30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور عذاب کاذکر بعد میں فرمایا)یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت اس کے غضب و عذاب پر سبقت رکھتی ہے۔
(3)…اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ارشاد فرمایا کہ وہ اس کے بندوں تک میری رحمت و مغفرت اور عذاب کی بات پہنچا دیں تو گویا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے رحمت و مغفرت کا اِلتزام فرمانے میں اپنی ذات پر اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو گواہ بنایا۔ (خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۵۰، ۳ / ۱۰۴)
یہی نِکات امام فخر الدین رازی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے بھی تفسیر کبیر میں بیان فرمائے ہیں ،اسی مقام پر آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مزید فرماتے ہیں کہ’’نَبِّئْ عِبَادِیْ‘‘کا معنی ہے کہ ہر اس شخص کو خبر دے دیں جو میرا بندہ ہونے کااعتراف کرتا ہے۔‘‘اس میں جس طرح اطاعت گزار مومن داخل ہے اسی طرح گناہگار مومن بھی اس میں داخل ہے اور یہ سب باتیں اس چیز پر دلالت کرتی ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت (اس کے غضب پر) غالب ہے۔(تفسیرکبیر، الحجر، تحت الآیۃ: ۴۹، ۷ / ۱۴۹)
اللّٰہ تعالٰی کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے:
اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت کا اس کے غضب پر غالب ہونے کا ذکر کثیر اَحادیث میں صراحت کے ساتھ بھی موجود ہے، چنانچہ صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ترمذی اور ابن ماجہ وغیرہ میں حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’جب اللّٰہ تعالیٰ مخلوق کو پیدا فرما چکا تو لوحِ محفوظ میں جو اس کے پاس عرش کے اوپر ہے،لکھ لیا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب آ گئی ہے۔ (بخاری، کتاب بدء الخلق، باب ما جاء فی قول اللّٰہ تعالٰی: وہو الذی یبدأ الخلق۔۔۔الخ، ۲ / ۳۷۵، الحدیث: ۳۱۹۴)
صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فرمایا: اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’میری رحمت میرے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔ (مسلم، کتاب التوبۃ، باب فی سعۃ رحمۃ اللّٰہ تعالٰی وانّہا سبقت غضبہ، ص۱۴۷۱، الحدیث: ۱۵(۲۷۵۱))دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اپنے غضب سے محفوظ فرمائے اور اپنی رحمت سے ہمیں بھی حصہ عطا فرمائے، اٰمین۔
{وَ اَنَّ عَذَابِیْ:اوربیشک میرا عذاب۔} یاد رہے کہ جو کفر کی حالت میں مرا وہ تو جہنم کے دردناک عذاب میں ہمیشہ کے لئے مبتلا ہو گا البتہ جو گناہگار مسلمان اپنے گناہوں سے توبہ کئے بغیر انتقال کر گیا تو اس کا معاملہ اللّٰہ تعالیٰ کی مَشِیَّت پر موقوف ہے کہ وہ چاہے تو اُسے گناہوں کی سزا دے یا چاہے تو اپنی رحمت سے اس کے تمام گناہ بخش دے اور اسے جنت عطا فرما دے۔
اللّٰہ تعالٰی کے عذاب میں مبتلا ہونے کے اَسباب:
یہاں یہ بھی یاد رہے کہ جس طرح بہت سے اسباب ایسے ہیں جن سے بندے کو اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت حاصل ہو تی ہے اسی طرح بہت سے اسباب ایسے بھی ہیں جن سے بندہ اللّٰہ تعالیٰ کے شدید اور دردناک عذاب میں مبتلا ہو جاتا ہے ،ان میں سے 6 اَسباب یہاں ذکر کئے جاتے ہیں ، ان اسباب میں کئی جگہ قدرِ مُشترک بھی ہے لیکن اپنے ظاہر کے اعتبار سے جدا جدا ہیں ۔
(1)…کفر کرنا۔ چنانچہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
’’فَاَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ٘-وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ‘‘(اٰل عمران:۵۶)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: پس جو لوگ کافر ہیں تومیں انہیں دنیاو آخرت میں سخت عذاب دوں گا اور ان کاکوئی مددگار نہ ہوگا۔
(2)…اللّٰہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا۔ چنانچہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ تَرَى الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلَى اللّٰهِ وُجُوْهُهُمْ مُّسْوَدَّةٌؕ-اَلَیْسَ فِیْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْمُتَكَبِّرِیْنَ‘‘(زمر:۶۰)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور قیامت کے دن تم اللّٰہ پر جھوٹ باندھنے والوں کو دیکھو گے کہ ان کے منہ کالے ہوں گے۔ کیامتکبروں کا ٹھکانہ جہنم میں نہیں ہے؟
(3)…منافقت اختیار کرنا۔ چنانچہ منافقوں کے بارے میں اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
’’یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ۚ-وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ(۹) فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌۙ-فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًاۚ-وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ ﳔ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ‘‘ (بقرہ:۹-۱۰)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ لوگ اللّٰہ کو اور ایمان والوں کو فریب دینا چاہتے ہیں حالانکہ یہ صرف اپنے آپ کو فریب دے رہے ہیں اور انہیں شعور نہیں ۔ان کے دلوں میں بیماری ہے تو اللّٰہ نے ان کی بیماری میں اور اضافہ کردیا اور ان کے لئے ان کے جھوٹ بولنے کی وجہ سے دردناک عذاب ہے۔
(4)…اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کی نافرمانی کرنا۔ چنانچہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
’’وَ كَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَةٍ عَتَتْ عَنْ اَمْرِ رَبِّهَا وَ رُسُلِهٖ فَحَاسَبْنٰهَا حِسَابًا شَدِیْدًاۙ-وَّ عَذَّبْنٰهَا عَذَابًا نُّكْرًا(۸) فَذَاقَتْ وَبَالَ اَمْرِهَا وَ كَانَ عَاقِبَةُ اَمْرِهَا خُسْرًا(۹)اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًاۙ-فَاتَّقُوا اللّٰهَ یٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ ﲬ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا‘‘ (طلاق:۸-۱۰)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کتنے ہی شہر تھے جنہوں نے اپنے رب کے حکم اور اس کے رسولوں سے سرکشی کی تو ہم نے ان سے سخت حساب لیا اور انہیں برا عذاب دیا ۔تو انہوں نے اپنے کام کا وبال چکھا اور ان کے کام کا انجام گھاٹا ہوا۔اللّٰہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے تو اللّٰہ سے ڈرو اے عقل والو جو ایمان لائے ہو۔
(5)…اللّٰہ تعالیٰ سے دعا مانگنے میں تکبر کرنا۔ چنانچہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
’’وَ قَالَ رَبُّكُمُ ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْؕ-اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ‘‘(مؤمن:۶۰)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع