30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نے ظالموں سے بدلہ لیا۔( مدارک ، الشوریٰ ، تحت الآیۃ: ۳۹ ، ص۱۰۹۱ ، خازن ، الشوریٰ ، تحت الآیۃ: ۳۹ ، ۴ / ۹۸-۹۹ ، ملتقطاً)
ظالم سے بدلہ لینے کی بجائے اسے معاف کر دینا بہتر ہے:
اس آیت سے معلوم ہو اکہ ظالم سے بدلہ لینا جائز ہے اور اس سے اتنا ہی بدلہ لیا جائے گا جتنا اس نے ظلم کیا لیکن بدلہ لینے پر قدرت کے باوجود معاف کر دینا بہت بہتر ہے۔تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مبارک زندگی میں اس کی بہت ساری مثالیں موجود ہیں ،ان میں سے 4 مثالیں درج ذیل ہیں ،
(1)… صلحِ حُدَیْبِیَہ کے سال جبل ِتنعیم کی طرف سے اسّی افراد کا گروہ نبیٔ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کوشہید کرنے کے ارادے سے آیا،جب آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان پر غلبہ پا لیا تو انتقام پر قدرت کے باوجود ان پر احسان کرتے ہوئے چھوڑ دیا۔
(2)…غورث بن حارث جس نے نیند کی حالت میں سر کارِدو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر وار کرنے کی کوشش کی، لیکن حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ بیدار ہو گئے اور جب اس کی تلوار آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قبضے میں آگئی اور صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو بلا کر ا س کے ارادے سے باخبر بھی کر دیاتو قدرت کے باوجود آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اسے معاف کر دیا۔
(3)… لبید بن عاصم جس نے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پرجادو کیا ،آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس سے بدلہ لینے کی قدرت کے باوجود معاف کر دیا۔
(4)…مرحب یہودی کی بہن زینب جس نے زہر لگی ران بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں بھیجی، آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی ذات کی وجہ سے ا س سے کوئی بدلہ نہ لیا لیکن جب حضرت بشر بن براء رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ اس زہر کے اثر کی وجہ سے انتقال کر گئے تو آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس عورت پر شرعی سزا جاری کی۔( تفسیر ابن کثیر ، الشوریٰ ، تحت الآیۃ: ۳۹ ، ۷ / ۱۹۳-۱۹۴)
وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَاۚ-فَمَنْ عَفَا وَ اَصْلَحَ فَاَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِؕ-اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ(۴۰)
ترجمۂ کنزالایمان: اور بُرائی کا بدلہ اُسی کی برابر برائی ہے تو جس نے معاف کیا اور کام سنوارا تو اس کا اجر اللہ پر ہے بے شک وہ دوست نہیں رکھتا ظالموں کو۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور برائی کا بدلہ اس کے برابر برائی ہے تو جس نے معاف کیا اور کام سنواراتو اس کا اجر اللہ پر ہے، بیشک وہ ظالموں کوپسند نہیں کرتا۔
{وَ جَزٰٓؤُا سَیِّئَةٍ سَیِّئَةٌ مِّثْلُهَا: اور برائی کا بدلہ اس کے برابر برائی ہے۔} اس کا معنی یہ ہے کہ بدلہ جرم کے برابر ہونا چاہیے اوراس میں زیادتی نہ ہو، اور بدلے کو برائی سے صورۃً مشابہ ہونے کی وجہ سے مجازی طور پربرائی کہا جاتا ہے کیونکہ جس کو وہ بدلہ دیاجائے اسے برا معلوم ہوتا ہے اور بدلے کو برائی کے ساتھ تعبیر کرنے میں یہ بھی اشارہ ہے کہ اگرچہ بدلہ لینا جائز ہے لیکن معاف کر دینا اس سے بہتر ہے۔( مدارک ، الشوریٰ ، تحت الآیۃ: ۴۰ ، ص۱۰۹۱ ، خازن ، الشوریٰ ، تحت الآیۃ: ۴۰ ، ۴ / ۹۹ ، ملتقطاً)
{فَمَنْ عَفَا: تو جس نے معاف کیا۔} یعنی جس نے ظالم کو معاف کر دیا اور معافی کے ذریعے اپنے اور ظالم کے مابین معاملے کی اصلا ح کی تو اس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ٔکرم پر ہے۔بے شک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو ظلم کی ابتداء کرتے ہیں یا بدلہ لینے میں حد سے تجاوُز کرتے ہیں ۔( مدارک ، الشوریٰ ، تحت الآیۃ: ۴۰ ، ص۱۰۹۱)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ برائی کے برابر بدلہ لینا اگرچہ جائز ہے لیکن بدلہ نہ لینا اور معاف کر دینا افضل ہے۔ ترغیب کے لئے یہاں ظالم کو معاف کر دینے کے دو فضائل ملاحظہ ہوں ،
(1)…نبیٔ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ قیامت کے دن عرش کے درمیانی حصے سے ایک مُنادی اعلان کرے گا’’اے لوگو! سنو،جس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ٔکرم پر ہے اسے چاہئے کہ وہ کھڑ اہو جائے،تو اس شخص کے علاوہ اور کوئی کھڑا نہ ہو گا جس نے(دنیا میں ) اپنے بھائی کا جرم معاف کیا تھا۔( ابن عساکر ، ذکر من اسمہ ربیعۃ ، ۲۱۵۹-الربیع بن یونس بن محمد بن کیسان۔۔۔ الخ ، ۱۸ / ۸۷)
(2)… حضرت اُبی بن کعب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:
’’جسے یہ پسند ہو کہ اس کے لئے (جنت میں ) محل بنایا جائے اور اس کے درجات بلند کئے جائیں تو اسے چاہئے کہ جو اس پر ظلم کرے اسے معاف کر دیا کرے ،جو اسے محروم کرے اسے عطا کیا کرے اور جو اس سے تعلق توڑے تو اس کے ساتھ صلہ رحمی کیا کرے۔( مستدرک ، کتاب التفسیر ، تفسیر سورۃ آل عمران ، شرح آیۃ: کنتم خیر امّۃ۔۔۔ الخ ، ۳ / ۱۲ ، الحدیث: ۳۲۱۵)
یاد رہے کہ ظالم سے بدلہ لینا ایک فطرتی تقاضا ہے اور شریعت نے ا س کی اجازت بھی دی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی نے تھپڑ مارا تو اسے دو تھپڑ مارے جائیں ،کسی نے سر پھاڑا تو اس کے سر کے ساتھ ساتھ اس کے جسم کو بھی ادھیڑ کر رکھ دیاجائے ،کسی نے بازو توڑا تو اس کے بازو کو جسم سے ہی اتار دیا جائے ،کسی نے ٹانگ توڑی تو اس کی ٹانگ ہی کاٹ دی جائے ،کسی نے قتل کر دیا تو ا س کے پورے خاندان کو ہی موت کی نیند سلا دیا جائے بلکہ جتنا اس پر ظلم ہوا اتنا ہی بدلہ لینے کی اجازت ہے اس سے زیادہ بدلہ ہر گز نہیں لے سکتا۔اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع