30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کہیں گے ہم اس پر ایمان لائے اور اب ان کیلئے دور کی جگہ سے (ایمان) پالینا کیسے ہوگا؟ حالانکہ وہ پہلے اس کا انکار کرچکے اور بغیر دیکھے ہی دور کی جگہ سے پھینکتے تھے۔
{وَ قَالُوْا: اور کہیں گے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جب وہ عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے کہ ہم نبیٔ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لائے، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اب وہ مُکَلَّف ہونے کی جگہ (یعنی دنیا) سے دور ہو کر توبہ و ایمان کیسے پاسکیں گے؟حالانکہ عذاب دیکھنے سے پہلے وہ اس کا انکار کرچکے ہیں ۔( خازن، سبأ، تحت الآیۃ: ۵۲-۵۳، ۳ / ۵۲۸، جلالین، السبا، تحت الآیۃ: ۵۲-۵۳، ص۳۶۳، ملتقطاً)
وَ حِیْلَ بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ مَا یَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْیَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُؕ-اِنَّهُمْ كَانُوْا فِیْ شَكٍّ مُّرِیْبٍ۠(۵۴)
ترجمۂ کنزالایمان: اور روک کردی گئی ان میں اور اس میں جسے چاہتے ہیں جیسے ان کے پہلے گروہوں سے کیا گیا تھا بیشک وہ دھوکا ڈالنے والے شک میں تھے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ان کے درمیان اور ان کی چاہت کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی جیسے ان کے پہلے گروہوں کے ساتھ کیا گیا تھا بیشک وہ دھوکا ڈالنے والے شک میں تھے۔
{وَ حِیْلَ بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ مَا یَشْتَهُوْنَ: اور ان کے درمیان اور ان کی چاہت کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی۔} یعنی کفار کے درمیان اور ان کی چاہت توبہ وایمان قبول کرنے کے درمیان رکاوٹ ڈال دی گئی جیسے ان کے پہلے گروہوں کے ساتھ کیا گیا تھا کہ اُن کی توبہ و ایمان نا امیدی کے وقت قبول نہ فرمائی گئی،بیشک کفار اِیمانیات کے متعلق دھوکا ڈالنے والے شک میں تھے۔( خازن، سبأ، تحت الآیۃ: ۵۴، ۳ / ۵۲۸، جلالین، السبا، تحت الآیۃ: ۵۴، ص۳۶۳-۳۶۴، ملتقطاً)
صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ قرآنِ پاک کی آیات میں بہت غور و فکر کیا کرتے تھے ، ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے ٹھنڈا پانی پیا تو رونے لگ گئے ۔ان سے عرض کی گئی کہ آپ کو کیا چیز رُلا رہی ہے۔ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا: ’’مجھے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سے یہ آیت یاد آ گئی تھی: ’’وَ حِیْلَ بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ مَا یَشْتَهُوْنَ‘‘ اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ جہنمی صرف ٹھنڈے پانی کی خواہش کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے )اور جہنمی جنتیوں کو پکاریں گے):
’’اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ ‘‘(اعراف:۵۰)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: کہ ہمیں کچھ پانی دیدو یا اس رزق سے کچھ دیدو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے۔( شعب الایمان، الثالث والثلاثون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۴ / ۱۴۹، الحدیث: ۴۶۱۴)
ان مقدس ہستیوں کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ہمیں بھی چاہئے کہ قرآنِ مجید کی آیات میں غور و فکر کیا کریں اور ان میں بیان کئے گئے مضامین اور دیگر چیزوں سے عبرت اور نصیحت حاصل کیا کریں ۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
سورۂ فاطر مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیر سورۃ فاطر، ۳ / ۵۲۸)
اس میں 5 رکوع اور 45 آیتیں ہیں ۔
فاطر کا معنی ہے بنانے والا،اور اس سورت کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ کا یہ وصف بیان کیاگیا ہے کہ وہ آسمانوں اور زمینوں کو بنانے والا ہے،اس مناسبت سے اسے ’’سورۂ فاطر‘‘ کہتے ہیں ۔ نیزاس سورت کو ’’سورۂ ملائکہ‘‘ بھی کہتے ہیں کیونکہ ا س کی پہلی آیت میں فرشتوں کا ذکر ہے۔
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ ا س میں اللہ تعالیٰ کو ایک ماننے کی دعوت دی گئی اور اللہ تعالیٰ کے واحد اور موجود ہونے ، مُردوں کو زندہ کرنے پر قادر ہونے پر دلائل دئیے گئے ہیں ۔نیز اس میں مزید یہ چیزیں بیان کی گئی ہیں۔
(1)…کفارِ مکہ کے جھٹلانے پر حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلی دی گئی ہے۔
(2)…شیطان کے فریب اور دھوکہ دہی سے بچنے کاحکم دیا اور یہ بتایا گیا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے تم بھی اسے دشمن سمجھو۔
(3)…اللہ تعالیٰ کی قدرت کے آثار بیان کئے گئے ہیں ۔
(4)…یہ بتایا گیا کہ جو گناہوں سے بچا اور نیک اعمال کئے تو اس نے اپنے بھلے کے لئے ہی ایسا کیا ہے۔
(5)…حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی امت کے لوگوں کے مختلف مَراتِب اور درجات بیان کئے گئے ہیں۔
(6)…جنت میں مسلمانوں کا حال اور جہنم میں کافروں کا حال بیان کیاگیا ہے۔
(7)…یہ بتایا گیا ہے کہ جو کفر کرے گا تو اس میں اس کا اپنا ہی نقصان ہے۔
(8)…سورت کے آخر میں گناہوں پر فوری پکڑ نہ کرنے اور گناہگاروں کو مہلت دینے کی حکمت بیان کی گئی ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع