و علم والا اللہ عَزَّوَجَلَّ وہی ہے جس نے مخلوق کی تمام اَقسام کے جوڑے بنائے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں :’’اس سے مراد یہ ہے کہ تمام اَنواع کے جوڑے بنائے جیسے میٹھا اور نمکین، سفید اور سیاہ،مُذَکَّر اور مُؤنَّث وغیرہ۔( روح البیان ،  الزخرف ،  تحت الآیۃ: ۱۲ ،  ۸ / ۳۵۵)

{وَ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْفُلْكِ وَ الْاَنْعَامِ مَا تَرْكَبُوْنَ: اور تمہارے لیے کشتیوں  اور چوپایوں  کی سواریاں  بنائیں ۔} آیت کے اس حصے اور ا س کے بعد والی دو آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اور تمہارے لیے کشتیوں  اور چوپایوں  کی سواریاں

بنائیں  تاکہ تم خشکی اور تری کے سفر میں  کشتیوں  کی پشت اور چوپایوں  کی پیٹھوں  پر سیدھے ہو کر بیٹھو ،پھر جب اس سواری پر سیدھے ہو کر بیٹھ جاؤ تو دل میں اپنے رب کا احسان یاد کرو اور اپنی زبان سے یوں  کہو: وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہر عیب سے پاک ہے جس نے اس سواری کو ہمارے قابو میں  کردیا اور ہم اسے قابوکرنے کی طاقت نہ رکھتے تھے اور بیشک ہم آخر کار اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف ہی پلٹنے والے ہیں ۔( خازن ، الزخرف ، تحت الآیۃ:۱۲-۱۴ ، ۴ / ۱۰۲ ،  جلالین مع صاوی ، الزخرف ، تحت الآیۃ:۱۲-۱۴ ،  ۵ / ۱۸۸۸ ،  ملتقطاً)

سواری پر سوار ہوتے وقت کی دعائیں :

                                                 حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا فرماتے ہیں  کہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب سفر میں  تشریف لے جاتے تو اپنی اونٹنی پر سوار ہوتے وقت پہلے تین بار اللہ اَکْبَرْ پڑھتے، پھر یہ آیت پڑھتے ’’سُبْحٰنَ الَّذِیْ سَخَّرَ لَنَا هٰذَا وَ مَا كُنَّا لَهٗ مُقْرِنِیْنَۙ(۱۳) وَ اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُوْنَ‘‘۔ (اور اس کے بعدیہ دعائیں  پڑھتے)۔ ’’اَللّٰہمَّ اِنَّا نَسْاَلُکَ فِی سَفَرِنَا ہٰذَا الْبِرَّ وَالتَّقْوٰی وَ مِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضٰی اَللّٰہُمَّ ہَوِّنْ عَلَیْنَا سَفَرَنَا ہٰذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَہٗ اَللّٰہُمَّ اَنْتَ الصَّاحِبُ فِی السَّفَرِ وَ الْخَلِیفَۃُ فِی الْاَہْلِ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ وَکَآبَۃِ الْمَنْظَرِ وَسُوْ ءِ الْمُنْقَلَبِ فِی الْمَالِ وَالْاَہْلِ‘‘ اور جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو ان دعاؤں  کے ساتھ مزید یہ پڑھتے ’’اٰیِبُونَ تَائِبُونَ عَابِدُونَ لِرَبِّنَا حَامِدُونَ‘‘۔(مسلم ،  کتاب الحج ،  باب ما یقول اذا رکب الی سفر الحجّ وغیرہ ،  ص۷۰۰ ،   الحدیث: ۴۲۵(۱۳۴۲))

                                                 اورحضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ،میری امت میں  سے جو شخص کشتی میں  سوار ہوتے وقت یہ پڑھ لے تو وہ ڈوبنے سے محفوظ رہے گا: ’’بِسْمِ اللہ الْمَلِکِ وَ مَا قَدَرُوا اللہ حَقَّ قَدْرِہٖ وَ الْاََرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُہٗ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَ السَّمَاوَاتُ مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِینِہٖ سُبْحَانَہٗ وَ تَعَالٰی  عَمَّا یُشْرِکُونَo بِسْمِ اللہ مَجْرَاہَا وَ مُرْسَاہَا اِنَّ رَبِّی لَغَفُوْرٌ رَّحِیمٌ‘‘۔(معجم الاوسط ،  باب المیم ،  من اسمہ: محمد ،  ۴ / ۳۲۹ ،  الحدیث: ۶۱۳۶)

وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًاؕ-اِنَّ الْاِنْسَانَ لَكَفُوْرٌ مُّبِیْنٌؕ۠(۱۵)

ترجمۂ کنزالایمان:  اور اس کے لیے اس کے بندوں  میں  سے ٹکڑا ٹھہرایا بے شک آدمی ُکھلا ناشکرا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  اور کافروں  نے اللہ کیلئے اس کے بندوں  میں  سے ٹکڑا (اولاد) قراردیا۔ بیشک آدمی کھلا ناشکرا ہے۔

{وَ جَعَلُوْا لَهٗ مِنْ عِبَادِهٖ جُزْءًا: اور کافروں  نے اللہ کیلئے اس کے بندوں  میں  سے ٹکڑا (اولاد) قرار دیا۔} یعنی کفار نے اس اقرار کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کا خالق ہے ،یہ ستم کیا کہ فرشتوں  کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں  بتایا اور چونکہ اولاد صاحب ِاولاد کا جز ہوتی ہے، توظالموں  نے اللہ تعالیٰ کے لئے جزقرار دے کر کیسا عظیم جرم کیا ہے، بیشک جو آدمی ایسی باتوں  کا قائل ہے اس کا کفر ظاہر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف اولاد کی نسبت کرناکفر ہے اور کفر سب سے بڑی ناشکری ہے۔(مدارک ،  الزخرف ،  تحت الآیۃ: ۱۵ ،  ص۱۰۹۷ ،  جلالین ،  الزخرف ،  تحت الآیۃ: ۱۵ ،  ص۴۰۶ ،  ملتقطاً)

اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ وَّ اَصْفٰىكُمْ بِالْبَنِیْنَ(۱۶)

ترجمۂ کنزالایمان:  کیا اس نے اپنے لیے اپنی مخلوق میں  سے بیٹیاں  لیں  اور تمہیں  بیٹوں  کے ساتھ خاص کیا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا اس نے اپنے لیے اپنی مخلوق میں  سے بیٹیاں  لیں  اور تمہیں  بیٹوں  کے ساتھ خاص کیا؟

{اَمِ اتَّخَذَ مِمَّا یَخْلُقُ بَنٰتٍ: کیا اس نے اپنے لیے اپنی مخلوق میں  سے بیٹیاں  لیں ۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے سرے سے اولاد محال ہونے کے باوجود اگر بالفرض اس کے لئے اولاد مان لی جائے تو کیا اس نے اپنے لیے اپنی مخلوق میں  سے بیٹیاں  لیں  اور تمہیں  خاص طور پر بیٹوں  سے نوازا؟ حالانکہ تم بیٹیوں  کو بیٹوں  سے کم تر سمجھتے ہو تو کیا اس نے کم تر چیز اپنے لئے رکھی اور اعلیٰ چیز تمہیں  عطا کی ؟تم کیسے جاہل ہو !

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمٰنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌ(۱۷)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن