30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جانے والی چیزوں کی تخلیق میں اللّٰہ تعالیٰ نے اتنے عجائبات رکھے ہیں کہ انہیں شمار ہی نہیں کیا جا سکتا ۔ صرف گندم ہی کو لے لیجئے کہ جب تمہارے پاس کچھ گندم ہو اور تم اسے کھا تے رہو تو وہ گندم ختم ہو جائے گی اور تم بھوکے رہ جاؤ گے لہٰذا تمہیں ایسا کام کرنے کی حاجت ہے کہ جس سے گندم کے دانے اتنے زیادہ ہو جائیں کہ تمہاری ضرورت کو کافی ہوں اور وہ کام گندم کو کاشت کرنا ہے،ا س کی صورت یہ ہو گی کہ تم گندم کے دانے کو ایسی زمین میں ڈالو جس میں پانی ہو اور وہ پانی زمین سے مل کر گارا بن چکا ہو ،پھر صرف پانی اور مٹی ہی کافی نہیں کیونکہ اگر تم اس گندم کو ایسی زمین میں چھوڑ دو گے جو سخت اور باہم مُتَّصل ہو تو ہو انہ پہنچنے کی وجہ سے گندم اُگے گی ہی نہیں ، لہٰذا ضروری ہے کہ گندم کا دانہ ایسی زمین میں چھوڑا جائے جو نرم اور پلپلی ہو تاکہ ہوا اس میں داخل ہو سکے ۔ پھر ہو اخود بخود حرکت نہیں کرتی لہٰذا ایسی آندھی کی ضرورت ہے جو ہوا کو حرکت دے اور اسے زور زور سے زمین پر مارے تاکہ وہ اس کے اندر چلی جائے ۔ پھر اگر بہت زیادہ سردی ہو تو یہ سب کچھ فائدہ نہیں دیتا لہٰذا بہار اور گرمی کی ضرورت ہوئی۔ پھر ا س پانی کی طرف دیکھو جس کی گندم کاشت کرنے میں حاجت ہے،اسے اللّٰہ تعالیٰ نے کس طرح پیدا فرمایا پھر ا س سے چشمے اور نہریں جاری فرمائیں ،پھر بعض اوقات زمین بلندی پر ہوتی ہے اور پانی اس تک پہنچ نہیں سکتا تو دیکھو کس طرح اللّٰہ تعالیٰ نے بادل بنائے اور ان پر کیسے ہو اکو مُسَلط کیا تاکہ وہ اِذنِ خداوندی سے ان کو زمین کے مختلف کناروں تک لے جائے حالانکہ بادل پانی سے بھرے ہوئے بھاری ہوتے ہیں ۔ پھر کس طرح اللّٰہ تعالیٰ ضرورت کے مطابق بہار اور خزاں کے موسم میں بارش برساتا ہے اور دیکھو کہ اللّٰہ تعالیٰ نے کس طرح پہاڑ بنائے جو پانی کی حفاظت کرتے ہیں اور ان سے بَتدریج پانی نکلتا ہے اگر یکدم پانی نکلے تو شہر غرق ہو جائیں اور جانور وغیرہ ہلاک ہو جائیں اور دیکھو کہ کس طرح اللّٰہ تعالیٰ نے سورج کو پیدا کیا اور اسے مُسخر کیا حالانکہ وہ زمین سے بہت دور ہے۔ایک وقت میں زمین کو گرم کرتا ہے اور ایک وقت میں نہیں تاکہ ٹھنڈک کی ضرورت ہو تو وہ ٹھنڈک دے اور گرمی کی حاجت ہو تو گرمی دے اور چاند کو پیدا کیا اور اس کی خاصیت مرطوب بنانا ہے جس طرح سورج کی خاصیت حرارت پہنچانا ہے تووہ چاند پھلوں کوپکاتا اور رنگین کرتا ہے اور یہ سب کچھ پیدا کرنے والے حکیم کی طرف سے مقرر کردہ ہے اور آسمان کے تمام ستاروں کو کسی نہ کسی فائدے کے لئے مسخر کیا گیا ہے جس طرح سور ج کو حرارت دینے اور چاند کو رطوبت دینے کے لئے مسخر کیا گیا ہے ۔خلاصہ یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک میں بے شمار حکمتیں ہیں جن کا شمار کرنا انسانی طاقت سے باہر ہے۔ (احیاء علوم الدین، کتاب الصبر والشکر، بیان وجہ الانموذج فی کثرۃ نعم اللّٰہ تعالٰی۔۔۔ الخ، ۴ / ۱۴۲-۱۴۳، ملخصاً)
وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا وَّ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَؕ(۳۵)
ترجمۂ کنزالایمان: اور یاد کرو جب ابراہیم نے عرض کی اے میرے رب اس شہر کو امان والا کردے اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بتوں کے پوجنے سے بچا ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور یاد کرو جب ابراہیم نے عرض کی: اے میرے رب! اس شہر کو امن والا بنادے اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بتوں کی عبادت کرنے سے بچا ئے رکھ۔
{وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ:اور یاد کرو جب ابراہیم نے عرض کی۔} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللّٰہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، مکہ مکرمہ کو امن والا شہر بنا دے کہ قیامت کے قریب دنیا کے ویران ہونے کے وقت تک یہ شہر ویرانی سے محفوظ رہے یا اس شہر والے امن میں ہوں ۔ (خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۵، ۳ / ۸۶، ملخصاً)
مکہ مکرمہ ویران ہونے سے محفوظ ہے:
حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی یہ دعا قبول ہوئی اور اللّٰہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو ویران ہونے سے محفوظ فرما دیا اور کوئی بھی اس مقدس شہر کو ویران کرنے پر قادر نہ ہوسکا اور اس شہر کو اللّٰہ تعالیٰ نے حرم بنایا کہ اس میں نہ کسی انسان کا خون بہایا جائے ،نہ کسی پر ظلم کیا جائے، نہ وہاں شکار مارا جائے اور نہ سبزہ کاٹا جائے۔ (جلالین، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۵، ص۲۰۹)
{وَ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَ:اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بتوں کی عبادت کرنے سے بچا ئے رکھ۔} یاد رہے کہ انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام بت پرستی اور تمام گناہوں سے معصوم ہیں حضرت ابراہیمعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا یہ دعا کرنا بارگاہِ الہٰی میں عاجزی اور محتاجی کے اظہار کے لئے ہے کہ باوجودیہ کہ تو نے اپنے کرم سے معصوم کیا لیکن ہم تیرے فضل و رحمت کی طرف دستِ احتیاج دراز رکھتے ہیں ۔ (خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۵، ۳ / ۸۶، ملخصاً)
رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِۚ-فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْۚ-وَ مَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۶)
ترجمۂ کنزالایمان: اے میرے رب بیشک بتوں نے بہت لوگ بہکا دیے تو جس نے میرا ساتھ دیا وہ تو میرا ہے اور جس نے میرا کہا نہ مانا تو بیشک تو بخشنے والا مہربان ہے ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے میرے رب! بیشک بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کردیا تو جو میرے پیچھے چلے تو بیشک وہ میرا ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو بیشک تو بخشنے والا مہربان ہے۔
{رَبِّ:اے میرے رب!}آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دعا فرمائی کہ اے میرے رب! عَزَّوَجَلَّ، بیشک بتوں کی وجہ سے بہت سے لوگ ہدایت اور حق کے راستے سے دور ہو گئے حتّٰی کہ لوگ بتوں کو پوجنے لگے اور تیرے ساتھ کفر کرنے لگ گئے تو جو میرے طریقے پر ہو یعنی اطاعت و فرمانبرداری کے طریقے پر ہو تو بیشک وہ میری سنت پر عمل پیرا ہے اور جو میرا نافرمان ہو تو اس کا معاملہ تیرے ہی حوالے ہے ،بے شک تو گناہگاروں کے گناہوں اور ان کی خطاؤں کو اپنے فضل سے بخشنے والا ہے اور اپنے بندوں پر رحم فرمانے والا ہے ،اور لوگوں میں سے جسے چاہے معاف فرما دے۔ (تفسیر طبری، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۶، ۷ / ۴۶۰-۴۶۱)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اپنی امتوں کے انجام کے بارے میں بہت فکر مند ہو اکرتے تھے ، سرکارِ دو عالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی فکرِ امت کی ایک جھلک ملاحظہ ہو۔ حضرت عبداللّٰہ بن عمرو بن العاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں ’’حضور اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے قرآن پاک میں سے حضرت ابراہیم عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام کے اس قول کی تلاوت فرمائی:
’’رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِۚ-فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّهٗ مِنِّیْ‘‘
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے میرے رب! ان بتوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا ہے،جو شخص میری پیروی کرے گا وہ میرے راستہ پر ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع