دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-9-Para-25-To-27 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-نہم- پارہ پچیس تا ستائیس

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-نہم- پارہ پچیس تا ستائیس

الحدیث: ۲۰۰۲)

                                                اُمُّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا سے روایت ہے، نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشادفرمایا’’  میں  کسی کی نقل اتارنا پسند نہیں  کرتا اگرچہ اس کے بدلے میں  مجھے بہت مال ملے۔( ابو داؤد ،  کتاب الادب ،  باب فی الغیبۃ ،  ۴ / ۳۵۳ ،  الحدیث: ۴۸۷۵)

                                                حضرت حسن رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے،تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے دن لوگوں  کا مذاق اڑانے والے کے سامنے جنت کا ایک دروازہ کھولا جائے گا اور کہا جائے گا کہ آؤ آؤ، تو وہ بہت ہی بے چینی اور غم میں  ڈوبا ہوا اس دروازے کے سامنے آئے گا مگر جیسے ہی وہ دروازے کے پاس پہنچے گا وہ دروازہ بند ہو جائے گا ،پھر ایک دوسرا جنت کا دروازہ کھلے گا اور اس کو پکارا جائے گا: آؤ یہاں  آؤ، چنانچہ یہ بے چینی اور رنج وغم میں  ڈوبا ہوا اس دروازے کے پاس جائے گا تو وہ دروازہ بند ہو جائے گا،اسی طرح اس کے ساتھ معاملہ ہو تا رہے گا یہاں  تک کہ دروازہ کھلے گا اور پکارپڑے گی تو وہ ناامیدی کی وجہ سے نہیں  جائے گا۔ (اس طرح وہ جنت میں  داخل ہو نے سے محروم رہے گا)( موسوعۃ ابن ابی دنیا ،  الصّمت وآداب اللّسان ،  باب ما نہی عنہ العباد ان یسخر... الخ ،  ۷ / ۱۸۳ ،  الحدیث: ۲۸۷)

                                                 حضرت علامہ عبد المصطفٰی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں :کسی کو ذلیل کرنے کے لیے اور اس کی تحقیر کرنے کے لیے اس کی خامیوں  کو ظاہر کرنا ،اس کا مذاق اڑانا،اس کی نقل اتارنایا اس کو طعنہ مارنا یا عار دلانا یا اس پر ہنسنا یا اس کو بُرے بُرے اَلقاب سے یاد کرنا اور اس کی ہنسی اُڑانا مثلاً آج کل کے بَزَعمِ خود اپنے آپ کو عُرفی شُرفاء کہلانے والے کچھ قوموں  کو حقیر و ذلیل سمجھتے ہیں  اور محض قومِیَّت کی بنا پر ان کا تَمَسْخُر اور اِستہزاء کرتے اور مذاق اڑاتے رہتے ہیں  اور قِسم قسم کے دل آزار اَلقاب سے یاد کرتے رہتے ہیں ،کبھی طعنہ زنی کرتے ہیں ، کبھی عار دلاتے ہیں ، یہ سب حرکتیں  حرام و گناہ اور جہنم میں  لے جانے والے کام ہیں ۔لہٰذا ان حرکتوں  سے توبہ لازم ہے، ورنہ یہ لوگ فاسق ٹھہریں  گے۔ اسی طرح سیٹھوں  اور مالداروں  کی عادت ہے کہ وہ غریبوں  کے ساتھ تَمَسْخُر اور اہانت آمیز القاب سے ان کو عار دلاتے اور طعنہ زنی کرتے رہتے ہیں  اور طرح طرح سے ان کا مذاق اڑایا کرتے ہیں  جس سے غریبوں  کی دل آزاری ہوتی رہتی ہے، مگر وہ اپنی غُربَت اور مُفلسی کی وجہ سے مالداروں  کے سامنے دَم نہیں  مار سکتے۔ ان مالدارو ں  کو ہوش میں  آ جانا چاہیے کہ اگر وہ اپنے ان کَرتُوتوں  سے توبہ کرکے باز نہ آئے تو یقینا وہ قہرِ قَہّار و غضبِ جَبّار میں  گرفتار ہو کر جہنم کے سزاوار بنیں  گے اور دنیا میں  ان غریبوں  کے آنسو قہرِ خداوندی کا سیلاب بن کر ان مالداروں  کے محلات کو خَس و خاشاک کی طرح بہا لے جائیں  گے۔(جہنم کے خطرات،ص۱۷۵-۱۷۶)

 خوش طبعی کرنے کا حکم:

                        یاد رہے کہ کسی شخص سے ایسا مذاق کرنا حرام ہے جس سے اسے اَذِیَّت پہنچے البتہ ایسا مذاق جوا سے خوش کر دے، جسے خوش طبعی اور خوش مزاجی کہتے ہیں  ،جائز ہے، بلکہ کبھی کبھی خوش طبعی کرنا سنت بھی ہے جیسا کہ مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  ’’حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَسَلَّمَ سے کبھی کبھی خوش طبعی کرنا ثابت ہے ، اسی لیے علماءِ کرام فرماتے ہیں  کہ کبھی کبھی خوش طبعی کرنا سنتِ مُسْتحبہ ہے۔( مراٰۃ المناجیح، ۶ / ۴۹۳-۴۹۴)

                                                امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ فرماتے ہیں  :اگر تم اس بات پر قادر ہو کہ جس پر نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ قادر تھے کہ مزاح (یعنی خوش طبعی) کرتے وقت صرف حق بات کہو،کسی کے دل کو اَذِیَّت نہ پہنچاؤ،حد سے نہ بڑھو اور کبھی کبھی مزاح کرو تو تمہارے لئے بھی کوئی حرج نہیں  لیکن مزاح کو پیشہ بنا لینا بہت بڑی غلطی ہے۔( احیاء علوم الدین ،  کتاب آفات اللّسان ،  الآفۃ العاشرۃ المزاح ،  ۳ / ۱۵۹)

                                                مزید فرماتے ہیں  :وہ مزاح ممنوع ہے جو حد سے زیادہ کیا جائے اور ہمیشہ اسی میں  مصروف رہا جائے اور جہاں  تک ہمیشہ مزاح کرنے کا تعلق ہے تو اس میں  خرابی یہ ہے کہ یہ کھیل کود اور غیر سنجیدگی ہے ،کھیل اگرچہ (بعض صورتوں  میں ) جائز ہے لیکن ہمیشہ اسی کام میں  لگ جانا مذموم ہے اور حد سے زیادہ مزاح کرنے میں  خرابی یہ ہے کہ اس کی وجہ سے زیادہ ہنسی پیدا ہوتی ہے اور زیادہ ہنسنے سے دل مر دہ ہوجاتا ہے ، بعض اوقات دل میں  بغض پیدا ہو جاتا ہے اور ہَیبَت و وقار ختم ہو جاتا ہے، لہٰذا جو مزاح ان اُمور سے خالی ہو وہ قابلِ مذمت نہیں  ، جیسا کہ نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’بے شک میں  بھی مزاح کرتا ہوں  اور میں  (خوش طبعی میں ) سچی بات ہی کہتا ہوں ۔( معجم الاوسط ،  باب الالف ،  من اسمہ: احمد ،  ۱ / ۲۸۳ ،  الحدیث: ۹۹۵)

                                                لیکن یہ بات تو آپ کے ساتھ خاص تھی کہ مزاح بھی فرماتے اور جھوٹ بھی نہ ہوتا لیکن جہاں  تک دوسرے لوگوں  کا تعلق ہے تو وہ مزاح اسی لئے کرتے ہیں  کہ لوگوں  کو ہنسائیں  خواہ جس طرح بھی ہو، اور (اس کی وعید بیان کرتے ہوئے) نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ایک شخص کوئی بات کہتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے ہم مجلس لوگوں  کوہنساتا ہے ،اس کی وجہ سے ثُرَیّا ستارے سے بھی زیادہ دور تک جہنم میں  گرتا ہے۔( مسند امام احمد  ،  مسند ابی ہریرۃ رضی اللّٰہ عنہ  ،  ۳ / ۳۶۶  ،  الحدیث: ۹۲۳۱ ،  احیاء علوم الدین ،  کتاب آفات اللسان ،  الآفۃ العاشرۃ المزاح ،  ۳ / ۱۵۸)

                                                اللہ تعالیٰ ہمیں  جائز خوش طبعی کرنے اور ناجائز خوش طبعی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

 سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی خوش طبعی:

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن