دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-5-Para-13-To-15 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اس دن گہرے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں  گے سوائے پرہیزگاروں  کے۔ (خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۱، ۳ / ۸۵، ملخصاً)

اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَ جَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْۚ-وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْفُلْكَ لِتَجْرِیَ فِی الْبَحْرِ بِاَمْرِهٖۚ-وَ سَخَّرَ لَكُمُ الْاَنْهٰرَۚ(۳۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اللّٰہ ہے جس نے آسمان اور زمین بنائے اور آسمان سے پانی اتارا تو اس سے کچھ پھل تمہارے کھانے کو پیدا کیے اور تمہارے لیے کشتی کو مسخر کیا کہ اس کے حکم سے دریا میں  چلے اور تمہارے لیے ندیاں  مسخر کیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اللّٰہ ہی ہے جس نے آسمان اور زمین بنائے اور آسمان سے پانی اتارا تو اس کے ذریعے تمہارے کھانے کیلئے کچھ پھل نکالے اور کشتیوں  کوتمہارے قابو میں  دیدیا تا کہ اس کے حکم سے دریا میں  چلے اور دریا تمہارے قابو میں  دیدئیے۔

{اَللّٰهُ:اللّٰہ ہی ہے۔}اس سے پہلی آیات میں  سعادت مندوں  اور بدبختوں  کے احوال بیان ہوئے اور چونکہ سعادت کے حصول کا اہم ترین ذریعہ اللّٰہ تعالیٰ کی ذات وصفات کی معرفت ہے اور بد بختی کا اہم ترین سبب اس معرفت سے محرومی ہے اس لئے سعادت مندوں  اور بدبختوں  کے احوال کے بعد وہ دلائل بیان فرمائے گئے ہیں  جو اللّٰہ تعالیٰ کے موجود ہونےاور اس کے علم و قدرت کے کمال پر دلالت کرتے ہیں ۔اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات میں  کل دس دلائل بیان ہوئے ہیں  (1)آسمانوں  کو پیدا کرنا۔(2)زمین کو پیدا کرنا۔(3) آسمان سے پانی اتار کراس کے ذریعے لوگوں  کے کھانے کیلئے کچھ پھل نکالنا۔ (4) کشتیوں  کولوگوں  کے قابو میں  دینا تا کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے دریا میں  چلے۔ (5) دریا لوگوں  کے قابو میں  دینا۔(6،7) سورج اور چاندکو لوگوں  کے لئے کام پر لگادینا جو برابر چل رہے ہیں ۔ (8،9) لوگوں  کے لیے رات اور دن کومُسخر کردینا۔(10) لوگوں  کو بہت کچھ ان کی منہ مانگی چیزیں  دینا۔ (تفسیرکبیر، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۲، ۷ / ۹۶)

{اَللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ:اللّٰہ ہی ہے جس نے آسمان اور زمین بنائے۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ہی ہے جس نے آسمان اور زمین کو بغیر کسی چیز کے پیدا فرمایا اور آسمان سے بارش کا پانی نازل فرمایا جس کے ذریعے درختوں  اور کھیتیوں  کی نشوونما ہوئی تو ان پر تمہارے کھانے کے لئے پھل اُگے اور کشتیوں  کوتمہارے قابو میں  دیدیا تا کہ وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے دریا میں  چلیں  ،تم ان کشتیوں  پر سوار ہوتے ہو اوران کے ذریعے ایک شہر سے دوسرے شہر اپنے سازو سامان کی نقل و حمل کرتے ہو اور دریاؤں  کا پانی بھی تمہار ے قابو میں  دیدیا ۔خلاصہ یہ ہے کہ اے شرک کرنے والو! عبادت اور اطاعت کا مستحق وہی ہے جس کے یہ اوصاف ہیں ، تمہارے معبود بت جو نہ اپنے آپ کو اورنہ کسی اور کو نفع نقصان پہنچانے کی قدرت رکھتے ہیں  وہ ہر گز عبادت کے لائق نہیں ۔ (تفسیر طبری، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۲، ۷ / ۴۵۷)

وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ دَآىٕبَیْنِۚ-وَ سَخَّرَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَۚ(۳۳)

ترجمۂ کنزالایمان: اور تمہارے لیے سورج اور چاند مسخر کیے جو برابر چل رہے ہیں  اور تمہارے لیے رات اور دن مسخر کیے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تمہارے لیے سورج اور چاندکو کام پر لگادیا جو برابر چل رہے ہیں  اور تمہارے لیے رات اور دن کومسخر کردیا۔

{وَ سَخَّرَ لَكُمُ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ:اور تمہارے لیے سورج اور چاندکو کام پر لگادیا۔}اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو! اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہی ہے جس نے سور ج اور چاند کو تمہارے لئے کام پر لگا دیا، دن میں  سورج طلوع ہو جاتا ہے اور رات میں  چاند نکل آتا ہے تاکہ تمہاری جانوں  اور معاش کی درستی رہے اورجب سے اللّٰہ تعالیٰ نے سورج اور چاندکو پیدا فرمایا ہے تب سے وہ اپنے اپنے محل میں  گردش کر رہے ہیں  اور اسی طرح قیامت تک گردش کرتے رہیں  گے،اپنی گردش کی وجہ سے نہ کمزور پڑیں  گے اور نہ ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں  گے اور تمہارے مَنافع اور اَسباب کی درستی کے لیے رات اور دن کومسخر کردیا ہے،رات جاتی ہے تو دن نکل آتا ہے ،دن ختم ہوتا ہے تو رات آ جاتی ہے،دن میں  تم اپنے معاش کے کاموں  میں  مصروف ہوتے ہو اور رات میں  آرام کرتے ہو، یہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی تم پر رحمت ہے۔ (تفسیر طبری، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۳، ۷ / ۴۵۷-۳۵۸، صاوی، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۳، ۳ / ۱۰۲۴-۱۰۲۵، ملتقطاً)

وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُؕ-وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَاؕ-اِنَّ الْاِنْسَانَ لَظَلُوْمٌ كَفَّارٌ۠(۳۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور تمہیں  بہت کچھ منہ مانگا دیااور اگر اللّٰہ کی نعمتیں  گنو تو شمار نہ کرسکو گے بیشک آدمی بڑا ظالم ناشکرا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اس نے تمہیں  وہ بھی بہت کچھ دیدیا جو تم نے اس سے مانگا اور اگر تم اللّٰہ کی نعمتیں  گنو توانہیں  شمار نہ کر سکو گے، بیشک انسان بڑا ظالم ناشکرا ہے ۔

{وَ اٰتٰىكُمْ مِّنْ كُلِّ مَا سَاَلْتُمُوْهُ:اور اس نے تمہیں  وہ بھی بہت کچھ دیدیا جو تم نے اس سے مانگا ۔} اس سے پہلی آیات میں  اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی ان عظیم ترین نعمتوں  کا ذکر فرمایا جو اس نے اپنے بندوں  پر فرمائیں  اور اس آیت میں  یہ بیان فرمایا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے بندوں  کو صرف یہی نعمتیں  عطا نہیں  کیں  بلکہ ان کی بے شمار منہ مانگی مرادیں  بھی پوری فرمائی ہیں ۔ (خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۴، ۳ / ۸۵) مفسرین نے اس آیت کے مختلف معنی بیان فرمائے ہیں ۔

(1)…تم نے جو کچھ اللّٰہ تعالیٰ سے مانگا اس میں  سے کچھ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنی مَشِیَّت اور حکمت کے مطابق عطا فرما دیا۔ (ابوسعود، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۴، ۳ / ۱۹۴)

(2)…اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کو ہر وہ چیز عطا کر دی جس کی اسے حاجت اور ضرورت تھی ، چاہے ا س نے سوال کیا ہو یا نہ کیا ہو۔

(3)… تمہیں  ہر وہ چیز عطا کر دی جس کی تمہیں  ضرورت تھی اور تم نے اس کیلئے زبانِ حال سے سوا ل کیا تھا۔ (بیضاوی، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۴، ۳ / ۳۵۰)

{وَ اِنْ تَعُدُّوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ لَا تُحْصُوْهَا: اور اگر تم اللّٰہ کی نعمتیں  گنو توانہیں  شمار نہ کر سکو گے۔} یعنی اللّٰہ تعالیٰ کی اپنے بندوں  پر نعمتیں  اتنی زیادہ ہیں  کہ اگر کوئی انہیں  شمار کرنا چاہے تو ان کی کثرت کی وجہ سے شمار ہی نہیں  کر سکتا۔یہاں  نعمت ِ الہٰی کے حوالے سے ہم احیاء العلوم کی روشنی میں  صرف ایک مثال بیان کرتے ہیں  اور اسی سے سمجھ لیں  کہ ہر چیز میں  اگر اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں  کو شمار کرنے لگیں  تو عین الیقین کے طور پر یہ بات سامنے آجائے گی کہ ہم اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتوں  کو گننا چاہیں  تو گن نہیں  سکتے۔ چنانچہ امام غزالی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں ’’کھائی

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن