30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بیان فرما رہا ہے، چنانچہ اس آیت میں بیان فرمایا کہ ایمان قبول کرنے اور نیک اعمال کرنے والوں کو اللّٰہ تعالیٰ کے اِذن سے جنت کی دائمی نعمتیں عطا کی جائیں گی اور اللّٰہ تعالیٰ کے اِذن سے انہیں نعمتیں عطا ہونا بھی ان کے حق میں ایک طرح کی تعظیم ہے اور وہ خود بھی ایک دوسرے کی تعظیم کرتے ہوئے آپس میں ایک دوسرے کو سلام کریں گے،فرشتے بھی ان کی تعظیم کرتے ہوئے انہیں سلام کریں گے اور اللّٰہ تعالیٰ کی طرف سے بھی انہیں سلام کہا جائے گا۔ جنت میں سلام کا معنی یہ ہے کہ وہ دنیا کی آفتوں ،حسرتوں یا دنیا کی بیماریوں ،دردوں ، غموں اور پریشانیوں سے سلامت ہو گئے اور دنیا کے فانی جسموں سے نکل کر جنت کے دائمی جسموں میں منتقل ہو جانا اللّٰہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ (تفسیرکبیر، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۲۳، ۷ / ۸۹، ملخصاً)
اَلَمْ تَرَ كَیْفَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَیِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَیِّبَةٍ اَصْلُهَا ثَابِتٌ وَّ فَرْعُهَا فِی السَّمَآءِۙ(۲۴) تُؤْتِیْۤ اُكُلَهَا كُلَّ حِیْنٍۭ بِاِذْنِ رَبِّهَاؕ-وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ(۲۵)
ترجمۂ کنزالایمان: کیا تم نے نہ دیکھا اللّٰہ نے کیسی مثال بیان فرمائی پاکیزہ بات کی جیسے پاکیزہ درخت جس کی جڑ قائم اور شاخیں آسمان میں ۔ ہر وقت اپنا پھل دیتا ہے اپنے رب کے حکم سے اور اللّٰہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں وہ سمجھیں۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان:کیا تم نے نہ دیکھا کہ اللّٰہ نے کلمہ پاک کی کیسی مثال بیان فرمائی ہے جیسے ایک پاکیزہ درخت ہو جس کی جڑقائم ہو اور اس کی شاخیں آسمان میں ہوں ۔ ہر وقت اپنے رب کے حکم سے پھل دیتا ہے اور اللّٰہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ سمجھیں ۔
{اَلَمْ تَرَ:کیا تم نے نہ دیکھا ۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی دو آیات میں اللّٰہ تعالیٰ نے مومنین اور کفار کی دو مثالیں بیان فرمائی ہیں ،چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کے ابتدائی حصے میں مذکور مثال کا خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح کھجور کے درخت کی جڑیں زمین کی گہرائی میں موجود ہوتی ہیں اور اس کی شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہوتی ہیں اور وہ اللّٰہ تعالیٰ کے حکم سے ہر وقت پھل دیتا ہے ایسے ہی کلمۂ ایمان ہے کہ اس کی جڑ مومن کے دل کی زمین میں ثابت اور مضبوط ہوتی ہے اور اس کی شاخیں یعنی عمل آسمان میں پہنچتے ہیں اور اس کے ثَمرات یعنی برکت و ثواب ہر وقت حاصل ہوتے ہیں ۔( خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۲۴، ۳ / ۸۱-۸۲، ملخصاً)
حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ (اس آیت میں ) پاکیزہ بات سے ’’لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہ‘‘ کہنا مراد ہے اور پاکیزہ درخت سے مراد کھجور کا درخت ہے۔ (خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۲۴، ۳ / ۸۱) پاکیزہ درخت سے متعلق اور بھی اقوال ہیں ۔
حضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں ’’ہم سرکارِ دو عالَمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضر تھے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم سے ارشاد فرمایا ’’مجھے اس درخت کے بارے بتاؤ جو مردِ مومن کی مثل ہے، اس کے پتے نہیں گرتے اور وہ ہروقت پھل دیتا ہے ؟حضرت عبداللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں کہ میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن جب میں نے یہ دیکھا کہ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا جیسے صحابہ خاموش ہیں تو مجھے کلام کرنا مناسب نہ لگا، جب صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے کوئی جواب نہ دیا توحضور ِاقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’وہ کھجور کا درخت ہے۔ مجلس برخاست ہونے کے بعد میں نے اپنے والد ماجد حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے عرض کی ’’ جب حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دریافت فرمایا تھا تو میرے دل میں آیا تھا کہ یہ کھجور کا درخت ہے لیکن جب میں نے دیکھا کہ بڑے بڑے صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمتشریف فرما ہیں اور وہ کوئی جواب نہیں دے رہے تو میں بھی خاموش رہا، حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ اگر تم بتادیتے تو مجھے بہت خوشی ہوتی۔ (بخاری، کتاب التفسیر، سورۃ ابراہیم، باب کشجرۃ طیّبۃ اصلہا ثابت۔۔۔ الخ، ۳ / ۲۵۳، الحدیث: ۴۶۹۸)
{وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ:اور اللّٰہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے۔} یعنی اللّٰہ تعالیٰ لوگوں کے لئے مثالیں اس لئے بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور ایمان لائیں کیونکہ مثالوں سے معنی اچھی طرح دل میں اتر جاتے ہیں۔(جلالین، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۲۵، ص۲۰۸، خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۲۵، ۳ / ۸۲، ملتقطاً)
وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِیْثَةِ ﹰ اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ مَا لَهَا مِنْ قَرَارٍ(۲۶)
ترجمۂ کنزالایمان:اور گندی بات کی مثال جیسے ایک گندہ پیڑ کہ زمین کے اوپر سے کاٹ دیا گیا اب اسے کوئی قیام نہیں ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور گندی بات کی مثال اس گندے درخت کی طرح ہے جوزمین کے اوپر سے کاٹ دیا گیا ہو تو اب اسے کوئی قرار نہیں ۔
{وَ مَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِیْثَةٍ:اور گندی بات کی مثال۔} اس آیت میں مذکور مثال کا خلاصہ یہ ہے کہ گندی بات یعنی کفریَہ کلام کی مثال اندرائن جیسے کڑوے مزے اور ناگوار بو والے پھل کے درخت کی طرح ہے جوزمین کے اوپر سے کاٹ دیا گیا ہو تو اب اسے کوئی قرار نہیں کیونکہ اس کی جڑیں زمین میں ثابت و مستحکم نہیں اور نہ ہی اس کی شاخیں بلند ہوتیں ہیں یہی حال کفریہ کلام کا ہے کہ اس کی کوئی اصل ثابت نہیں اور وہ کوئی دلیل وحجت نہیں رکھتا جس سے اسے استحکام ملے اورنہ اس میں کوئی خیر وبرکت ہے کہ وہ قبولیت کی بلندی پر پہنچ سکے۔ (خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۲۶، ۳ / ۸۲، ملخصاً)
یُثَبِّتُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِۚ-وَ یُضِلُّ اللّٰهُ الظّٰلِمِیْنَ ﳜ وَ یَفْعَلُ اللّٰهُ مَا یَشَآءُ۠(۲۷)
ترجمۂ کنزالایمان:اللّٰہ ثابت رکھتا ہے ایمان والوں کو حق بات پر دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں اور اللّٰہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے اور اللّٰہ جو چاہے کرے۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اللّٰہ ایمان والوں کو حق بات پر دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں ثابت رکھتا ہے اور اللّٰہ ظالموں کو گمراہ کرتا ہے اور اللّٰہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع