دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-5-Para-13-To-15 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور ابراہیم کا اپنے باپ کی مغفرت کی دعا کرنا صرف ایک وعدے کی وجہ سے تھا۔

 میں  باپ سے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا چچا آزر مراد ہے ،سگے والد مراد نہیں  ۔ (روح البیان، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۴۱، ۴ / ۴۳۰، ملخصاً)

دعا کے چند آداب:

            اس آیت سے دعا کے چند آداب معلوم ہوئے ۔ (1) دعا اپنی ذات سے شروع کرے۔ (2) ماں  باپ کو دعا میں  شامل رکھا کرے ۔ (3) ہر مسلمان کے حق میں  دعائے خیر کرے۔ (4) آخرت کی دعا ضرور مانگے صرف دنیا کی حاجات پر قناعت نہ کرے۔ (دعا کے مزید آداب جاننے کے لئے کتاب’’فضائلِ دعا‘‘(مطبوعہ مکتبۃ المدینہ) کا مطالعہ فرمائیں)

وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ۬ؕ -اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ(۴۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہرگز اللّٰہ کو بے خبر نہ جاننا ظالموں  کے کام سے انہیں  ڈھیل نہیں  دے رہا ہے مگر ایسے دن کے لیے جس میں  آنکھیں  کھلی کی کھلی رہ جائیں  گی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور (اے سننے والے!)ہرگز اللّٰہ کو ان کاموں  سے بے خبر نہ سمجھنا جو ظالم کررہے ہیں ۔ اللّٰہ انہیں  صرف ایک ایسے دن کیلئے ڈھیل دے رہا ہے جس میں  آنکھیں  کھلی کی کھلی رہ جائیں  گی۔

{وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا: اور ہرگز اللّٰہ کو بے خبر نہ سمجھنا ۔}اس آیت میں  ہر مظلوم کے لئے تسلی اور ہر ظالم کے لئے وعید ہے ،نیز اس آیت میں  ایک مشہور مقولے کی تائید بھی ہے کہ خدا کے ہاں  دیر ہے اندھیر نہیں ۔ آیت کا معنی یہ ہے کہ اے سننے والے !تم یہ نہ سمجھنا کہ اللّٰہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں  کو سزا نہیں  دے گا اور نہ ہی ظالموں  سے عذاب مؤخر ہونے کی وجہ سے غمزدہ ہونا کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ انہیں  بغیر عذاب کے صرف ایک ایسے دن کیلئے ڈھیل دے رہا ہے جس میں  دہشت کے مارے آنکھیں  کھلی کی کھلی رہ جائیں  گی۔ (جلالین مع صاوی، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۴۲، ۳ / ۱۰۲۹-۱۰۳۰)

 ظالم کے لئے وعید:

            یاد رہے کہ ظالموں  کا اُخروی عذاب تو اپنی جگہ ،دنیا میں  بھی اللّٰہ تعالیٰ ظالموں  کی گرفت فرماتا ہے ،چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’بے شک اللّٰہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا رہتا ہے اور جب اس کی پکڑ فرما لیتا ہے تو پھر اسے مہلت نہیں  دیتا۔پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے یہ آیت تلاوت فرمائی

وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌؕ-اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ(ہود:۱۰۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور تیرے رب کی گرفت ایسی ہی ہوتی ہے جب وہ بستیوں  کو پکڑتا ہے جبکہ وہ بستی والے ظالم ہوں  بیشک اس کی پکڑ بڑی شدید دردناک ہے ۔( بخاری، کتاب التفسیر، باب وکذلک اخذ ربک اذا اخذ القری وہی ظالمۃ۔۔۔ الخ، ۳ / ۲۴۷، الحدیث: ۴۶۸۶)

مُهْطِعِیْنَ مُقْنِعِیْ رُءُوْسِهِمْ لَا یَرْتَدُّ اِلَیْهِمْ طَرْفُهُمْۚ -وَ اَفْـٕدَتُهُمْ هَوَآءٌؕ(۴۳)

ترجمۂ کنزالایمان: بے تحاشا دوڑتے نکلیں  گے اپنے سر اٹھائے ہوئے کہ ان کی پلک ان کی طرف لوٹتی نہیں  اور ان کے دلوں  میں  کچھ سکت نہ ہوگی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: لوگ بے تحاشا اپنے سروں  کو اٹھائے ہوئے دوڑتے جارہے ہوں  گے، ان کی پلک بھی ان کی طرف نہیں  لوٹ رہی ہوگی اور ان کے دل خالی ہوں  گے۔

{مُهْطِعِیْنَ:لوگ بے تحاشا دوڑتے ہوئے جارہے ہوں  گے۔} یعنی قیامت کے دن کی دہشت اور ہولناکی سے لوگوں  کا حال یہ ہو گا کہ وہ اپنے سروں  کو اٹھائے عَرصۂ محشر کی طرف بلانے والے یعنی حضرت اسرافیلعَلَیْہِ السَّلَام کی طرف بے تحاشا دوڑتے جا رہے ہوں  گے اور  ان کی پلک تک نہ جھپک رہی ہو گی کہ اپنے آپ کو ہی دیکھ سکیں  اور ان کے دل حیرت کی شدت اوردہشت کے مارے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے خالی ہوں  گے۔حضرت قتادہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن دل سینوں  سے نکل کر گلوں  میں  آپھنسیں  گے ،نہ باہر نکل سکیں  گے نہ اپنی جگہ واپس جاسکیں  گے اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اُس دن کی دہشت اور ہولناکی کی شدت کا یہ عالَم ہوگا کہ سراوپر اٹھے ہوں  گے، آنکھیں  کھلی کی کھلی رہ جائیں  گی اور دل اپنی جگہ پر قرار نہ پاسکیں  گے۔ (مدارک، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۴۳، ص۵۷۳، جلالین، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۴۳، ص۲۱۰، خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۴۳، ۳ / ۹۰، ملتقطاً)

قیامت کی ہولناکیاں :

            اس آیت میں  قیامت کی چند ہولناکیاں  بیان ہوئیں  ،اس کی مزید ہولناکیاں  سنئے ،چنانچہ امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں  ’’وہ دن جس میں  کوئی شک نہیں  ،وہ دن جس میں  دلوں  کے رازوں  کا امتحان ہوگا، جس دن کوئی (کافر) نفس کسی نفس کے کام نہیں  آئے گا، وہ دن جب آنکھیں  کھلی کی کھلی رہ جائیں  گی، جس دن کوئی ساتھی کسی ساتھی کے کام نہیں  آئے گا ،جس دن کوئی کسی دوسرے نفس کے لیے کسی چیز کا مالک نہیں  ہوگا، جس دن (کفار کو) جہنم کی طرف بلایا جائے گا، جس دن ان کو چہروں  کے بل اوندھا گرایا جائے گا، جس دن ان کو اوندھے منہ جہنم میں  ڈالا جائے گا، جس دن باپ اولاد کے کام نہ آسکے گا، جس دن آدمی اپنے بھائی، ماں  اور باپ سے بھاگتا پھرے گا، جس دن لوگ بات نہیں  کرسکیں  گے اور نہ ان کو اجازت ہوگی کہ عذر پیش کریں ، جس دن اللّٰہ تعالیٰ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا، جس دن لوگ ظاہر ہوں  گے، جس دن وہ جہنم میں  عذاب دیئے جائیں  گے جس دن مال اور اولاد نفع نہیں  دے گی، جس دن ظالموں  کو ان کی معذرت کوئی فائدہ نہیں  پہنچائے گی ،ان کے لیے لعنت اور برا گھر ہوگا، جس دن عذر نا منظور ہوں  گے اور دلوں  کی آزمائش ہوگی، پوشیدہ باتیں  ظاہر ہوں  گی اور پردے اٹھ جائیں  گے ،جس دن آنکھیں  جھکی ہوئی ہوں  گی اور آوازیں  بند ہوں  گی، اس دن توجہ کم ہوگی اور پوشیدہ باتیں  ظاہر ہوں  گی، گناہ بھی سامنے آجائیں  گے جس دن لوگوں  کو ان کے گواہوں  سمیت چلایا جائے گا، بچے جوان ہوجائیں  گے اور بڑے نشے میں  ہوں  گے، پس اس دن ترازو رکھے جائیں  گے اور اعمال نامے کھولے جائیں  گے،جہنم ظاہر کی جائے گی اور گرم پانی کو جوش دیا جائے گا،آگ مسلسل جلے گی اور کفار ناامید ہوں  گے،آگ بھڑکائی جائے گی اور رنگ بدل جائیں  گے، زبان گونگی ہوگی اور انسانی اعضا گفتگو کریں  گے۔تو اے انسان! تجھے اپنے کریم رب

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن