30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سے چھین لیے جائیں گے اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو اس مظلوم کے گناہ لے کر اس پر ڈال دیئے جائیں گے ۔( بخاری ، کتاب المظالم و الغصب ، باب من کانت لہ مظلمۃ عند الرجل... الخ ، ۲ / ۱۲۸ ، الحدیث: ۲۴۴۹ ، مشکاۃ المصابیح ، کتاب الآداب ، باب الظّلم ، الفصل الاول ، ۲ / ۲۳۵ ، الحدیث: ۵۱۲۶)
اس سے معلوم ہوا کہ معاشرتی امن کو قائم کرنے اور اس کی راہ میں حائل ایک بڑی رکاوٹ’’ظلم‘‘ کو ختم کرنے میں اسلام کا کردار سب سے زیادہ ہے اور اس کی کوششیں دوسروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ کارگَر ہیں کیونکہ جب لوگ ظالم کو ظلم کرنے سے روک دیں گے تو وہ ظلم نہ کر سکے گا اور ظالم جب اتنی ہَولْناک وعیدیں سنے گا تواس کے دل میں خوف پیدا ہو گا اور یہی خوف ظلم سے باز آنے میں اس کی مدد کرے گا، یوں معاشرے سے ظلم کا جڑ سے خاتمہ ہو گا اور معاشرہ امن و سکون کا پُرلُطف باغ بن جائے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں دینِ اسلام کے احکامات اور تعلیمات کو صحیح طریقے سے سمجھنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
مظلوم کی حمایت اور فریاد رَسی کرنے کے دو فضائل:
یہاں آیت کی مناسبت سے مظلوم کی حمایت کرنے اور اس کی فریاد رسی کرنے کے دو فضائل ملاحظہ ہوں ،
(1)… حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جو کسی مظلوم کی فریاد رسی کرے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے 73مغفرتیں لکھے گا، ان میں سے ایک سے اس کے تمام کاموں کی درستی ہوجائے گی اور 72 سے قیامت کے دن اس کے درجے بلند ہوں گے۔( شعب الایمان ، الثالث والخمسون من شعب الایمان... الخ ، ۶ / ۱۲۰ ، الحدیث: ۷۶۷۰)
(2)…اورحضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’جو کسی مظلوم کے ساتھ اس کی مدد کرنے چلے تو اللہ تعالیٰ اسے اس دن ثابت قدمی عطا فرمائے گا جس دن قدم پھسل رہے ہوں گے۔( حلیۃ الاولیاء ، مالک بن انس ، ۶ / ۳۸۳ ، الحدیث: ۹۰۱۲)
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی مظلوم کی حمایت اور مدد کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ اور ان کے باہمی اختلافات سے متعلق8اَہم باتیں :
اس آیت کے شانِ نزول میں (اگرچہ جھگڑے میں کچھ منافق بھی شریک تھے لیکن) اہلِ ایمان کے اختلاف کا بھی ذکر ہوا ،اسی مناسبت سے یہاں صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ اور ان کے باہمی اختلافات سے متعلق اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے کلام سے8اَہم باتوں کا خلاصہ ملاحظہ ہو،
(1)… تابعین سے لے کر قیامت تک امت کا کوئی بڑے سے بڑ اولی کسی کم مرتبے والے صحابی کے رتبہ تک نہیں پہنچ سکتا ۔
(2)… اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جو قرب صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو حاصل ہے وہ کسی دوسرے امتی کو مُیَسَّر نہیں اور جو بلند درجات یہ پائیں گے وہ کسی اور امتی کو نہ ملیں گے۔
(3)…اہلسنّت کے خواص اور عوام پہلے سے آخری درجے تک کے تمام صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو انتہاء درجے کا نیک اور متقی جانتے ہیں اور ان کے اَحوال کی تفاصیل کہ کس نے کس کے ساتھ کیاکیا اور کیوں کیا،اس پر نظر کرنا حرام مانتے ہیں ۔
(4)… اگر صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ میں سے کسی کا کوئی ایسا فعل منقول ہے جو کم نظر کی آنکھ میں ان کی شان سے قدرے گرا ہوا ہو اور اس میں کسی کو اعتراض کرنے کی گنجائش ملے تو (اس کے بارے میں اہلسنت کے علماء اور عوام کا طرزِ عمل یہ ہے کہ وہ) اس کا اچھا مَحمل بیان کرتے ہیں ، اسے ان کے قلبی اخلاص اور اچھی نیت پر محمول کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کا سچا فرمان ’’رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ‘‘ سن کر دل کے آئینے میں تفتیش کے زنگ کو جگہ نہیں دیتے اور حقیقی اَحوال کی تحقیق کے نام کا میل کچیل، دل کے آئینے پر چڑھنے نہیں دیتے۔
(5)… صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے رتبے ہماری عقل سے وراء ہیں ،پھر ہم اُن کے معاملات میں کیسے دخل دے سکتے ہیں اوران میں صورۃً جو تنازعات اور اختلافات واقع ہوئے ہم ان کا فیصلہ کرنے والے کون ہیں ؟ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا کہ ہم ایک کی طرف داری میں دوسرے کو برا کہنے لگیں ، یا ان جھگڑوں میں ایک فریق کو دنیا طلب ٹھہرائیں ، بلکہ یقین سے جانتے ہیں کہ وہ سب دین کی مَصلحتوں کے طلبگار تھے،اسلام اور مسلمانوں کی سربلندی ان کا نَصبُ العَین تھی، پھر وہ مُجتہد بھی تھے ،توجس کے اجتہاد میں جو بات اللہ تعالیٰ کے دین اور تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شریعت کے لیے زیادہ مَصلحت آمیز اور مسلمانوں کے اَحوال سے مناسب ترمعلوم ہوئی،اس نے اسے اختیار کیا، اگرچہ اجتہاد میں خطا ہوئی اور ٹھیک بات ذہن میں نہ آئی لیکن وہ سب حق پر ہیں اور سب واجبُ الاحترام ہیں ، ان کا حال بالکل ایسا ہے جیسا دین کے فروعی مسائل میں خود علماءِ اہلسنت بلکہ ان کے مُجتہدین مثلاً امامِ اعظم ابوحنیفہ اور امامِ شافعی وغیرہما رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے اختلافات ہیں ۔
(6)…مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ ان جھگڑوں کے سبب صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ میں ایک دوسرے کو نہ گمراہ فاسق جانیں اور نہ ہی ان میں سے کسی کے دشمن ہوں بلکہ مسلمانوں کو تو یہ دیکھنا چاہیے کہ سب صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ آقائے دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کے جاں نثار اور سچے غلام ہیں ، اللہ تعالیٰ او ر رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کی بارگاہوں میں مُعَظَّم و مُعَزَّز اور آسمانِ ہدایت کے روشن ستارے ہیں ۔
(7)… صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے بارے میں یاد رکھنا چاہئے کہ وہ انبیاء اورفرشتے نہ تھے کہ گناہ سے معصوم ہوں ، ان میں سے بعض حضرات سے لغزشیں صادر ہوئیں مگر ان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع