دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-5-Para-13-To-15 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب وہ داخل ہوئے جہاں  سے ان کے باپ نے حکم دیا تھا وہ کچھ انہیں  اللّٰہ سے بچا نہ سکتا ہاں  یعقوب کے جی کی ایک خواہش تھی جو اس نے پوری کرلی اور بیشک وہ صاحبِ علم ہے ہمارے سکھائے سے مگر اکثر لوگ نہیں  جانتے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب وہ وہیں  سے داخل ہوئے جہاں  سے ان کے باپ نے حکم دیا تھا، وہ انہیں  اللّٰہ سے کچھ بچا نہ سکتے تھے البتہ یعقوب کے دل میں ایک خواہش تھی جو اس نے پوری کرلی اور بیشک وہ صاحب علم تھا کیونکہ ہم نے اسے تعلیم دی تھی مگر اکثر لوگ نہیں  جانتے۔

{وَ لَمَّا دَخَلُوْا:اور جب وہ داخل ہوئے۔} آیت کا معنی یہ ہے کہ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بیٹوں  کا مختلف دروازوں  سے شہر میں  داخل ہونا ان سے وہ چیز دور نہیں  کرسکتا جو اللّٰہ تعالیٰ نے ان کے لئے مقدر فرما دی ہے، اللّٰہ تعالیٰ کی تقدیر کو دیکھا جائے تو ان کا ایک ہی دروازے سے داخل ہونا یا مختلف دروازوں  سے داخل ہونا دونوں  برابر ہے، ان کا مختلف دروازوں  سے جانا اگرچہ اللّٰہ تعالیٰ کی تقدیر کو نہیں  ٹال سکتا لیکن بد نظری سے بچنے کی یہ تدبیر اختیار کرنا حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے دل کی ایک تمنا تھی جو انہوں  نے پوری کر لی ۔حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام صاحبِ علم تھے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں  تعلیم دی تھی مگر اکثر لوگ وہ علم نہیں  جانتے جو اللّٰہ تعالیٰ اپنے چنے ہوئے بندوں  کو دیتا ہے۔ (جلالین مع صاوی، یوسف، تحت الآیۃ: ۶۸، ۳ / ۹۶۹)

وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّیْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَىٕسْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(۶۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جب وہ یوسف کے پاس گئے اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی کہا یقین جان میں  ہی تیرا بھائی ہوں  تو یہ جو کچھ کرتے ہیں  اس کا غم نہ کھا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جب وہ سب بھائی یوسف کے پاس گئے تو یوسف نے اپنے سگے بھائی کو اپنے پاس جگہ دی (اور) فرمایا: بیشک میں  تیرا حقیقی بھائی ہوں  تو اس پر غمگین نہ ہونا جو یہ کررہے ہیں ۔

{وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ:اور جب وہ یوسف کے پاس گئے۔} یعنی جب وہ سارے بھائی حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس گئے اور اُنہوں نے کہا کہ ہم آپ کے پاس اپنے بھائی بنیامین کو لے آئے ہیں  توحضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا ’’ تم نے بہت اچھا کیا ،پھر انہیں  عزت کے ساتھ مہمان بنایا اور جا بجا دستر خوان لگائے گئے اور ہر دستر خوان پر دو دو بھائیوں  کو بٹھایا گیا ۔بنیامین اکیلے رہ گئے تو وہ رو پڑے اور کہنے لگے ’’اگر میرے بھائی حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامزندہ ہوتے تو وہ مجھے اپنے ساتھ بٹھاتے ۔ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ‘‘ تمہارا ایک بھائی اکیلا رہ گیا ہے، یہ فرما کر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے بنیامین کو اپنے دستر خوان پر بٹھالیا اور اس سے فرمایا ’’ تمہارے فوت شدہ بھائی کی جگہ میں  تمہارا بھائی ہوجاؤں  تو کیا تم پسند کرو گے؟ بنیامین نے کہا ’’ آپ جیسا بھائی کس کو مُیَسَّر آئے گا! لیکن حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا فرزند اور (حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی والدہ) راحیل کا نورِنظر ہونا آپ کو کیسے حاصل ہوسکتا ہے! یہ سن کرحضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام رو پڑے اور بنیامین کو گلے سے لگایا اور فرمایا: بیشک میں  تیرا حقیقی بھائی یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہوں ، تم اس پر غمگین نہ ہونا جو یہ کررہے ہیں ، بے شک اللّٰہ تعالیٰ نے ہم پر احسان کیا اور ہمیں  بھلائی کے ساتھ جمع فرما دیا اور ابھی اس راز کی اپنے بھائیوں  کو اطلاع نہ دینا ۔یہ سن کر بنیامین فرط ِمُسَرّت سے بے خود ہوگئے اور حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کہنے لگے’’ اب میں  آپ سے جدا نہیں  ہوں  گا۔ حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا’’ والد صاحب کو میری جدائی کا بہت غم پہنچ چکا ہے، اگر میں  نے تمہیں  بھی روک لیا تو انہیں  اور زیادہ غم ہوگا اور آپ کو روکنے کی اس کے علاوہ اور کوئی صورت بھی نہیں  کہ آپ کی طرف کوئی غیر پسندیدہ بات منسوب کر دی جائے۔ بنیامین نے کہا ’’اس میں  کوئی مضائقہ نہیں ۔ (مدارک، یوسف، تحت الآیۃ: ۶۹، ص۵۳۸-۵۳۹)

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ(۷۰)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر جب ان کا سامان مہیا کردیا پیالہ اپنے بھائی کے کجاوے میں  رکھ دیا پھر ایک منادی نے ندا کی اے قافلہ والو! بیشک تم چور ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر جب انہیں  ان کا سامان مہیا کردیا تو اپنے بھائی کی بوری میں  پیالہ رکھ دیا پھر ایک منادی نے ندا کی: اے قافلے والو! بیشک تم چور ہو۔

{فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ:پھر جب انہیں  ان کا سامان مہیا کردیا۔} یعنی پھر جب حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے انہیں  ان کا سامان مہیا کر دیا اور ان میں  سے ہر ایک کو ایک اونٹ کا بوجھ غلہ دیدیا اور ایک اونٹ کا بوجھ بنیامین کے لئے خاص کر دیا تو اپنے بھائی بنیامین کی بوری میں  بادشاہ کا وہ پیالہ رکھ دیا جس میں  وہ پانی پیتا تھا، وہ پیالہ سونے کا تھا اور اس میں  جواہرات لگے ہوئے تھے اور اس وقت اس پیالے سے غلہ ناپنے کا کام لیا جاتا تھا ۔ قافلہ کنعان جانے کے ارادے سے روانہ ہوگیا ۔جب قافلہ شہر سے باہر جاچکا تو انبار خانہ کے کارکنوں  کومعلوم ہوا کہ پیالہ نہیں  ہے، اُن کے خیال میں  یہی آیا کہ یہ پیالہ قافلے والے لے گئے ہیں ، چنانچہ اُنہوں  نے اس کی جستجو کے لئے آدمی بھیجے، ان میں  سے ایک مُنادی نے ندا کی: اے قافلے والو! بیشک تم چور ہو۔ (روح البیان، یوسف، تحت الآیۃ: ۷۰، ۴ / ۲۹۸، خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۷۰، ۳ / ۳۳-۳۴، ملتقطاً)

قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ(۷۱)قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ(۷۲)

ترجمۂ کنزالایمان: بولے اور ان کی طرف متوجہ ہوئے تم کیا نہیں  پاتے۔بولے بادشاہ کا پیمانہ نہیں  ملتا اور جو اسے لائے گا اس کے لیے ایک اونٹ کا بوجھ ہے اور میں  اس کا ضامن ہوں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:انہوں  نے پکارنے والوں  کی طرف متوجہ ہوکر کہا: کیاچیز تمہیں نہیں  مل رہی؟  ندا کرنے والوں  نے کہا: ہمیں بادشاہ کا پیمانہ نہیں  مل رہا اور جو اُسے لائے گا اس کے لیے ایک اونٹ کا بوجھ (انعام) ہے اور میں  اس کا ضامن ہوں ۔

{قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ:نداکرنے والوں  نے کہا: ہمیں بادشاہ کا پیمانہ نہیں  مل رہا۔} ندا کرنے والوں  نے انہیں  جواب دیا کہ ہمیں  بادشاہ کا پیمانہ نہیں  مل رہا اور جو ہمارے تلاشی لینے سے پہلے ہی اسے ظاہر کر دے گا یا اسے چوری کرنے والے کے بارے میں  ہمیں  بتائے گا تواس کے لئے ایک اونٹ کا بوجھ انعام ہے اور اسے دلانے کا میں  ضامن ہوں ۔ (روح البیان، یوسف، تحت الآیۃ: ۷۲، ۴ / ۲۹۹)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن