دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-5-Para-13-To-15 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

(2)… حضرت عمرو بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول کریمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے صحابۂ کرام  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کو مخاطب کر کے ارشاد فرمایا ’’ خدا کی قسم! مجھے تمہاری مُفلسی کا کوئی ڈر نہیں  ہے بلکہ تمہارے بارے میں  ڈر یہ ہے کہ تم پر دنیا کشادہ کر دی جائے جیسے تم سے پہلے لوگوں  پر کشادہ کر دی گئی تھی اور تم اس کے ساتھ ایسا ہی پیار کرنے لگوجیسا پہلے لوگوں  نے اس کے ساتھ کیا اور یوں  تمہیں  بھی ہلاک کر دے جیسے پہلے لوگوں  کو اس نے ہلاک کر دیا۔ (مسلم، کتاب الزہد والرقائق، ص۱۵۸۳، الحدیث: ۶(۲۹۶۱))

(3)…حضرت عبداللّٰہ بن عمر و رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’اس امت کے پہلے لوگ یقین اور زُہد کی وجہ سے نجات پا گئے جبکہ ا س امت کے آخری لوگ بخل اور (لمبی) امید کی وجہ سے ہلاک ہوں  گے۔ (کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، الباب الثانی فی الاخلاق والافعال المذمومۃ، الفصل الثانی، ۲ / ۱۸۱ الحدیث: ۷۳۸۰، الجزء الثالث)

(4)…حضرت جابر بن عبداللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’مجھے اپنی امت پر دو باتوں  کا زیادہ خوف ہے ۔ (1) خواہشات کی پیروی کرنا۔(2) لمبی امید رکھنا۔ کیونکہ خواہشات کی پیروی کرنا حق سے روکتا ہے اور لمبی امیدیں  آخرت کو بھلا دیتی ہیں  ۔ یہ دنیا پیٹھ پھیر کر چلی جانے والی اور آخرت پیش آنے والی ہے،ان دونوں  میں  سے ہر ایک کے بیٹے ہیں ، اگر تمہیں  دنیا کے بیٹے نہ بننے کی اِستطاعت ہو تو دنیا کے بیٹے نہ بننا کیونکہ تم آج عمل کرنے کی جگہ میں  ہو اور (یہاں ) حساب نہیں  لیکن کل تم حساب دینے کی جگہ میں  ہو گے اور (وہاں ) عمل نہیں  ہو گا۔ (شعب الایمان، الحادی والسبعون من شعب الایمان۔۔۔ الخ، ۷ / ۳۷۰، الحدیث: ۱۰۶۱۶)

            اللّٰہ تعالیٰ ہمیں  لمبی امیدیں  رکھنے اور محض دنیا کی طلب میں  مشغول رہنے سے محفوظ فرمائے،اٰمین۔

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا وَ لَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ(۴)مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَ(۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جو بستی ہم نے ہلاک کی اس کا ایک جانا ہوا نَوِشتہ تھا۔ کوئی گروہ اپنے وعدہ سے نہ آگے بڑھے نہ پیچھے ہٹے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ہم نے جو بستی ہلاک کی اس کیلئے ایک مقرر مدت لکھی ہوئی ہے۔ کو ئی گروہ اپنی مدت سے نہ آگے بڑھے گااورنہ پیچھے ہٹے گا۔

{وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ:اور ہم نے جو بستی ہلاک کی۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ سے پہلے جن بستیوں  کے باشندوں  کو ہم نے ہلاک کیا ان کے لئے ایک مُعَیّن وقت لوحِ محفوظ میں  لکھا ہوا تھا، ہم نے انہیں  وہ وقت آنے سے پہلے ہلاک نہیں  کیا اور جب وہ وقت آ گیا تو ہم نے انہیں  تباہ و برباد کر دیا۔ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، اسی طرح مکہ کے مشرکوں  کو بھی ہم اسی وقت ہلاک کریں  گے جب ان کا لکھا ہوا معین وقت آ جائے گا کیونکہ میرا فیصلہ یہ ہے کہ میں  معین وقت آنے سے پہلے کسی بستی کے باشندوں  کو ہلاک نہیں  فرماتا۔ (تفسیرطبری، الحجر، تحت الآیۃ: ۴، ۷ / ۴۹۲، ملخصاً)

{مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا:کو ئی گروہ اپنی مدت سے نہ آگے بڑھے گا۔} یعنی اللّٰہ تعالیٰ نے جس گروہ کی ہلاکت کا جو وقت معین کر دیا ہے وہ اسی وقت میں  ہلاک ہو گا،اس معین وقت سے کوئی گروہ نہ آ گے بڑھ سکے گا نہ پیچھے ہٹ سکے گا۔(تفسیرطبری، الحجر، تحت الآیۃ: ۵، ۷ / ۴۹۲)

وَ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْ نُزِّلَ عَلَیْهِ الذِّكْرُ اِنَّكَ لَمَجْنُوْنٌؕ(۶) لَوْ مَا تَاْتِیْنَا بِالْمَلٰٓىٕكَةِ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ(۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بولے کہ اے وہ جن پر قرآن اترا بیشک تم مجنون ہو ۔ ہمارے پاس فرشتے کیوں  نہیں  لاتے اگر تم سچے ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور کافروں  نے کہا: اے وہ شخص جس پر قرآن نازل کیا گیا ہے! بیشک تم مجنون ہو۔ اگر تم سچے ہو توہمارے پاس فرشتے کیوں  نہیں  لاتے ؟

{وَ قَالُوْا:اور کافروں  نے کہا۔} اس سے پہلی آیات میں  کفار کو اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا گیا تھااور اس آیت میں  اللّٰہ تعالیٰ نے سیّد المرسَلینصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نبوت کے متعلق کفار کے شبہات ذکر کر کے ان کے جوابات دئیے ہیں ۔ (تفسیرکبیر، الحجر، تحت الآیۃ: ۶، ۷ / ۱۲۱، ملخصاً)

کفارِ مکہ کے ایک اعتراض کی وجوہات:

              مکہ کے مشرکین ، تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا مذاق اڑاتے ہوئے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرف جنون کی نسبت کرتے تھے، اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ عموماً لوگ جب کسی سے عجیب و غریب کلام سنتے ہیں  جو ان کی عقل میں  نہ آئے تو وہ اس قائل کومجنون سمجھتے ہیں ، یہی حال مکہ کے مشرکین کا تھا کیونکہ جب سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ان کے سامنے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی وحدانیت، اپنی رسالت ، قرآن کی حقانیت اور قیامت کے وقوع کی خبر دی تو یہ ان کیلئے نہایت تعجب انگیز تھی ۔ نبیٔ  کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے بارے میں  یہ تعجب کہ ایک انسان رسول کیسے ہوسکتا ہے اور قیامت کے بارے میں  یہ کہ گلی سڑی ہڈیاں  کیسے دوبارہ زندہ ہوسکتی ہیں  اور اسی طرح توحید اور قرآن کے بارے میں  ان کے شبہات تھے۔ نیز یہ کلام بطورِ تَمَسخُر بھی تھا اور انجان لوگوں  کو حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے دور کرنے کیلئے پروپیگنڈا بھی تھا۔

            یاد رہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کے پیارے رسولوں  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف کفار کا جنون کی نسبت کرنا کوئی نئی بات نہیں  بلکہ پہلے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے ساتھ بھی اس طرح ہوتا رہا ہے ، جیسا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے زمانے میں  فرعون نے بھی آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو مجنون کہا تھا، ارشادِ باری تعالیٰ ہے

’’قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ‘‘ (الشعراء:۲۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:(فرعون نے)کہا: بیشک تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے ضرور دیوانہ ہے۔

            یونہی حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم نے آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو مجنون کہا تھا، قرآنِ مجید میں  ہے

’’ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ فَكَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَ قَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّ ازْدُجِرَ‘‘ (القمر)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا تو انہوں  نے ہمارے بندے کو جھوٹا کہا اور کہنے لگے: یہ پاگل ہے اور نوح کوجھڑکا گیا۔

            بلکہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے پہلے جتنے رسول تشریف لائے سب کو ان کی قوموں  نے جادو گر یا دیوانہ کہا تھا، چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن