دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-5-Para-13-To-15 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

ملتقطاً)

سابقہ قوموں  کے انجام سے نصیحت حاصل کرنے کی ترغیب:

            ان آیات میں  مسلمانوں  کے لئے بھی بڑی عبرت ونصیحت ہے اور انہیں  بھی چاہئے کہ سابقہ عذاب یافتہ قوموں  کے اعمال کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اعمال کا جائزہ لیں  اور ان کے دنیوی انجام سے عبرت پکڑتے ہوئے اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نافرمانی کرنے سے باز آ جائیں ،اگر دنیا میں  انہوں  نے نصیحت حاصل نہ کی اور اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی نافرمانی سے باز نہ آئے تو مرنے کے بعد کوئی نصیحت انہیں  فائدہ نہ دے گی۔ حضرت علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں  :اے مسلمانو! (غور کرو کہ) اَنبیاء و مُرسَلین عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاماور مقرب اولیاءِ کرام رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کہا ں  تشریف لے گئے؟ سابقہ بادشاہ اور جابر و سرکش لوگ کہاں  چلے گئے؟ (جب یہ دنیا میں  نہ رہے توتم بھی اس دنیا میں  نہ رہو گے) تو تمہیں  کیاہو گیا ہے کہ تم ان کی طرف نظر نہیں  کرتے اور عبرت حاصل نہیں  کرتے،اگر تم عقل رکھتے ہو تو نیک اعمال میں  خوب کوشش کر لواور اس دن سے ڈروجس میں  تم اللّٰہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے جاؤ گے پھر ہر جان کو اس کی کمائی بھرپوردی جائے گی اور ان پر ظلم نہیں  ہوگا۔ (روح البیان، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۴۶، ۴ / ۴۳۶)

شرعی قیاس حق ہے:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ قیاسِ شرعی حق ہے کیونکہ آیت کا مَنشا یہ ہے کہ وہ لوگ کفر کی وجہ سے ہلاک ہوئے اور کفر تو تم بھی کررہے ہو، لہٰذا تم بھی ہلاک ہونے کے لائق ہو، علت کے اِشتراک سے حکم مشترک ہوتا ہے اور اسی کو فقہ میں  قیاس کہتے ہیں ۔

وَ قَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ وَ عِنْدَ اللّٰهِ مَكْرُهُمْؕ- وَ اِنْ كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُوْلَ مِنْهُ الْجِبَالُ(۴۶)فَلَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ مُخْلِفَ وَعْدِهٖ رُسُلَهٗؕ- اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍؕ(۴۷)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک وہ اپنا سا دانؤں  چلے اور ان کا دانؤں  اللّٰہ کے قابو میں  ہے اور ان کا دانؤں  کچھ ایسانہ تھا جس سے یہ پہاڑ ٹل جائیں  ۔تو ہر گز خیال نہ کرنا کہ اللّٰہ اپنے رسولوں  سے وعدہ خلاف کرے گا بیشک اللّٰہ غالب ہے بدلہ لینے والا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک انہوں  نے اپنی سازش کی اور ان کی سازش اللّٰہ کے قابو میں  تھی اور ان کی سازش کوئی ایسی نہیں  تھی کہ اس سے پہاڑ ٹل جائیں  ۔تو تم ہر گز خیال نہ کرنا کہ اللّٰہ اپنے رسولوں  سے وعدہ خلافی کرے گا۔ بیشک اللّٰہ غالب بدلہ لینے والاہے۔

{وَ قَدْ مَكَرُوْا مَكْرَهُمْ:اور بیشک انہوں  نے اپنی سازش کی۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اہلِ مکہ نے اسلام کو مٹانے اور کفر کی تائید کرنے کے لئے نبیٔ  کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ  سازش کرتے ہوئے یہ ارادہ کیاتھا کہ سرکارِ دو عالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکو شہید کر دیاجائے یا قید کر لیا جائے یا مکہ مُکرّمہ سے نکال دیا جائے ۔اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ  ان کی سازش اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے علم میں  تھی اور ان کی سازش کوئی ایسی نہیں  تھی کہ اس سے پہاڑ ٹل جائیں  یعنی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی  آیات اور شریعتِ مصطفیٰ کے اَحکام جو اپنی قوت و ثَبات میں  مضبوط پہاڑوں  کی مانند ہیں  ،محال ہے کہ کافروں  کے مکر اور اُن کی حیلہ انگیزیوں  سے وہ اپنی جگہ سے ٹل سکیں  ۔ (مدارک، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۴۶، ص۵۷۴، جلالین، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۴۶، ص۲۱۰، ملتقطاً)

            نوٹ:کفارِ مکہ کی اس سازش کی تفصیل سورہ اَنفال کی آیت نمبر 30کی تفسیر میں  گزر چکی ہے۔

{فَلَا تَحْسَبَنَّ:تو تم ہر گز خیال نہ کرنا۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے سننے والے!تم ہر گز ایسا خیال نہ کرنا کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اپنے رسولوں عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے کئے ہوئے وعدے کے خلاف کرے گا، یہ تو ممکن ہی نہیں  وہ ضرور وعدہ پورا کرےگا اور اپنے رسول کی مدد فرمائے گا، اُن کے دین کو غالب کرے گا اوراُن کے دشمنوں  کو ہلاک کرے گا۔ (صاوی، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۴۷، ۳ / ۱۰۳۱، خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۴۷، ۳ / ۹۱، ملتقطاً)

یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ وَ السَّمٰوٰتُ وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ(۴۸)

ترجمۂ کنزالایمان: جس دن بدل دی جائے گی زمین اس زمین کے سوا اور آسمان اور لوگ سب نکل کھڑے ہوں  گے ایک اللّٰہ کے سامنے جو سب پر غالب ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یاد کروجس دن زمین کو دوسری زمین سے اور آسمانوں  کو بدل دیا جائے گا اور تمام لوگ ایک اللّٰہ کے حضور نکل کھڑے ہوں  گے جو سب پر غالب ہے۔

{یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ:جس دن زمین بدل دی جائے گی۔} اس دن سے قیامت کا دن مراد ہے اور زمین و آسمان کی تبدیلی کے بارے میں  مفسرین کے دو قول ہیں ۔ ایک یہ کہ اُن کے اوصاف بدل دیئے جائیں  گے مثلاً زمین ایک سطح ہو جائے گی ،نہ اُس پر پہاڑ باقی رہیں  گے نہ بلند ٹیلے نہ گہرے غار، نہ درخت نہ عمارت نہ کسی بستی اور اقلیم کا نشان اور آسمان پر کوئی ستارہ نہ رہے گا اور سورج وچاند کی روشنیاں  معدوم ہو جائیں  گی ۔یہ تبدیلی اوصاف کی ہے ذات کی نہیں ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ آسمان و زمین کی ذات ہی بدل دی جائے گی، اس زمین کی جگہ ایک دوسری چاندی کی زمین ہوگی ،سفید و صاف ہو گی جس پر نہ کبھی خون بہایا گیا ہو گا نہ گناہ کیا گیا ہو گا اور آسمان سونے کا ہوگا ۔یہ دو قول اگر چہ بظاہر ایک دوسرے کے مخالف معلوم ہوتے ہیں  مگر ان میں  سے ہر ایک اپنی جگہ صحیح ہے وہ اس طرح کہ پہلی مرتبہ زمین و آسمان کی صفات تبدیل ہوں گی اور دوسری مرتبہ حساب کے بعد دوسری تبدیلی ہوگی۔ اس میں  زمین و آسمان کی ذاتیں  ہی بدل جائیں  گی۔ (خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۴۸، ۳ / ۹۲)

وَ تَرَى الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَىٕذٍ مُّقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِۚ(۴۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور اس دن تم مجرموں  کو دیکھو گے کہ بیڑیوں  میں  ایک دوسرے سے جڑے ہوں  گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اس دن تم مجرموں  کو بیڑیوں  میں  ایک دوسرے سے بندھا ہوا دیکھو گے ۔

{وَ تَرَى الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَىٕذٍ:اور اس دن تم مجرموں  کو دیکھو گے ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ قیامت کے دن کافروں  کو بیڑیوں  میں  اپنے شیطانوں  کے ساتھ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن