دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-5-Para-13-To-15 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تمہارے رب نے فرمایا مجھ سے دعا کرو میں  قبول کروں  گا بیشک وہ جو میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں  عنقریب ذلیل ہو کرجہنم میں  جائیں  گے۔

(6)…مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرنا۔ چنانچہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے

’’وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا‘‘(النساء:۹۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کردے تو اس کا بدلہ جہنم ہے عرصہ دراز تک اس میں  رہے گااور اللّٰہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

وَ نَبِّئْهُمْ عَنْ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَۘ(۵۱)

ترجمۂ کنزالایمان:اور انہیں  احوال سناؤ ابراہیم کے مہمانوں  کا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور انہیں  ابراہیم کے مہمانوں  کااحوال سناؤ۔

{وَ نَبِّئْهُمْ:اور انہیں  احوال سناؤ۔} اس سورت میں  سب سے پہلے اللّٰہ تعالیٰ نے سیّدُ المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت پر دلائل دئیے، اس کے بعد توحید پر دلائل ذکر فرمائے، پھر حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی تخلیق اور اس سے متعلق واقعات بیان فرمائے، پھر سعادت مندوں  اور بد بختوں  کے احوال بیان کئے اوراس آیت سے اللّٰہ تعالیٰ نے بعض انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے واقعات بیان فرمائے تاکہ ان واقعات کو سن کر لوگ عبرت حاصل کریں  اور ان میں  عبادت کا ذوق وشوق پیدا ہو۔ سب سے پہلے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان فرمایا، پھر حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا واقعہ، پھر حضرت شعیب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا واقعہ اور آخر میں  حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان فرمایا۔ چاروں  انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات یہاں  اِختصار کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں  ، ان واقعاتکی تفصیل سورۂ ہود میں  موجود ہے۔ (صاوی، الحجر، تحت الآیۃ: ۵۱، ۳ / ۱۰۴۶)

{عَنْ ضَیْفِ اِبْرٰهِیْمَ:ابراہیم کے مہمانوں  کا۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، میرے بندوں  کو حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مہمانوں  کا احوال سنائیں  جنہیں  ہم نے اس لئے بھیجا تھا کہ وہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو بیٹے کی بشارت دیں  اور حضرت لوطعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم کو ہلاک کریں  تاکہ میرے بندے حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم پر آنے والے عذاب ، اللّٰہ تعالیٰ کی ناراضی اور مجرموں  سے لئے گئے انتقام کو دیکھ کر عبرت حاصل کریں  اور انہیں  یقین ہو جائے کہ اللّٰہ تعالیٰ کا عذاب ہی سب سے سخت ہے۔ (خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۵۱، ۳ / ۱۰۴، مدارک، الحجر، تحت الآیۃ: ۵۱، ۵۸۳، ملتقطاً)یاد رہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مہمان کئی فرشتے تھے اور ان میں  حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام بھی تھے۔ (جلالین، الحجر، تحت الآیۃ: ۵۱، ص۲۱۳)

اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًاؕ-قَالَ اِنَّا مِنْكُمْ وَ جِلُوْنَ(۵۲)

ترجمۂ کنزالایمان: جب وہ اس کے پاس آئے تو بولے سلام کہا ہمیں  تم سے ڈر معلوم ہوتا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:جب وہ اس کے پاس آئے تو کہنے لگے: ’’سلام ‘‘ابراہیم نے فرمایا:ہم تم سے ڈر رہے ہیں ۔

{اِذْ دَخَلُوْا عَلَیْهِ:جب وہ اس کے پاس آئے ۔} یعنی فرشتے جب حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے پاس آئے تو انہوں  نے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو سلام کیا اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی تعظیم و توقیر کی۔حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ان سے فرمایا ’’ہم تم سے ڈر رہے ہیں۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا مہمانوں  سے خوف کھانے کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ اجازت کے بغیر اور بے وقت آئے تھے اور دوسری وجہ یہ تھی کہ مہمانوں  نے ان کا پیش کردہ بھنا ہوا بچھڑا کھانے سے انکارکر دیا تھا اور اس دور میں  مہمان کا کھانے سے ا نکار کر دینا دشمنی کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ (ابوسعود، الحجر، تحت الآیۃ: ۵۲، ۳ / ۲۳۰، بیضاوی، الحجر، تحت الآیۃ: ۵۲، ۳ / ۳۷۴، ملتقطاً)

قَالُوْا لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ(۵۳)

ترجمۂ کنزالایمان: انہوں  نے کہا ڈرئیے نہیں  ہم آپ کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: انہوں  نے عرض کیا: آپ نہ ڈریں ، بیشک ہم آپ کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں ۔

{اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِیْمٍ:بیشک ہم آپ کو ایک علم والے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں ۔} علم والے لڑکے سے مراد حضرت اسحاق عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہیں ۔ (خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۵۳، ۳ / ۱۰۴)

فرشتوں  کا علم:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ فرشتوں  کو اللّٰہ تعالیٰ کے بتانے سے یہ معلوم تھا کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہاں  بیٹا پیدا ہو گا اور وہ علم والا اور نبی ہو گا۔ معلوم ہوا کہ اللّٰہ تعالیٰ اپنے مقبول بندوں  میں  سے جسے چاہے غیب کا علم عطا فرماتا ہے۔

اولاد کو علمِ دین سکھائیے:

            اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عالِم بیٹا اللّٰہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے۔ا س میں  ہر مسلمان کے لئے نصیحت ہے کہ وہ اپنی اولاد کو دین کاعلم بھی سکھائے اور اس علم کو سکھانے میں  اُس سے زیادہ توجہ دے جتنی دنیا کا علم سکھانے پر توجہ دیتا ہے۔ افسوس فی زمانہ مسلمان دین کا علم حاصل کی ہوئی اولاد جیسی عظیم نعمت کی قدر اور اہمیت کی طرف توجہ نہیں  دیتے اور اپنے بیٹوں  میں  سے جسے ہوشیار و ذہین دیکھتے ہیں  اسے دنیا کی تعلیم دلواتے ، اس کے لئے ماہر اساتذہ اور اونچے درجے کے سکول کا انتخاب کرتے ہیں  اور دن رات دنیوی علوم و فنون میں  اس کی ترقی کے لئے کوششیں  کرتے ہیں  اور اس کے مقابلے میں  اسے دلوائی گئی دینی تعلیم کا حال یہ ہوتا ہے کہ اسے ان عقائد کا علم نہیں  ہوتا جن پر مسلمان کے دین و ایمان اور اُخروی نجات کا دارومدار ہے، مسلمان کی اولاد ہونے کے باوجود اسے قرآنِ مجید تک صحیح پڑھنا نہیں  آتا، فرض عبادات سے متعلق بنیادی باتیں  نہیں  جانتا، نماز روزے اورحج زکوٰۃ کی ادائیگی ٹھیک طرح نہیں  کر پاتا اور

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن