30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
’’وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا‘‘ (فرقان:۲۳)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور انہوں نے جو کوئی عمل کیا ہوگا ہم اس کی طرف قصد کرکے باریک غبار کے بکھرے ہوئے ذروں کی طرح (بے وقعت) بنادیں گے جو روشندان کی دھوپ میں نظر آتے ہیں ۔
اور حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ جس مومن کو دنیا میں کوئی نیکی دی جاتی ہے اللّٰہ تعالیٰ اس پر ظلم نہیں کرے گا، اسے آخرت میں بھی جزا دی جائے گی اور رہا کافر تو اس نے دنیا میں جو اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کیلئے نیکیاں کی ہیں ان کا اَجر اسے دنیا میں دے دیاجائے گا اور جب وہ آخرت میں پہنچے گا تو اس کے پاس کوئی ایسی نیکی نہ ہو گی جس کی اسے جزا دی جائے۔ (مسلم، کتاب صفۃ القیامۃ والجنّۃ والنار، باب جزاء المؤمن بحسناتہ فی الدنیا والآخرۃ۔۔۔ الخ، ص۱۵۰۸، الحدیث: ۵۶(۲۸۰۸))
اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰهَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّؕ-اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍۙ(۱۹) وَّ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ(۲۰)
ترجمۂ کنزالایمان: کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللّٰہ نے آسمان و زمین حق کے ساتھ بنائے اگر چاہے تو تمہیں لے جائے اور ایک نئی مخلوق لے آئے ۔ اور یہ اللّٰہ پر کچھ دشوار نہیں ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان: کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللّٰہ نے آسمان اور زمین حق کے ساتھ بنائے۔وہ اگر چاہے تو اے لوگو! تمہیں لے جائے اور ایک نئی مخلوق لے آئے۔اور یہ اللّٰہ پر کچھ دشوار نہیں ۔
{اَلَمْ تَرَ:کیا تو نے نہ دیکھا ۔} یعنی اللّٰہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو باطل اور بیکار پیدا نہیں فرمایا بلکہ ان کی پیدائش میں بڑی حکمتیں ہیں ۔ (خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱۹، ۳ / ۷۹)
{اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ:وہ اگر چاہے تو اے لوگو!تمہیں لے جائے ۔} یعنی جو آسمانوں اور زمینوں کو حق کے ساتھ پیدا کرنے پر قادر ہے وہ ایک قوم کو فنا کر دینے کے بعد نئی مخلوق پیدا کر دینے پر بدرجہ اَولیٰ قادر ہے کیونکہ جو کسی سخت اور مشکل چیز کو پیدا کرنے پر قادر ہو وہ سہل اور آسان چیز پیدا کرنے پر بدرجہ اولیٰ قادر ہوگا اور یہ ظاہری سمجھانے کے اعتبار سے کلام ہے ورنہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کیلئے اِبتدا و اِعادہ سب برابر ہے۔ حضرت عبداللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں ’’اس آیت میں کفارِ مکہ سے خطاب ہے کہ اے کافروں کے گروہ! میں تمہیں ختم کرکے تمہاری جگہ اور مخلوق پیدا کر دوں گا جو میری فرمانبردار اور اطاعت گزار ہو گی۔ (تفسیرکبیر، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱۹، ۷ / ۸۲)
اللّٰہ تعالٰی اپنی نافرمانی پر فوراًسزا نہیں دیتا:
علامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِفرماتے ہیں:’’یہ آیتِ مبارکہ اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت اور صبر کے کمال پر دلالت کرتی ہے کہ وہ گناہگاروں کی جلد پکڑ نہیں فرماتا۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ کوئی شخص ایسا نہیں جو اَذِیّت ناک بات سنے اور اللّٰہ تعالیٰ سے زیادہ صابر ہو ۔ اُس کے ساتھ شرک کیا جاتا ہے اور ا س کے لئے بیٹا ٹھہرایا جاتا ہے لیکن ا س کے باوجود وہ انہیں مہلت دئیے رکھتا ہے اور انہیں روزی دیتا رہتا ہے۔ (مسلم، کتاب صفۃ القیامۃ والجنّۃ والنار، باب لا احد اصبر علی اذی من اللّٰہ عزّوجل۔۔۔ الخ، ص۱۵۰۶، الحدیث: ۴۹ (۲۸۰۴)) پھر عذاب کے مؤخر ہونے میں یہ حکمت بھی ہے کہ گناہ کرنے والا توبہ کر لے اور ( باطل) دلیل پر اِصرار کرنے والا اسے چھوڑ دے، اس لئے ہر عقلمند کو چاہئے کہ وہ (جلد عذاب نہ ہونے کو غنیمت سمجھتے ہوئے کفر اور گناہوں سے فوراً توبہ کر لے اور) ہر حال میں اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے کیونکہ وہ قَہر، کبریائی اور جلالت والا ہے۔ (روح البیان، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱۹، ۴ / ۴۱۰)
{وَ مَا ذٰلِكَ: اور یہ نہیں۔} ارشاد فرمایا کہ یہ (یعنی نئی مخلوق لانا) اللّٰہعَزَّوَجَلَّ کے لئے کوئی مشکل نہیں کیونکہ جو سارے جہان کو فنا کرنے اور ایجاد کرنے پر قادر ہے اس کے لئے مخصوص لوگوں کو فنا کرنا اور پیدا کرنا کیا مشکل ہے۔ (تفسیرکبیر، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۲۰، ۷ / ۸۲)
وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِیْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍؕ-قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَیْنٰكُمْؕ-سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ۠(۲۱)
ترجمۂ کنزالایمان: اور سب اللّٰہ کے حضور علانیہ حاضر ہوں گے تو جو کمزور تھے وہ بڑائی والوں سے کہیں گے ہم تمہارے تابع تھے کیا تم سے ہوسکتا ہے کہ اللّٰہ کے عذاب میں سے کچھ ہم پر سے ٹال دو کہیں گے اللّٰہ ہمیں ہدایت کرتا تو ہم تمہیں کرتے ہم پر ایک سا ہے چاہے بے قراری کریں یا صبر سے رہیں ہمیں کہیں پناہ نہیں ۔
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور سب اللّٰہ کے حضور اعلانیہ حاضر ہوں گے تو جو کمزور تھے بڑے لوگوں سے کہیں گے : ہم تمہارے تابع تھے توکیا تم اللّٰہ کے عذاب میں سے کچھ ہم سے دور کرسکتے ہو۔وہ کہیں گے: اگر اللّٰہ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم تمہیں بھی ہدایت دیدیتے ۔ (اب) ہم پر برابر ہے کہ بے قراری کا اظہار کریں یا صبرکریں ۔ہمارے لئے کہیں کوئی پناہ گاہ نہیں ۔
{وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِیْعًا:اور سب اللّٰہ کے حضور اعلانیہ حاضر ہوں گے۔}اس آیت میں اللّٰہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کفار کے آپس میں اور شیطان کے ساتھ بحث کرنے کی خبر دی ہے ۔ آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قیامت کے دن سب اپنی قبروں سے نکل کر اللّٰہ تعالیٰ کے حضور اعلانیہ حاضر ہوں گے تاکہ اللّٰہ تعالیٰ ان سے حساب لے اور ان کے اعمال کے مطابق انہیں جزا دے ،تواس وقت وہ لوگ جو کمزور تھے اور دولت مندوں اور بااثر لوگوں کی پیروی میں انہوں نے کفر اختیار کیا تھا، وہ بڑے لوگوں اور قائدین سے کہیں گے کہ دین اور اعتقاد میں ہم تمہارے تابع تھے توکیا تم اس بات پر قادر ہو کہ اللّٰہ تعالیٰ نے جو عذاب ہمارے لئے مقرر فرمایا اس میں سے کچھ ہم سے دور کرسکو۔ ان کایہ کلام تَوبیخ اور عناد کے طور پر ہوگا کہ دنیا میں تم نے ہمیں گمراہ کیا تھا اور راہِ حق سے روکا تھا اور بڑھ بڑھ کر باتیں کیا کرتے تھے، اب تمہارے وہ دعوے کہاں گئے، اب اس عذاب میں سے ذرا سا توٹال دو ۔ کافروں کے سردار اس کے جواب میں کہیں گے ’’اگر اللّٰہعَزَّوَجَلَّ ہمیں دنیا میں ایمان کی ہدایت دیتا تو ہم تمہیں بھی ہدایت دیدیتے ،جب خود ہی گمراہ ہو رہے تھے تو تمہیں کیا راہ دکھاتے، اب خلاصی کی کوئی صورت نہیں ، نہ کافروں کے لئے شفاعت، آؤ ،روئیں اور فریاد کریں ، چنانچہ پانچ سوبرس فریاد اور گریہ و زاری کرتے رہیں گے ، جب یہ ان کے کچھ نہ کام آئے گی تو کہیں گے ’’اب صبر کر کے دیکھو ،شاید اس سے کچھ کام نکلے،چنانچہ پانچ سو برس صبر کریں گے ،جب وہ بھی ان کے کام نہ آئے گا تو کہیں گے کہ اب ہم پر برابر ہے کہ بے قراری کا اظہار کریں یا صبر کریں ، ہمارے لئے کہیں کوئی پناہ گاہ نہیں ۔ (صاوی، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۲۱، ۳ / ۱۰۱۹،خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۲۱، ۳ / ۷۹-۸۰، مدارک، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۲۱، ص۵۶۷، ملتقطاً)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع