30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
’’ كَذٰلِكَ مَاۤ اَتَى الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ‘‘ (الذاریات:۵۲)
ترجمۂ کنزُالعِرفان: یونہی جب ان سے پہلے لوگوں کے پاس کوئی رسول تشریف لایا تو وہ یہی بولے کہ (یہ)جادوگر ہے یا دیوانہ۔
{لَوْ مَا تَاْتِیْنَا بِالْمَلٰٓىٕكَةِ:ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں لاتے ؟} کفارِ مکہ نے حضور انورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے کہا ’’ اگر آپ اپنی ا س بات میں سچے ہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو رسول بنا کر ہماری طرف مبعوث فرمایا اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَپر کتاب نازل فرمائی ہے تو پھر آپ ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں لاتے تاکہ وہ آپ کے دعوے کی سچائی پر گواہی دیں کیونکہ جب اللّٰہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہے تو آپ کی نبوت کو ثابت کرنے کیلئے فرشتہ بھی بھیج سکتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ نے کفار کے اس شبہ کا جو جواب دیا وہ اگلی آیت میں مذکور ہے۔
مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓىٕكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ مَا كَانُوْۤا اِذًا مُّنْظَرِیْنَ(۸)
ترجمۂ کنزالایمان: ہم فرشتے بیکار نہیں اتارتے اور وہ اتریں تو انہیں مہلت نہ ملے ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: ہم فرشتوں کو حق فیصلے کے ساتھ ہی اتارتے ہیں اور جب وہ اترتے ہیں تو لوگوں کومہلت نہیں دی جاتی ۔
{مَا نُنَزِّلُ الْمَلٰٓىٕكَةَ اِلَّا بِالْحَقِّ:ہم فرشتوں کو حق فیصلے کے ساتھ ہی اتارتے ہیں ۔}ا س آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق کے معاملے میں قانون یہ ہے کہ وہ فرشتوں کو ان لوگوں پر ظاہر فرماتا ہے جن کی طرف اللّٰہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانا ہو یا جن پر عذاب نازل کرنا مقصود ہو، اگر ان مشرکین کے مطالبے کے مطابق اللّٰہ تعالیٰ ان کی طرف حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ نشانی کے طور پر فرشتہ بھیج دیتا اور اس کے بعد بھی وہ اپنے کفر پر قائم رہتے تو پھر انہیں مہلت ملتی، نہ ان سے عذاب مؤخر کیا جاتا بلکہ سابقہ قوموں کی طرح یہ بھی اسی وقت عذاب میں گرفتار کردیئے جاتے لیکن چونکہ یہ امت قیامت تک باقی رہے گی ،اسی میں بہت سے لوگ اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے اور اس کی وحدانیت کا اقرار کرنے والے ہوں گے اس لئے کفارکایہ مطالبہ منظور نہ کیا گیا۔ (صاوی، الحجر، تحت الآیۃ: ۸، ۳ / ۱۰۳۶، تفسیر طبری، الحجر، تحت الآیۃ: ۸، ۷ / ۴۹۳، ملتقطاً)
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(۹)
ترجمۂ کنزالایمان: بیشک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بیشک ہم خود اس کے نگہبان ہیں ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک ہم نے اس قرآن کو نازل کیا ہے اور بیشک ہم خود اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔
{اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ:بیشک ہم نے اس قرآن کو نازل کیا ہے۔} اس آیت میں کفار کے اس قول’’اے وہ شخص جس پر قرآن نازل کیا گیا ہے‘‘ کا جواب دیتے ہوئے اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بے شک ہم نے آپ پر قرآن نازل کیا ہے اور ہم خود تحریف ، تبدیلی ، زیادتی اور کمی سے اس کی حفاظت فرماتے ہیں ۔‘‘
یاد رہے کہ تمام جن و اِنس اور ساری مخلوق میں یہ طاقت نہیں ہے کہ قرآنِ کریم میں سے ایک حرف کی کمی بیشی یا تغییر اور تبدیلی کرسکے اور چونکہ اللّٰہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے اس لئے یہ خصوصیت صرف قرآن شریف ہی کی ہے، دوسری کسی کتاب کو یہ بات مُیَسّر نہیں ۔ قرآنِ کریم کی یہ حفاظت کئی طرح سے ہے
(1)… قرآنِ کریم کو معجزہ بنایا کہ بشر کا کلام اس میں مل ہی نہ سکے ۔
(2)… اس کو معارضے اور مقابلے سے محفوظ کیا کہ کوئی اس کی مثل کلام بنانے پر قادر نہ ہو۔
(3)… ساری مخلوق کو اسے معدوم کرنے سے عاجز کردیا کہ کفار شدید عداوت کے باوجود اس مقدس کتاب کو معدوم کرنے سے عاجز ہیں ۔ (خازن، الحجر، تحت الآیۃ: ۹، ۳ / ۹۵، تفسیرکبیر، الحجر، تحت الآیۃ: ۹، ۷ / ۱۲۳، ملتقطاً)
تاریخ شاہد ہے کہ اگر کسی نے قرآن کے نور کوبجھانے ، اس میں کمی زیادتی ،تحریف اور تبدیلی کرنے یا اس کے حروف میں شکوک و شبہات ڈالنے کی کوشش کی بھی تو وہ کامیاب نہ سکا۔ قَرَامِطَہْ کے مُلحد اور گمراہ لوگ سینکڑوں سال تک اپنے تمام تر مکر ،دھوکے اور قوتیں صرف کرنے کے باوجود قرآن کے نور کو تھوڑا سا بھی بجھانے پر قادر نہ ہو سکے ،اس کے کلام میں ذرا سی بھی تبدیلی کر سکے نہ ہی اس کے حروف میں سے کسی ایک حرف کے بارے میں مسلمانوں کو شک و شبہ میں ڈال سکے۔ اسی طرح قرآنِ مجید کے زمانۂ نزول سے لے کر آج تک ہر زمانے میں اہلِ بیان،علمِ لسان کے ماہرین ، ائمہ بلاغت، کلام کے شہسوار اور کامل اساتذہ موجود رہے، یونہی ہر زمانے میں بکثرت ملحدین اور دین و شریعت کے دشمن ہر وقت قرآنِ عظیم کی مخالفت پر تیار رہے مگر ان میں سے کوئی بھی اس مقدس کلام پر اثر انداز نہ ہو سکا اور کوئی ایک بھی قرآنِ حکیم جیسا کلام نہ لا سکا اور نہ ہی وہ کسی آیتِ قرآنی پر صحیح اِعتراض کر سکا ۔
یہاں قرآنِ مجید کی حفاظت سے متعلق ایک حکایت ملاحظہ ہو، چنانچہ حضرت یحییٰ بن اَکثَم رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں’’مامون رشید کی مجلس میں ایک یہودی آیا اور اس نے بڑی نفیس ، عمدہ اور اَدیبانہ گفتگو کی ۔ مامون رشیدنے اسے اسلام کی دعوت دی تو اس نے انکار کر دیا۔جب ایک سال بعد دوبارہ آیا تو وہ مسلمان ہو چکا تھا اور اس نے فقہ کے موضوع پر بہت شاندار کلام کیا۔مامون رشید نے اس سے پوچھا’’تمہارے اسلام قبول کرنے کا سبب کیا ہوا؟اس نے جواب دیا’’جب پچھلے سال میں تمہاری مجلس سے اٹھ کر گیا تو میں نے ان مذاہب کا امتحان لینے کا ارادہ کر لیا، چنانچہ میں نے تورات کے تین نسخے لکھے اور ان میں اپنی طرف سے کمی بیشی کر دی،ا س کے بعدمیں یہودیوں کے مَعْبَد میں گیا تو انہوں نے مجھ سے وہ تینوں نسخے خرید لئے۔پھر میں نے انجیل کے تین نسخے لکھے اور ان میں بھی اپنی طرف سے کمی بیشی کر دی۔ جب میں یہ نسخے لے کر عیسائیوں کے گرجے میں گیا تو انہوں نے بھی وہ نسخے خرید لئے۔ پھر میں نے قرآن پاک کے تین نسخے لکھے اور اس کی عبارت میں بھی کمی بیشی کر دی ۔ جب میں قرآن پاک کے وہ نسخے لے کر اسلامی کتب خانے میں گیا تو انہوں نے پہلے ا ن نسخوں کا بغور مطالعہ کیا اور جب وہ میری کی ہوئی کمی زیادتی پر مطلع ہوئے تو انہوں نے وہ نسخے مجھے واپس کر دئیے اور خریدنے سے انکار کر دیا۔اس سے میری سمجھ میں آ گیا کہ یہ کتاب محفوظ ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کر سکتا۔ اس وجہ سے میں نے اسلام قبول کرلیا۔ (قرطبی، الحجر، تحت الآیۃ: ۹، ۵ / ۶، الجزء العاشر، ملخصاً)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع