30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بہت متاثر ہوئی ہوں اور اب میں تمہارے دین سے محبت کرنے لگی ہوں کہ جس کی تعلیمات میں یہاں تک اچھائی ہے کہ کسی غیر عورت کو نہ دیکھا جائے تو یقینا وہی دین حق ہے۔ میں آج اور ابھی عیسائیت سے توبہ کرکے تمہارے دین میں داخل ہوتی ہوں ۔ مجھے کلمہ پڑھاکر اپنے دین میں داخل کرلیجئے ۔ پھراس لڑکی نے سچے دل سے عیسائیت سے توبہ کی اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوگئی ۔ (عیون الحکایات، الحکایۃ التسعون بعد المائۃ، ص۱۹۷-۱۹۸)
اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا وَّ اَحَلُّوْا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِۙ(۲۸) جَهَنَّمَۚ-یَصْلَوْنَهَاؕ-وَ بِئْسَ الْقَرَارُ(۲۹)
ترجمۂ کنزالایمان: کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جنہوں نے اللّٰہ کی نعمت ناشکری سے بدل دی اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر لا اتارا۔ وہ جو دوزخ ہے اس کے اندر جائیں گے اور کیا ہی بری ٹھہرنے کی جگہ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جنہوں نے اللّٰہ کی نعمت کو ناشکری سے بدل دیا اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر اتارڈالا۔ جو دوزخ ہے اس میں داخل ہوں گے اور وہ کیا ہی ٹھہرنے کی بری جگہ ہے۔
{اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا:جنہوں نے اللّٰہ کی نعمت کو ناشکری سے بدل دیا۔} اس آیت سے اللّٰہ تعالیٰ نے کفار کے برے احوال کا ذکر فرمایا ہے ۔ (تفسیرکبیر، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۲۸، ۷ / ۹۴) بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ جن لوگوں نے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمت کو ناشکری سے بدل دیا ان سے مراد کفارِ مکہ ہیں اور وہ نعمت جس کی انہوں نے شکر گزاری نہ کی وہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَہیں۔ (بخاری، کتاب المغازی، باب قتل ابی جہل، ۳ / ۱۱، الحدیث: ۳۹۷۷)آیت کا معنی یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے دو عالَم کے سردار، محمدمصطفیٰصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے وجود سے کفارِ قریش کو نوازا اور ان کی زیارت سراپا کرامت کی سعادت سے مشرف کیا، ا س لئے ان پرلازم تھا کہ وہ اس نعمت ِجلیلہ کا شکر بجا لاتے اور ان کی پیروی کرکے مزید کرم کے حق دار ہوتے لیکن اس کی بجائے انہوں نے ناشکری کی اور نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا انکار کیا اور اپنی قوم کو جو دین میں ان کے موافق تھے ہلاکت کے گھر میں پہنچا دیا۔ (خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۲۸، ۳ / ۸۴)
وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّیُضِلُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖؕ-قُلْ تَمَتَّعُوْا فَاِنَّ مَصِیْرَكُمْ اِلَى النَّارِ(۳۰)
ترجمۂ کنزالایمان:اور اللّٰہ کے لیے برابر والے ٹھہرائے کہ اس کی راہ سے بہکاویں تم فرماؤ کچھ برت لو کہ تمہارا انجام آگ ہے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور انہوں نے اللّٰہ کے لیے برابر والے قرار دئیے تاکہ اس کی راہ سے بھٹکا دیں ، تم فرماؤ: فائدہ اٹھالو پھر بیشک تمہیں آگ کی طرف لوٹنا ہے۔
{قُلْ تَمَتَّعُوْا:تم فرماؤ: فائدہ اٹھالو ۔} کفار سے فرمایا گیا کہ اگرچہ تم شرک کے مرتکب ہو لیکن چند دن دنیا کی زندگی سے فائدہ اٹھالو پھر اس کے بعد تمہیں جہنم ہی کی طرف جانا ہے۔
سورۂ ابراہیم کی آیت28 تا 30 سے حاصل ہونے والی معلومات:
علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ان آیات سے چند باتیں معلوم ہوئیں :
(1)… جس طرح شکر نعمت میں اضافے کا سبب ہے اسی طرح ناشکری زوالِ نعمت کا سبب ہے (اس لئے ہر ایک کو نا شکری سے بچنا چاہئے)
(2)…برا ساتھی بندے کو جہنم کی طرف کھینچ کر لے جاتا ہے اور اسے تباہی کے گھر میں اتار دیتا ہے اس لئے ہر مخلص مسلمان کو چاہئے کہ وہ کافروں ، منافقوں اور بدمذہبوں کی صحبت سے خود کو بچائے تاکہ اس کی طبیعت ان کے برے عقائد و اعمال کی طرف مائل نہ ہو۔
(3)…جہنم شریر لوگوں کے ٹھہرنے کی جگہ ہے اور اس کی گرمی کی شدت ناقابلِ بیان ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’قیامت کے دن جس جہنمی کو سب سے کم عذاب ہوگا اس کے دونوں قدموں پر دو چنگاریاں رکھی جائیں گی جن کی وجہ سے اس کا دماغ اس طرح کھول رہا ہو گا جیسے ہانڈی یا دیگچی میں ابال آتا ہے (بخاری، کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنّۃ والنار، ۴ / ۲۶۲، الحدیث: ۶۵۶۲)۔ (روح البیان، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۳۰، ۴ / ۴۱۸-۴۱۹)
قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خِلٰلٌ(۳۱)
ترجمۂ کنزالایمان: میرے ان بندوں سے فرماؤ جو ایمان لائے کہ نماز قائم رکھیں اور ہمارے دئیے میں سے کچھ ہماری راہ میں چھپے اور ظاہر خرچ کریں اس دن کے آنے سے پہلے جس میں نہ سوداگری ہوگی نہ یارانہ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: میرے ان بندوں سے فرماؤ جو ایمان لائے کہ نماز قائم رکھیں اور ہمارے دئیے ہوئے میں سے کچھ ہماری راہ میں پوشیدہ اور اعلانیہ خرچ کریں اس دن کے آنے سے پہلے جس میں نہ کوئی تجارت ہوگی اور نہ دوستی۔
{قُلْ لِّعِبَادِیَ:میرے بندوں سے فرماؤ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، میرے ان بندوں سے فرما دیں جو ایمان لائے کہ فرض نمازیں ان کے تما م اَرکان و شرائط کے ساتھ ادا کریں اور ہمارے دئیے ہوئے رزق میں سے کچھ ہماری راہ میں پوشیدہ اور اعلانیہ اس دن کے آنے سے پہلے خرچ کریں جس میں نہ کوئی تجارت ہوگی کہ خرید و فروخت یعنی مالی معاوضے اورفد یے سے ہی کچھ نفع اُٹھایا جاسکے اور نہ دوستی کہ اس سے نفع اٹھایا جائے بلکہ بہت سے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے۔
قیامت کے دن نفسانی دوستی فائدہ نہ دے گی:
یاد رہے کہ اس آیت میں نفسانی اورطبعی دوستی کی نفی ہے اور ایمانی دوستی جومحبتِ الہٰی کے سبب سے ہو وہ باقی رہے گی جیسا کہ سورۂ زُخرف کی آیت نمبر 67 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَىٕذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَ (زخرف: ۶۷)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع