دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-5-Para-13-To-15 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

عَزَّوَجَلَّ کے بارے میں  کس نے دھوکے میں  ڈالا کہ تو نے دروازے بند کردیئے اورپردے لٹکادیئے اور لوگوں  سے چھپ کر فسق و فجور میں  مبتلا ہوگیا، پس جب تیرے اعضا تیرے خلاف گواہی دیں  گے تو تو کیا کرے گا۔ اے غافلوں  کی جماعت ! ہمارے لئے مکمل خرابی ہے، اللّٰہ تعالیٰ ہمارے پاس تمام رسولوں  کے سردار (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کو بھیجے اور آپ پر روشن کتاب نازل فرمائے اور ہمیں  قیامت کے ان اوصاف کی خبر دے، پھر ہماری غفلت سے بھی ہمیں  آگاہ کرے اور ارشاد فرمائے: ’’اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَۚ(۱) مَا یَاْتِیْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنْ رَّبِّهِمْ مُّحْدَثٍ اِلَّا اسْتَمَعُوْهُ وَ هُمْ یَلْعَبُوْنَۙ(۲) لَاهِیَةً قُلُوْبُهُمْ‘‘(انبیاء:۱-۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: لوگوں  کا حساب قریب آگیااور وہ غفلت میں  منہ پھیرے ہوئے ہیں ۔جب ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی نصیحت آتی ہے تو اسے کھیلتے ہوئے ہی سنتے ہیں ۔ ان کے دل کھیل میں  پڑے ہوئے ہیں ۔

            پھر وہ ہمیں  بتائے کہ قیامت قریب ہے،جیسا کہ ارشاد فرماتا ہے

’’اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ‘‘ (قمر)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔

            اور ارشاد فرماتا ہے

’’اِنَّهُمْ یَرَوْنَهٗ بَعِیْدًاۙ(۶) وَّ نَرٰىهُ قَرِیْبًا‘‘(معارج:۶، ۷)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: بیشک وہ اسے دور سمجھ رہے ہیں ۔اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں

            اور ارشاد فرماتا ہے

’’وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا‘‘ (احزاب:۶۳)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تم کیا جانو شاید قیامت قریب ہی ہو۔

            پھر ہماری سب سے اچھی حالت تو یہ ہے کہ ہم اس قرآن پاک کے سبق پر عمل کریں ، لیکن ہم اس کے معانی میں  غور نہیں  کرتے اور روزِ قیامت کے بے شمار اَوصاف اور ناموں  کو نہیں  دیکھتے اور اس کے مَصائب سے نجات کے لیے کوشش نہیں  کرتے ۔ہم اس غفلت سے اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں  اللّٰہ تعالیٰ اپنی وسیع رحمت سے اس کا تَدارُک فرمائے۔( احیاء علوم الدین، کتاب ذکر الموت ومابعدہ، الشطر الثانی، صفۃ یوم القیامۃ ودواہیہ واسامیہ، ۵ / ۲۷۶)

            نوٹ:قیامت کے دن کے مزید حالات جاننے کے لئے احیاءالعلوم جلد4سے ’’موت اور اس کے بعد کے حالات‘‘ کا بیان اوربہار شریعت حصہ اول سے ’’معاد وحشر کا بیان‘‘ مطالعہ فرمائیں ۔

وَ اَنْذِرِ النَّاسَ یَوْمَ یَاْتِیْهِمُ الْعَذَابُ فَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رَبَّنَاۤ اَخِّرْنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍۙ- نُّجِبْ دَعْوَتَكَ وَ نَتَّبِـعِ الرُّسُلَؕ- اَوَ لَمْ تَكُوْنُوْۤا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍۙ(۴۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور لوگوں  کو اس دن سے ڈراؤ جب ان پر عذاب آئے گا تو ظالم کہیں  گے اے ہمارے رب تھوڑی دیر ہمیں  مہلت دے کہ ہم تیرا بلانا مانیں  اور رسولوں  کی غلامی کریں  تو کیا تم پہلے قسم نہ کھاچکے تھے کہ ہمیں  دنیا سے کہیں  ہٹ کر جانا نہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور لوگوں  کو اس دن سے ڈراؤجب ان پر عذاب آئے گا تو ظالم کہیں  گے: اے ہمارے رب! تھوڑی دیر تک ہمیں  مہلت دیدے تا کہ ہم تیری دعوت کو قبول کرلیں  اور رسولوں  کی غلامی کرلیں  ۔(کہا جائے گا ، اے کافرو!) تو کیا تم پہلے قسم نہ کھاچکے تھے کہ تمہیں(تودنیا سے) ہٹنا ہی نہیں ۔

{وَ اَنْذِرِ النَّاسَ:اور لوگوں  کو ڈراؤ۔} یعنی اے حبیب !صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ لوگوں  کو قیامت کے دن سے ڈرائیں ،اس دن جب ان پر عذاب آئے گا تو شرک اور گناہ کر کے اپنی جانوں  پر ظلم کرنے والے کہیں  گے’’اے ہمارے رب !عَزَّوَجَلَّ، تھوڑی دیر کیلئے ہمیں  دنیا میں  واپس بھیج دے اور ہمیں  مہلت دیدے تا کہ  ہم سے جو قصور ہوچکے ان کی تلافی کرتے ہوئے تیری توحید کی دعوت کو قبول کر لیں  اور تیرے رسولوں  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکی غلامی کر لیں  ۔ اس پر انہیں  ڈانٹ ڈپٹ کی جائے گی اور فرمایا جائے گا  کیا تم پہلے دنیا میں  اس بات کی قسمیں  نہ کھاچکے تھے کہ مرنے کے بعد بھی تم اسی حالت میں  رہو گے اور آخرت کے گھر کی طرف منتقل نہ ہو گے ؟ (خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۴۴، ۳ / ۹۰، مدارک، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۴۴، ص۵۷۳، ملتقطاً)

وَّ سَكَنْتُمْ فِیْ مَسٰكِنِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ تَبَیَّنَ لَكُمْ كَیْفَ فَعَلْنَا بِهِمْ وَ ضَرَبْنَا لَكُمُ الْاَمْثَالَ(۴۵)

ترجمۂ کنزالایمان: اور تم ان کے گھروں  میں  بسے جنہوں  نے اپنا برا کیا تھا اور تم پر خوب کھل گیا ہم نے ان کے ساتھ کیسا کیا اور ہم نے تمہیں  مثالیں  دے دے کر بتادیا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تم ان کے گھروں  میں  رہے جنہوں  نے اپنی جانوں  پر ظلم کیا تھااور تمہارے لئے بالکل واضح ہوگیا تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا اور ہم نے تمہارے لئے مثالیں  بیان کیں ۔

{وَ سَكَنْتُمْ:اور تم رہے۔} یعنی تم ان لوگوں  کے گھروں  میں  رہے جنہوں  نے کفر اور گناہوں  کا اِرتِکاب کرکے  اپنی جانوں  پر ظلم کیا تھا جیسے کہ قومِ نوح ،عاد اور ثمود وغیرہ کہ تم انہی کی بستیوں  میں  دورانِ سفر ٹھہرتے تھے یا ان کے قرب و جوارسے گزرتے تھے اور تمہارے لئے بالکل واضح ہوگیا تھا کہ ہم نے ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا اور تم نے اپنی آنکھوں  سے اُن کے گھروں  میں  عذاب کے آثار اور نشان دیکھے اور تمہیں  اُن کی ہلاکت و بربادی کی خبریں  ملیں  یہ سب کچھ دیکھ کر اور جان کر تم نے عبرت کیوں  نہ حاصل کی اور تم کفر سے کیوں  باز نہ آئے ۔ ہم نے تمہیں  مثالیں  دے کر بتا دیاتاکہ تم تدبیر کرو اور سمجھو ، عذاب اور ہلاکت سے اپنے آپ کو بچاؤ ۔ (خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۴۵، ۳ / ۹۱، مدارک، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۴۵، ص۵۷۴،

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن