دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-9-Para-25-To-27 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-نہم- پارہ پچیس تا ستائیس

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-نہم- پارہ پچیس تا ستائیس

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بغیر کانٹے والی بیریوں  کے درختوں  میں  ہوں  گے ۔اور کیلے کے گچھوں  میں ۔

{ فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ: بغیر کانٹے والی بیریوں  کے درختوں  میں  ہوں  گے۔ } یہاں  سے دائیں  جانب والوں  کی جزا  بیان کی جا رہی ہے کہ وہ ایسی جنَّتوں  میں  مزے لوٹیں  گے جن میں  بیری کے ایسے درخت ہوں  گے جن پر کانٹے نہیں  لگے ہوں  گے۔

بیری کے جنَّتی درخت کی شان:

                                                 حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں ،حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابہ ٔکرام  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ فرمایا کرتے تھے کہ بے شک اللہ تعالیٰ ہمیں  دیہاتی مسلمانوں  اور ان کے ( پوچھے گئے )  سوالات کی وجہ سے فائدہ پہنچاتا ہے۔ایک دن ایک دیہاتی مسلمان آئے اور انہوں  نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بے شک اللہ تعالیٰ نے قرآن میں  ایک اذِیَّت ناک درخت کا ذکر فرمایا ہے اور میرا یہ گمان نہیں  کہ جنت میں  کوئی ایسا درخت ہو جو اپنے مالک کے لئے تکلیف دِہ ثابت ہو۔حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اس سے ارشاد فرمایا ’’وہ کونسا درخت ہے؟اس نے عرض کی:بیری کا درخت،(یہ اذِیَّت ناک اس لئے ہے)کہ اس کے اوپر کانٹے لگے ہوتے ہیں ۔ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:( کیا اللہ تعالیٰ نے یہ ارشاد نہیں  فرمایا) ’’ فِیْ سِدْرٍ مَّخْضُوْدٍ ‘‘ اللہ تعالیٰ اس کے کانٹے کاٹ دے گا اور ہر کانٹے کی جگہ پھل پیدا فرمائے گا،لہٰذا وہ درخت (کانٹوں  کی بجائے) پھل اُگائے گا اور اس کے پھل میں  72 رنگ ظاہر ہوں  گے اور ان میں  سے کوئی رنگ بھی دوسرے کے مشابہ نہ ہو گا۔( مستدرک ،  کتاب التفسیر ،  تفسیرسورۃ الواقعۃ ،  سدر الجنّۃ مخضود۔۔۔ الخ ،  ۳ / ۲۸۷ ،  الحدیث: ۳۸۳۰)

{ وَ طَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ: اور کیلے کے گچھوں  میں ۔} یعنی دائیں  جانب والے ان جنَّتوں  میں  مزے کریں  گے جن میں  کیلے کے ایسے درخت ہوں  گے جو جڑ سے چوٹی تک کیلے کے گچھوں  سے بھرے ہوئے ہوں  گے۔

وَّ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍۙ(۳۰) وَّ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍۙ(۳۱)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہمیشہ کے سائے میں  ۔اور ہمیشہ جاری پانی میں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور دراز سائے میں ۔اور جاری پانی میں ۔

{وَ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ: اور ہمیشہ کے سائے میں ۔} ارشاد فرمایا کہ دائیں  جانب والے ان جنتوں  میں  ہمیشہ رہنے والے دراز سائے میں  ہوں  گے۔

                                                حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جنت میں  ایک ایسا درخت ہے جس کے سائے میں  سوار شخص سو سال تک دوڑتا رہے تو وہ اسے طے نہ کر سکے گا، اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو’’وَ ظِلٍّ مَّمْدُوْدٍ ‘‘۔(بخاری ،  کتاب التفسیر ،  سورۃ الواقعۃ ،  باب وظلّ ممدود ،  ۳ / ۳۴۵ ،  الحدیث: ۴۸۸۱)

جنت میں  سایہ ہے یا نہیں ؟

                                                جنت میں  سایہ ہے یا نہیں ، اس بارے میں  بعض مفسرین کاقول ہے کہ جنت میں  سورج نہ ہونے کے باوجود سایہ ہے، جیسا کہ ابو عبد اللہ محمد بن احمد قرطبی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  ’’پوری جنت سائے دار ہے حالانکہ وہاں  سورج نہیں  ہے۔( تفسیر قرطبی ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۳۰ ،  ۹ / ۱۵۳ ،  الجزء السابع عشر)

                                                اور بعض مفسرین کے نزدیک جنت میں  سایہ نہیں  اور آیت میں  سائے سے اس کا مجازی معنی مراد ہے ،جیسا کہ علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  کہ یہاں  آیت میں  سائے سے (اس کا حقیقی معنی نہیں  بلکہ مجازی معنی) راحت و آرام مراد ہے۔( روح البیان ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۳۰ ،  ۹ / ۳۲۵)

{وَ مَآءٍ مَّسْكُوْبٍ: اور جاری پانی میں ۔} یعنی دائیں  جانب والے ان جنتوں  میں  ہوں  گے جن کی زمینی سطح پر پانی ہمیشہ کے لئے جاری ہو گا اور وہ جب چاہیں  جہاں  سے چاہیں  کسی مشقت کے بغیر پانی حاصل کر لیں  گے۔( روح البیان ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۳۱ ،  ۹ / ۳۲۵ ،  ملتقطاً)

وَّ فَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍۙ(۳۲) لَّا مَقْطُوْعَةٍ وَّ لَا مَمْنُوْعَةٍۙ(۳۳) وَّ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍؕ(۳۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بہت سے میووں  میں ۔جو نہ ختم ہوں  اور نہ روکے جائیں  ۔اور بلند بچھونوں  میں  ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بہت سے پھلوں  میں ۔جو نہ ختم ہوں  گے اور نہ روکے جائیں  گے۔اور بلند بچھونوں  میں ہوں  گے۔

{وَ فَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ: اور بہت سے پھلوں  میں ۔}  اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ دائیں  جانب والے ان جنتوں  میں  ہوں  گے جن میں  مختلف اَجناس اور اَقسام کے بہت سے پھل ہیں  اور وہ پھل کبھی ختم نہ ہوں  گے کیونکہ جب بھی کوئی پھل توڑ اجائے گا تو فوراً اس کی جگہ ویسے ہی دو پھل آ جائیں  گے اور اہلِ جنت کوان پھلوں  کے استعمال سے نہ کوئی روک ٹوک ہوگی، نہ شرعی رکاوٹ، نہ طبی پابندی اور نہ کسی بندے کی طر ف سے ممانعت ہو گی۔

{وَ فُرُشٍ مَّرْفُوْعَةٍ: اور بلند بچھونوں  میں  ہوں  گے۔} اس آیت کے معنی یہ ہیں  کہ دائیں  جانب والے جنتوں  میں  آرام کے بستروں  میں  ہوں  گے جوجواہرات سے سجے ہوئے اونچے اونچے تختوں  پربچھے ہوئے ہوں  گے۔( خازن ،  الواقعۃ ،  تحت الآیۃ: ۳۴ ،  ۴ / ۲۱۹ ،  ملتقطاً)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن