دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-5-Para-13-To-15 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

میں  نے آج تک ایسی مشابہت اور کسی میں  نہیں  دیکھی۔یہ سن کر اس شخص نے عرض کی : ’اے امیر المؤمنین! رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ، میرے اس بچے کا واقعہ بہت عجیب وغریب ہے، اس کی ماں  کے فوت ہونے کے بعد اس کی ولادت ہوئی ہے۔ یہ سن کر آپ  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا ’’ پورا واقعہ بیان کرو۔ وہ شخص عرض کرنے لگا: اے امیر المؤمنین! رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ، میں  جہاد کے لئے جانے لگا تو اس کی والدہ حاملہ تھی، میں  نے جاتے وقت دعا کی : اے اللّٰہ! عَزَّوَجَلَّ، میری زوجہ کے پیٹ میں  جو حمل ہے میں  اُسے تیرے حوالے کرتا ہوں ، توہی اس کی حفاظت فرمانا۔ یہ دعا کر کے میں  جہاد کے لئے روانہ ہوگیا، جب میں  واپس آیا تو مجھے بتایا گیا کہ میری زوجہ کا انتقال ہوگیا ہے ،مجھے بہت افسوس ہوا ۔ ایک رات میں  نےاپنے چچا زاد بھائی سے کہا:مجھے میری بیوی کی قبر پر لے چلو۔ چنا نچہ ہم جنت البقیع میں  پہنچے اور اس نے میری بیوی کی قبر کی نشاندہی کی۔ جب ہم وہاں  پہنچے تو دیکھا کہ قبر سے روشنی کی کرنیں  باہر آرہی ہیں ۔ میں  نے اپنے چچازاد بھائی سے کہا : یہ رو شنی کیسی ہے؟ اس نے جواب دیا: اس قبر سے ہر رات اسی طر ح روشنی ظاہر ہوتی ہے ، نہ جانے اس میں  کیا راز ہے؟ جب میں  نے یہ سنا تو ارادہ کیا کہ میں  ضرور اس قبر کو کھود کر دیکھو ں  گا ۔ چنانچہ میں  نے پھاؤڑا منگوایا اور ابھی قبر کھود نے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ قبر خود بخود کھل گئی۔ جب میں  نے اس میں  جھانکا تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی قدرت کا کرشمہ نظر آیا کہ یہ میرا بچہ اپنی ماں  کی گو د میں  بیٹھا کھیل رہا تھا ،جب میں  قبر میں  اتر ا تو کسی ندا دینے والے نے ندا دی ’’ تو نے جو امانت اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے پا س رکھی تھی وہ تجھے واپس کی جاتی ہے ، جا! اپنے بچے کو لے جا، اگر تواس کی ماں  کو بھی اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے سپرد کر جاتا تو اسے بھی صحیح وسلامت پاتا۔‘‘پس میں  نے اپنے بچے کو اٹھا یا اور قبر سے باہر نکالا ، جیسے ہی میں  قبر سے باہر نکلا تو قبر پہلے کی طرح دوبارہ بند ہوگئی۔( عیون الحکایات، الحکایۃ الثانیۃ والسبعون، ص۹۵)

            یہاں  یہ بات یاد رہے کہ جان و مال کی حفاظت کے ظاہری اسباب اختیار کرنا اللّٰہ تعالیٰ کی حفاظت پر بھروسہ کرنے کے خلاف نہیں  کیونکہ تَوکل نام ہی اسی چیز کا ہے کہ اسباب اختیار کر کے نتیجہ اللّٰہ تعالیٰ پر چھوڑ دیا جائے ،لہٰذا جن لوگوں  نے اپنی جان و مال کی حفاظت کے لئے سیکیورٹی گارڈز رکھے یا دیگر اسباب اختیار کئے تو ان کے بارے میں  یہ نہیں  کہاجا سکتا کہ انہیں  اللّٰہ تعالیٰ کی حفاظت پر بھروسہ نہیں ۔

وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوْا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ اِلَیْهِمْؕ-قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مَا نَبْغِیْؕ-هٰذِهٖ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ اِلَیْنَاۚ-وَ نَمِیْرُ اَهْلَنَا وَ نَحْفَظُ اَخَانَا وَ نَزْدَادُ كَیْلَ بَعِیْرٍؕ-ذٰلِكَ كَیْلٌ یَّسِیْرٌ(۶۵)

ترجمۂ کنزالایمان:اور جب انہوں  نے اپنا اسباب کھولا اپنی پونجی پائی کہ ان کو پھیر دی گئی ہے بولے اے ہمارے باپ اب ہم اور کیا چاہیں  یہ ہے ہماری پونجی کہ ہمیں  واپس کردی گئی اور ہم اپنے گھر کے لیے غلہ لائیں  اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں  اور ایک اونٹ کا بوجھ اور زیادہ پائیں  یہ دینا بادشاہ کے سامنے کچھ نہیں  ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور جب انہوں  نے اپنا سامان کھولا تواپنی رقم کو بھی موجود پایا کہ انہیں  وہ رقم بھی واپس کردی گئی ہے۔ کہنے لگے : اے ہمارے باپ! اب ہمیں  اور کیا چاہیے۔ یہ ہماری رقم ہے جوہمیں  واپس کردی گئی ہے اورہم اپنے گھر کے لیے غلہ لائیں  اورہم اپنے بھائی کی حفاظت کریں  گے اور ایک اونٹ کا بوجھ اور زیادہ پائیں ، یہ بہت آسان بوجھ ہے۔

{ وَ لَمَّا فَتَحُوْا مَتَاعَهُمْ:اور جب انہوں  نے اپنا سامان کھولا۔} یعنی جب انہوں  نے اپنا وہ سامان کھولا جو مصر سے لائے تھے تو اس میں  اپنی رقم کو بھی موجود پایا جو انہیں  واپس کر دی گئی تھی ،رقم دیکھ کر کہنے لگے ’’اے ہمارے والد محترم ! اس سے زیادہ کرم و احسان ا ور کیا ہو گا کہ بادشاہ نے سامان کے ساتھ وہ رقم بھی ہمیں  واپس کر دی ہے جوہم نے سامان کی قیمت کے طور پر دی تھی لہٰذا آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامہمارے بھائی کو ساتھ جانے کی اجازت دے دیں  تاکہ ہم جائیں  اور اپنے گھر والوں  کے لیے غلہ خرید کر لائیں  اور ہم اپنے بھائی بنیامین کی حفاظت کریں  گے اور ہم اپنے بھائی کی وجہ سے اس کے حصے کا ایک اونٹ کا بوجھ اور زیادہ پائیں  ، یہ اونٹ کے بوجھ کا غلہ دینا بادشاہ کے لئے بہت آسان بوجھ ہے کیونکہ اس نے ہم پر ا س سے زیادہ کرم و احسان فرمایا ہے۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۶۵، ۳ / ۳۱)

قَالَ لَنْ اُرْسِلَهٗ مَعَكُمْ حَتّٰى تُؤْتُوْنِ مَوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ لَتَاْتُنَّنِیْ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یُّحَاطَ بِكُمْۚ-فَلَمَّاۤ اٰتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ(۶۶)

ترجمۂ کنزالایمان: کہا میں  ہرگز اسے تمہارے ساتھ نہ بھیجوں  گا جب تک تم مجھے اللّٰہ کا یہ عہد نہ دے دو کہ ضرور اسے لے کر آ ؤ گے مگر یہ کہ تم گھِر جاؤ پھر جب انہوں  نے یعقوب کو عہد دے دیا کہااللّٰہ کا ذمہ ہے ان باتوں  پر جو ہم کہہ رہے ہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یعقوب نے فرمایا: میں  ہرگز اسے تمہارے ساتھ نہ بھیجوں  گا جب تک تم مجھے اللّٰہ کا یہ عہد نہ دیدو کہ تم ضرور اسے (واپس) لے کر آؤ گے سوائے اس کے کہ تم (کسی بڑی مصیبت میں ) گھر جاؤ پھر انہوں  نے یعقوب کو عہددیدیا تو یعقوب نے فرمایا: جو ہم کہہ رہے ہیں  اس پر اللّٰہ نگہبان ہے۔

{قَالَ:فرمایا۔} حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے ان سے فرمایا ’’میں  اس وقت تک ہر گز بنیامین کو تمہارے ساتھ نہ بھیجوں  گا جب تک تم اللّٰہ تعالیٰ کی قسم کھا کر یہ عہد نہ دو کہ تم ضرور اسے واپس بھی لے کر آؤ گے سوائے اس کے کہ تمہارا انتقال ہو جائے یا تم مغلوب ہو جاؤ اور بنیامین کو لے کر آنا تمہاری طاقت سے باہر ہوجائے۔ جب انہوں  نے حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اللّٰہ تعالیٰ کی قسم کھا کر عہد دے دیا تو حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا’’ جو ہم کہہ رہے ہیں  اس پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ  نگہبان ہے۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۶۶، ۳ / ۳۱)

ظاہری اسباب کو اختیار کرنا تَوکل کے خلاف نہیں :

            علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں  ’’اس سے معلوم ہو اکہ ظاہری اسباب اختیار کرنے کے بعد اللّٰہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنا توکل کے خلاف نہیں  لہٰذا ہر انسا ن کو چاہئے کہ وہ اس عالَم میں  موجود معتبر اَسباب اختیار کرے اور صرف ان اسباب کو اختیار کرنے اور ان ہی پر بھروسہ کرنے کو کافی نہ سمجھے بلکہ اپنے دل کو اللّٰہ تعالیٰ اور اس کی تقدیر کی طرف متوجہ رکھے ،اللّٰہ تعالیٰ پر اور اس کی تدبیر پر اعتماد رکھے اور اس کے سوا ہر چیز سے اپنی امید ختم کر دے۔ (روح البیان، یوسف، تحت الآیۃ: ۶۶، ۴ / ۲۹۱-۲۹۲)

            امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’اسباب ترک کر دینا اللّٰہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف اور اس کے طریقے سے جہالت ہے اور جب آدمی اسباب کی بجائے اللّٰہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھے اور یوں  وہ اللّٰہ تعالیٰ کے طریقے کے مطابق عمل کرے تو یہ بات توکل کے خلاف نہیں ۔ (احیاء علوم الدین، کتاب التوحید والتوکل، الفن الاول فی جلب النافع، الدرجۃ الثانیۃ، ۴ / ۳۲۹)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن