دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Sirat ul Jinan-Jild-5-Para-13-To-15 | صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

book_icon
صراط الجنان فی تفسیر القران جلد-پنجم- پارہ تیرہ تا پندرہ

تعالیٰ سے اپنی قوموں  کے خلاف مدد طلب کی اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے ان پر عذاب نازل کر دینے کی دعا کی ۔ دوسرا معنی یہ ہے کافروں  نے یہ گمان رکھتے ہوئے اپنے اور رسولوں  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے درمیان اللّٰہ تعالیٰ سے فیصلہ طلب کیا کہ وہ حق پر ہیں  اور انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام حق پر نہیں ۔ (خازن، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱۵، ۳ / ۷۸، مدارک، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱۵، ص۵۶۶، ملتقطاً)

{وَ خَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ:اور ہر سرکش ہٹ دھرم نا کام ہوگیا۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مدد فرمائی گئی اور انہیں  فتح دی گئی اور حق کے مخالف سرکش کا فر نامراد ہوئے اور ان کی خلاصی کی کوئی صورت نہ رہی۔ (ابوسعود، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱۵، ۳ / ۱۸۴)

{یَتَجَرَّعُهٗ: بڑی مشکل سے اس کے تھوڑے تھوڑے گھونٹ لے گا۔} یعنی جب حق کے مخالف سرکش کافر کو پیپ کا پانی پلایا جائے گا تو وہ ا س کی کڑواہٹ کی وجہ سے بڑی مشکل سے تھوڑے تھوڑے گھونٹ لے گا اور ا س کی قباحت و کراہت کی بنا پر ایسا لگے گا نہیں  کہ وہ اسے گلے سے اتار لے اور مختلف عذابات کی صورت میں  ہر طرف سے موت کے اسباب اس کے پاس آئیں  گے لیکن وہ مرے گا نہیں  کہ مر کر ہی راحت پا لے اور اسی ہر عذاب کے بعد اس سے زیادہ شدید اور سخت عذاب ہوگا۔ (جلالین مع صاوی، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱۷، ۳ / ۱۰۱۸، مدارک، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱۷، ص۵۶۶، ملتقطاً)

جہنمیوں  کے مشروب کی کیفیت:

            اس آیت میں  جہنمیوں  کے جس مشروب کا ذکر ہوا اس کی کیفیت ملاحظہ ہو، چنانچہ حضرت ابو امامہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے ارشاد فرمایا ’’ جہنمی کو پیپ کا پانی پلایا جائے گا، جب وہ پانی منہ کے قریب آئے گا تو وہ اس کو بہت ناگوار معلوم ہوگا اور جب اور قریب ہو گاتو اس سے چہرہ بُھن جائے گا اور سر تک کی کھال جل کر گر پڑ ے گی، جب وہ پانی پئے گا تو اس کی آنتیں  کٹ کر نکل جائیں  گی۔ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے

’’وَ سُقُوْا مَآءً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَآءَهُمْ‘‘(سورۃ محمد:۱۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور انہیں  کھولتا پانی پلایا جائے گا تووہ ان کی آنتوں  کے ٹکڑے ٹکڑے کردے گا؟

            اور ارشاد فرمایا

’’وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَؕ-بِئْسَ الشَّرَابُؕ-وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا‘‘ (الکہف۲۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور اگروہ پانی کے لیے فریاد کریں  تو ان کی فریاد اس پانی سے پوری کی جائے گی جو پگھلائے ہوئے تانبے کی طرح ہوگا جو ان کے منہ کوبھون دے گا۔ کیا ہی برا پینا ہے ۔ اور دوزخ کیا ہی بری ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ (ترمذی، کتاب صفۃ جہنّم، باب ما جاء فی صفۃ شراب اہل النار، ۴ / ۲۶۲، الحدیث: ۲۵۹۲)

اہلِ جنت اور اہلِ جہنم کو کبھی موت نہ آئے گی:

            اس آیت سے معلوم ہوا کہ جہنم میں  شدید ترین عذابات میں  مبتلا ہونے کے باوجود جہنمیوں  کو موت نہیں  آئے گی، موت سے متعلق حضرت عبداللّٰہبن عمر  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے، نبیٔ  کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’جب جنتی جنت میں  اور جہنمی جہنم میں  چلے جائیں  گے تو موت کو لایا جائے گا یہاں  تک کہ اسے جنت اور جہنم کے درمیان رکھ دیا جائے گا، پھر اسے ذبح کر دیا جائے گا، اس کے بعد ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ اے اہلِ جنت! تمہیں  موت نہیں  اور اے اہلِ جہنم ! تمہیں  موت نہیں  ۔ چنانچہ اہلِ جنت کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہے گا اور اہلِ جہنم کے غم کا کوئی اندازہ نہ کر سکے گا۔ (بخاری، کتاب الرقاق، باب صفۃ الجنّۃ والنار، ۴ / ۲۶۰، الحدیث: ۶۵۴۸) ’’ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَمِنْ غَضَبِ الْجَبَّارِ‘‘ یعنی ہم جہنم کے عذاب اور غضبِ جبار سے اللّٰہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں ۔

مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ كَرَ مَادِ ﹰ اشْتَدَّتْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍؕ-لَا یَقْدِرُوْنَ مِمَّا كَسَبُوْا عَلٰى شَیْءٍؕ-ذٰلِكَ هُوَالضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ(۱۸)

ترجمۂ کنزالایمان: اپنے رب سے منکروں  کا حال ایسا ہے کہ ان کے کام ہیں  جیسے راکھ کہ اس پر ہوا کا سخت جھونکا آیا آندھی کے دن میں  ساری کمائی میں  سے کچھ ہاتھ نہ لگا یہی ہے دور کی گمراہی۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اپنے رب کا انکار کرنے والوں  کے اعمال راکھ کی طرح ہوں  گے جس پر آندھی کے دن میں  تیز طوفان آجائے تو وہ اپنی کمائیوں  میں  سے کسی شے پر بھی قادر نہ رہے۔ یہی دور کی گمراہی ہے۔

{مَثَلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ اَعْمَالُهُمْ:اپنے رب کا انکار کرنے والوں  کے اعمال کا حال۔} اس سے پہلی آیت میں  اللّٰہ تعالیٰ نے آخرت میں  کفار کے مختلف عذابات کا ذکر فرمایا اور اس آیت میں یہ ارشاد فرمایا ہے کہ کافروں  کے تمام اعمال ضائع ہو گئے اور وہ آخرت میں  کوئی نفع حاصل نہ کر سکیں  گے اور ا س وقت ان کا نقصان مکمل طور پر ظاہر ہو جائے گا کیونکہ دنیا میں  ا نہوں  نے اپنے گمان میں  جو بھی نیک اعمال کئے ہوں  گے جیسے محتاجوں  کی امداد کرنا،صلہ رحمی کرنا، والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنا، بھوکوں  کو کھانا کھلانا، مسافروں  کی معاونت کرنا اور بیماروں  کی خبر گیری کرنا وغیرہ وہ ایمان نہ ہونے کی وجہ سے آخرت میں  باطل ہو جائیں  گے اور یہی مکمل نقصان ہے۔ اس آیت میں  کفار کے اعمال کی جو مثال بیان کی گئی اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح تیز آندھی راکھ کو اڑا کر لے جاتی ہے اور اُس راکھ کے اجزاء اِس طرح مُنتشِر ہوجاتے ہیں  کہ اس کا کوئی اثر، نشان اور خبر باقی نہیں  رہتی اسی طرح کافروں  کے تمام اعمال کو ان کے کفر نے باطل کر دیا اور ان اعمال کو اس طرح ضائع کر دیا کہ ان کی کوئی خبر اور نشان باقی نہ رہا۔ (تفسیرکبیر، ابراہیم، تحت الآیۃ: ۱۸، ۷ / ۸۰-۸۱، ملخصاً)

کافر کے نیک اعمال آخرت میں  اسے فائدہ نہ دیں  گے:

            اس آیت سے معلوم ہو اکہ آخرت میں  وہی نیک اعمال فائدہ دیں  گے جو ایمان لانے کے بعد کئے گئے ہوں  گے اور جو نیک اعمال حالتِ کفر میں  کئے گئے ہوں  گے اور نیک اعمال کرنے والا حالتِ کفرمیں  ہی مرا ہو گا تو اسے اِن نیک اعمال کا آخرت میں  کوئی فائدہ نہ ہو گا جیساکہ ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن