دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-5-Para-13-To-15 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

تھا ؟کہا گیا کہ’’ دس ہزار درہم۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ پوچھتے پوچھتے قرض خواہ کے گھر پہنچے ، اسے دس ہزار درہم دے کراپنے شاگرد کی رہائی کا مطالبہ کیا اور کہا ’’ جب تک میں  زندہ رہوں  اس وقت تک کسی کو بھی اس واقعہ کی خبر نہ دینا ۔ پھر راتوں  رات آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ وہاں  سے رخصت ہوگئے ۔قرض خواہ نے صبح ہوتے ہی مقروض نوجوان کو رہا کر دیا۔ نوجوان جب باہر آیا تو لوگو ں  نے اس سے کہا: حضر ت عبداللّٰہ بن مبارَک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ آپ کے متعلق پوچھ رہے تھے ، اور اب وہ واپس جاچکے ہیں  ۔ یہ سن کر نوجوان آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی تلاش میں  نکل پڑا اور تین دن کی مسافت طے کرکے آپ   کے پاس پہنچا ۔آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسے دیکھا تو پوچھا:’’اے نوجوان ! تم کہاں  تھے؟میںنے تمہیں  مسافرخانے میں  نہیں  پایا۔ نوجوان نے کہا: ’’اے ابو عبد الرحمٰن! رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ،مجھے قرض کے عوض قید کرلیا گیا تھا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے پوچھا ’’پھر تمہاری رہائی کا کیا سبب بنا؟ نوجوان نے عرض کی :اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے کسی نیک بندے نے میرا قرض ادا کردیا، اس طرح مجھے رہائی مل گئی۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’اے نوجوان ! اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو کہ اس نے کسی کو تیرا قرض ادا کرنے کی توفیق دی اور تجھے رہائی عطا فرمائی ۔راوی کہتے ہیں : جب تک حضرت عبد اللّٰہ بن مبارَک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ زندہ رہے تب تک اس قرض خواہ نے کسی کو بھی خبر نہ دی کہ نوجوان کاقرض کس نے ادا کیا ، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے وصال کے بعداس نے سارا واقعہ لوگوں  کو بتا دیا۔ (عیون الحکایات، الحکایۃ الرابعۃ والسبعون بعد المائتین، ص۲۵۴-۲۵۵)

فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ قَالُوْا یٰۤاَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْكَیْلُ فَاَرْسِلْ مَعَنَاۤ اَخَانَا نَكْتَلْ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ(۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان: پھر جب وہ اپنے باپ کی طرف لوٹ کر گئے بولے اے ہمارے باپ ہم سے غلہ روک دیا گیا ہے تو ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے کہ غلہ لائیں  اور ہم ضرور اس کی حفاظت کریں  گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:پھر جب وہ اپنے باپ کی طرف لوٹ کر گئے تو کہنے لگے: اے ہمارے باپ! ہم سے غلہ روک دیا گیا ہے لہٰذا ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے تاکہ ہم غلہ لاسکیں  اور ہم ضرور اس کی حفاظت کریں  گے۔

{فَلَمَّا رَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْهِمْ:پھر جب وہ اپنے باپ کی طرف لوٹ کر گئے۔} جب حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بھائی اپنے والد محترم حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پاس لوٹ کر گئے تو بادشاہ کے حسنِ سلوک اور اس کے احسان کاذکر کرتے ہوئے کہا کہ اُس نے ہماری وہ عزت و تکریم کی کہ اگر آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں  سے کوئی ہوتا تو وہ بھی ایسا نہ کرسکتا ۔ حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا ’’ اب اگر تم بادشاہِ مصر کے پاس جاؤ تو میری طرف سے سلام پہنچانا اور کہنا کہ ہمارے والد تیرے حق میں  تیرے اس سلوک کی وجہ سے دعا کرتے ہیں ۔ انہوں  نے عرض کی ’’اے ہمارے باپ! شاہ ِمصر نے ہم سے کہہ دیا ہے کہ اگر ہم بنیامین کو نہ لے کر آئے تو آئندہ ہمیں  غلہ نہیں  ملے گا اس لئے اب بنیامین کا جانا ضروری ہے، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہمارے بھائی بنیامین کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے تاکہ ہم غلہ لاسکیں  ، ہم ضرور اس کی حفاظت کریں  گے اور انہیں  بخیریت آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے پاس واپس لائیں  گے ۔( خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۶۳، ۳ / ۳۰)

قَالَ هَلْ اٰمَنُكُمْ عَلَیْهِ اِلَّا كَمَاۤ اَمِنْتُكُمْ عَلٰۤى اَخِیْهِ مِنْ قَبْلُؕ-فَاللّٰهُ خَیْرٌ حٰفِظًا۪-وَّ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ(۶۴)

ترجمۂ کنزالایمان: کہا کیا اس کے بارے میں  تم پر ویسا ہی اعتبار کرلوں  جیسا پہلے اس کے بھائی کے بارے میں  کیا تھا تو اللّٰہ سب سے بہتر نگہبان اور وہ ہر مہربان سے بڑھ کر مہربان ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یعقوب نے فرمایا: کیا اس کے بارے میں  تم پر ویسا ہی اعتبار کرلوں  جیسا پہلے اس کے بھائی کے بارے میں  کیا تھاتو اللّٰہ سب سے بہتر حفاظت فرمانے والا ہے اور وہ ہر مہربان سے بڑھ کر مہربان ہے۔

{قَالَ:فرمایا۔} حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بھائیوں  کی یہ بات سن کر حضرت یعقوب عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا ’’میں  اپنے بیٹے بنیامین کے بارے میں  تمہارا اعتبار کیسے کر لوں  حالانکہ اس کے بھائی حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ تم نے جو کچھ کیا وہ جانتے ہو اور اب بنیامین کے بارے میں  بھی ویسی ہی بات کر رہے ہو، تمہارے بنیامین کی حفاظت کرنے کے مقابلے میں  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی حفاظت سب سے بہتر ہے اور وہ ہر مہربان سے بڑھ کر مہربان ہے۔ (خازن، یوسف، تحت الآیۃ: ۶۴، ۳ / ۳۰)

اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی حفاظت سب سے بہتر ہے:

            مخلوق کے مقابلے میں  یقینا اللّٰہ تعالیٰ کی حفاظت ہی سب سے بہتر ہے، اس لئے ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اپنی جان،مال، اولاد اور دین و ایمان وغیرہ کی حفاظت سے متعلق حقیقی اعتماد اور بھروسہ اللّٰہ تعالیٰ پر ہی کرے کیونکہ دیگر لوگ  حفاظت کے معاملے میں  آلات اور اسباب کے محتاج ہیں  جبکہ اللّٰہ تعالیٰ تمام اُمور اور ہر طرح کے حالات میں  اسباب و آلات سے غنی اور بے نیاز ہے اورجن کی حفاظت اللّٰہ تعالیٰ اپنے ذمہِ کرم پر لے لے ،،یا،،جنہیں  اللّٰہ تعالیٰ کی حفاظت میں  دیاجائے ان کی حفاظت سے متعلق دو حیرت انگیز واقعات ملاحظہ ہوں :

(1)…حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : حضور پر نورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَجب قضاءِ حاجت کا ارادہ فرماتے تو(آبادی سے کافی) دور تشریف لے جاتے، ایک دن آپ قضاءِ حاجت کے لئے تشریف لائے، پھر وضو فرمایا اور ایک موزہ پہن لیا تو اچانک ایک سبز رنگ کا پرندہ آیا اور دوسرے موزے کو لے کر بلند ہو گیا، پھر اس نے موزے کو پھینکا تو اس میں  سے ایک سیاہ رنگ کا سانپ نکلا، (یہ دیکھ کر) نبیٔ  کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’یہ وہ اعزاز ہے جو اللّٰہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمایا ہے ۔پھر آپ نے کہا ’’ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَنْ یَمْشِیْ عَلٰی بَطْنِہٖ وَمِنْ شَرِّ مَنْ یَمْشِیْ عَلٰی رِجْلَیْنِ وَمِنْ شَرِّ مَنْ یَمْشِیْ عَلٰی اَرْبَعٍ‘‘اے اللّٰہ !میں  اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں  جو اپنے پیٹ پر چلتا ہے اور اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں  جو دو ٹانگوں  پر چلتا ہے اور اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں  جو چارٹانگوں  پر چلتا ہے ۔ (معجم الاوسط، باب الہاء، ذکر من اسمہ ہاشم، ۶ / ۴۳۲، الحدیث: ۹۳۰۴)

(2)…حضرت زید بن اسلم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : میرے والد نے بتایا کہ ایک مرتبہ حضرت عمر بن خطا ب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ لوگو ں  کے درمیان جلوہ فرما تھے کہ اچانک ہمارے قریب سے ایک شخص گزرا جس نے اپنے بچے کو کندھوں  پر بٹھا رکھا تھا۔ حضرت عمر بن خطاب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جب ان باپ بیٹے کو دیکھا تو فرمایا ’’جتنی مشابہت ان دونوں   میں  پائی جارہی ہے

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن