30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
۱۹۶)
اللہ تعالیٰ تمام مسلمان خواتین کو شریعت کے احکام کے مطابق پردہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
{وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَ: اور اللہ سے ڈرتی رہو۔} یعنی اے عورتو! تمہیں جو پردے کا حکم دیا گیااسے پورا کرو اوراس کی خلاف ورزی کرنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتی رہو یہاں تک کہ تمہیں کوئی غیر نہ دیکھے۔ تم پر اپنی طاقت کے مطابق احتیاط سے کام لینا لازم ہے اور یاد رکھو کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز پر نگہبان ہے اور بندوں کے اقوال اور افعال کسی حال میں بھی اس سے چھپے ہوئے نہیں ہیں۔(روح البیان،الاحزاب،تحت الآیۃ:۵۵،۷ / ۲۱۸، قرطبی،الاحزاب،تحت الآیۃ:۵۵،۷ / ۱۷۰،الجزء الرابع عشر، ملتقطاً)
اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ-یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(۵۶)
ترجمۂ کنزالایمان: بیشک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں اس غیب بتانے والے (نبی) پر اے ایمان والوان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں ۔ اے ایمان والو!ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔
{اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ: بیشک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں ۔} یہ آیت ِمبارکہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی صریح نعت ہے،جس میں بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پررحمت نازل فرماتا ہے اور فرشتے بھی آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حق میں دعائے رحمت کرتے ہیں اور اے مسلمانو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو یعنی رحمت و سلامتی کی دعائیں کرو۔
اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے انتہائی عقیدت و محبت کے ساتھ اَشعار کی صورت میں بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں درود و سلام کا ہدیہ پیش کیا ہے، انہی کے الفاظ میں ہم بھی عرض کرتے ہیں :
کعبہ کے بدرُالدُّجیٰ تم پہ کروڑوں درود طیبہ کے شمس الضُّحیٰ تم پہ کروڑوں درود
شافعِ روزِ جزا تم پہ کروڑوں درود دافعِ جملہ بلا تم پہ کروڑوں درود
اور
مصطفٰی جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام
شہریارِ اِرم تاجدارِ حرم نوبہارِ شفاعت پہ لاکھوں سلام
شبِ اسریٰ کے دولھا پہ دائم درود نوشۂ بزمِ جنت پہ لاکھوں سلام
صلوٰۃ کا لغوی معنی دعا ہے، جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے تو اس سے مراد رحمت فرمانا ہے اور جب اس کی نسبت فرشتوں کی طرف کی جائے تو اس سے مراد اِستغفار کرنا ہے اور جب ا س کی نسبت عام مومنین کی طرف کی جائے تو اس سے مراد دعا کرنا ہے۔(تفسیرات احمدیہ، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۵۶، ص۶۳۴)
علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : (یہاں آیت میں ) اللہ تعالیٰ کے درود بھیجنے سے مراد ایسی رحمت فرمانا ہے جو تعظیم کے ساتھ ملی ہوئی ہو اور فرشتوں کے درود بھیجنے سے مراد ان کا ایسی دعا کرنا ہے جو رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان کے لائق ہو۔( صاوی، الاحزاب، تحت الآیۃ: ۵۶، ۵ / ۱۶۵۴)
آیت ِدرود اور حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی عظمت و شان:
یہ آیت ِمبارکہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی انتہائی عظمت و شان پر دلالت کرتی ہے، یہاں اس سے متعلق بزرگانِ دین کے 3اِرشادات ملاحظہ ہوں :
(1)…حافظ محمد بن عبد الرحمٰن سخاوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :درود شریف کی آیت مدنی ہے اور ا س کا مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی وہ قدر و مَنزلت بتا رہا ہے جو مَلاءِ اعلیٰ (عالَمِ بالا یعنی فرشتوں ) میں اس کے حضور ہے کہ وہ مُقَرّب فرشتوں میں اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ثنا بیان فرماتا ہے اور یہ کہ فرشتے آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر صلاۃ بھیجتے ہیں ، پھر عالَمِ سِفلی کو حکم دیا کہ وہ بھی آپ پر صلاۃ و سلام بھیجیںتاکہ نیچے والی اور اوپر والی ساری مخلوق کی ثنا آپ پر جمع ہو جائے۔
مزید فرماتے ہیں :آیت میں صیغہ ’’ یُصَلُّوْنَ‘‘ لایا گیا ہے جو ہمیشگی پر دلالت کرتا ہے تاکہ معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ اور ا س کے فرشتے ہمارے نبی پر ہمیشہ ہمیشہ درود بھیجتے ہیں حالانکہ اَوّلین و آخرین کی انتہائی تمنا یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ایک خاص رحمت ہی انہیں حاصل ہو جائے تو زہے نصیب اور ان کی قسمت یہ کہاں !بلکہ اگر عقلمند سے پوچھا جائے کہ ساری مخلوق کی نیکیاں تیرے نامہِ اعمال میں ہوں ، تجھے یہ پسند ہے یا کہ اللہ تعالیٰ کی ایک خاص رحمت تجھ پر نازل ہو جائے؟ تو وہ اللہ تعالیٰ کی ایک خاص رحمت کو پسند کرے گا۔اِس بات سے اُس ذات کے مقام کے بارے میں اندازہ لگا لو جن پر ہمارا رب اور اس کے تمام ملائکہ ہمیشہ ہمیشہ درود بھیجتے ہیں ۔( القول البدیع، نبذۃ یسیرۃ من فوائد قولہ تعالی: انّ اللّٰہ وملائکتہ یصلّون علی النبی۔۔۔ الخ، ص۸۵-۸۶)
(2)…امام سہل بن محمد رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد ’’اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ‘‘ کے ساتھ محمد مصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جو شرف بخشا وہ ا س شرف سے زیادہ بڑا ہے جو فرشتوں کو حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دے کر حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بخشا تھا،کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرشتوں کے ساتھ سجدے میں شریک ہوناممکن ہی نہیں جبکہ نبیٔ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر دُرود بھیجنے کی خود اللہ تعالیٰ نے اپنے متعلق خبر دی ہے اور پھر فرشتوں کے متعلق خبر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع